ایک اور ندوی کا ترجمۂ قرآن ـ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

"آپ کہاں ہیں ؟ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں ـ” 26 ستمبر 2021 کو میرے اورنگ آباد پہنچنے کے بعد شب میں برادر محترم و مکرم ڈاکٹر محمد صدر الحسن ندوی کا فون آیا ـ میں نے عرض کیا : ” آپ نہیں ، میں خود کل صبح آپ سے ملاقات کرنے آپ کے دولت کدہ پر حاضر ہوں گاـ” اس سے پہلے وہ اورنگ آباد میں جماعت کے کئی لوگوں کو فون کرکے ان سے میرا شیڈول معلوم کرچکے تھےـ چوں کہ میرے اورنگ آباد پہنچنے کے تھوری ہی دیر کے بعد مسجد عائشہ میں شہر کے علماء و ائمہ کے ساتھ ایک پروگرام تھا ، جو رات گیارہ بجے تک جاری رہا ، اس لیے ان سے فوراً بات نہ ہوسکی تھی ـ

ڈاکٹر صدر الحسن ندوہ میں مجھ سے سینئر تھےـ میں 1975 میں وہاں پہنچا تو وہ آخری درجات میں تھے ، پھر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ چلے گئےـ وہاں سے واپس آئے تو اورنگ آباد کے مشہور مدرسہ کاشف العلوم سے وابستہ ہوگئےـ کافی عرصہ وہاں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد ایک دوسرے مدرسے انوار العلوم میں تدریسی خدمت انجام دیں ـ آپ نے شعبۂ دینیات (سنّی) ، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے ‘المدائح النبویۃ’ کے عنوان پر پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ہےـ تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف سے بھی شغف رکھتے ہیں ـ آپ کی اردو میں 29 اور عربی میں 13 کتابیں زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں ـ کچھ تراجم بھی ہیں ـ آپ کی تصانیف میں اورنگ زیب اور تدوینِ فتاویٰ عالم گیری ، اجتہاد : اہمیت و ضرورت ، فقہ اسلامی اور مستشرقین ، آئینۂ تاریخ ادب عربی ، اسلام میں عورتوں کے معاشی حقوق ، مختصر علم میراث اور مراٹھی پر عربی کے لسانی اثرات خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں ـ آپ گزشتہ تین دہائیوں سے تفسیرِ قرآن کا حلقہ قائم کیے ہوئے تھےـ پیشۂ تدریس سے فارغ ہونے کے بعد کچھ فرصت ملی تو احباب کے اصرار پر ترجمہ کا کام شروع کیا اور دو برس (جون 2016 تا مئی 2018) میں اسے مکمل کرلیاـ

صبح عزیزی مولانا اختر الاسلام ندوی کے گھر ناشتہ سے فارغ ہوئے تو انہی کی معیّت میں مولانا صدر الحسن کے گھر پہنچےـ انھوں نے پُر تپاک استقبال کیا ، احوال دریافت کیے ، میں نے اصلاحِ معاشرہ کے میدان میں جماعت اسلامی ہند کی سرگرمیوں کا مختصر تعارف کرایا _ اس موقع پر مولانا نے اپنے ترجمۂ قرآن ‘انوار القرآن’ کا ایک نسخہ مرحمت فرمایاـ

ہندوستان میں اردو مترجمینِ قرآن کی ایک کہکشاں ہے _ ان میں خاصی تعداد میں دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے فارغین بھی ہیں ، اگرچہ ان کی خدمات زیادہ نمایاں نہیں ہیں ـ برادر مکرّم ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی نے پروفیسر خلیق احمد نظامی مرکزِ علوم القرآن مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے ایک پروجکٹ کے تحت ‘ ندوی فضلاء کی قرآنی خدمات’ کے نام سے ایک کتاب تیار کی ہےـ اس میں انھوں نے اکتیس (31) فضلائے ندوہ کا تذکرہ کیا ہے ، جنھوں نے تفسیر و علومِ قرآنی میں خدمات انجام دی ہیں _ انھوں نے مکمل قرآن کا ترجمہ کرنے والوں میں مولانا محمد حنیف ندوی ، پروفیسر سید احتشام احمد ندوی ، مولانا حسّان نعمانی ندوی ، مولانا سلمان حسینی ندوی ، مولانا بلال حسنی ندوی اور مولانا سرور فاروقی ندوی (ہندی مترجم قرآن) کا ذکر کیا ہےـ اب اس فہرست میں ڈاکٹر صدر الحسن ندوی کا اضافہ ہوگیا ہےـ

اس ترجمہ پر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ، مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندوی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا غلام محمد وستانوی ، مولانا عبد الأحد ازہری اور مولانا عبد القدیر قاسمی مدنی کے کلماتِ تبریک و تقریظ کے علاوہ عرضِ مترجم بھی ہے ، لیکن قرآن کے احترام میں انہیں آخر میں رکھا گیا ہےـ مترجم کے بہ قول ” آسان و عام فہم الفاظ میں ، زبان اور اس کے بیانی و جمالیاتی اسلوب کے خاص لحاظ کے ساتھ رواں اور مربوط اردو ترجمہ کی کوشش کی گئی ہےـ اسی طرح بعض ترجمہ و مفہوم کی بین القوسین (اگر وضاحت ضروری سمجھی گئی تو) وضاحت کردی گئی ہےـ اسی طرح ایک سے زائد مفہوم پر مشتمل آیتوں میں جمہور علمائے سلف اور جمہور علمائے ہند کے ترجمہ کی متابعت کی گئی ہےـ شاذ ترجمہ و مفہوم سے مکمل اجتناب کیا گیا ہے اور عوام کی ذہنی و فکری سطح کے مطابق قرآن پاک کے لفظی ترجمہ کی رعایت کے ساتھ اس کے مفہوم کی رعایت کا بھی اہتمام کیا گیا ہےـ ترجمہ میں متروک و غیر مانوس اور غیر مستعمل الفاظ و اسلوب سے پہلو تہی کی گئی ہےـ اسی طرح سیاق و سباق کے لحاظ سے ضمائر کے وضاحتی ترجمے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ، تاکہ قارئین کو سمجھنے میں آسانی ہو ، کیوں کہ قرآن پاک میں ضمائر ( واحد ، تثنیہ ، جمع) کا کثرت سے استعمال ہوا ہےـ (ص 938)

ڈاکٹر صدر الحسن ندوی کا یہ ترجمہ ترجمۂ قرآن کے میدان میں ایک اضافہ ہےـ امید ہے ، دینی حلقوں میں اس کی پذیرائی ہوگی ـ اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائے اور اس کے اجر سے نوازے ، آمین ، یا رب العالمین!