ایک اور چراغ بجھ گیا ـ سید سعادت اللہ حسینی

امیر جماعت اسلامی ہند

آج دوپہر ہندوستان کی اسلامی تحریک کا ایک اور روشن چراغ بجھ گیا اور کرونا کی لائی ہوئی تاریکی اور گہری ہوگئی۔ نصرت علی صاحب کو مرحوم لکھتے ہوئے انگلیاں کپکپارہی ہیں۔ لیکن اللہ کی مرضی یہی تھی اور ہم سب اس کی مرضی پر راضی ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کا شاندار استقبال فرمائے۔ ان کی خدمات جلیلہ کا اجر عظیم انہیں عطا فرمائے اور اپنے جوار رحمت میں انہیں جگہ عطا فرمائے۔۔دوپہر سے کئی ملی قائدین نے فون کرکے تعزیت کی اور اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
نصرت علی صاحب مرحوم ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی ساری کشتیاں جلاکر تحریک کے لیے پوری یکسوئی کے ساتھ وقف ہوجاتے ہیں۔۔ مغربی یوپی کے ایک کاشتکار گھرانے سے ان کا تعلق تھا۔ بچپن میں حفظ قرآن کا آغاز کیا اور کئی پارے حفظ کرلیے۔ اس کے بعد عصری علوم کی طرف متوجہ ہوئے اورایم اے کیا۔ کچھ وقت کسی کالج میں لیکچرر رہے ۔ اس کے بعد جماعت کی خدمت کے لیے آگے بڑھے تو پھر پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ حلقہ اور مرکز کی متعدد ذمے داریاں انجام دیں۔۔۔ان کی دلچسپی کے میدان کئی تھے۔ سب سے اہم میدان تو تنظیم تھا۔ تنظیمی امور میں وہ ہمارے ماہر ترین افراد میں سے ایک تھے۔ سکریٹری شعبہ تنظیم اور پھر قیم جماعت کی حیثیت سے انہوں نے تنظیمی محاذ پر گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی دلچسپی کا دوسرا اہم میدان ملی امور اور ملی قیادت تھا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت میں وہ مجالس عاملہ کے رکن تھے۔ اور متعدد ملی فورموں میں جماعت کی نمائندگی کرتے رہے۔ ان کی دلچسپی کا تیسرا میدان تعلیم تھا۔ پہلے ایک استاذ کی حیثیت سے اور پھر فلاح عام سوسائٹی اترپردیش کے سکریٹری کی حیثیت سے، تعلیم و تدریس اور تعلیمی نظم و نسق سے متعلق وسیع اور متنوع تجربات ان کی ذات کے ساتھ وابستہ تھے۔ تعلیم میں جماعت کے کاموں کو آگے بڑھانے اور ترقی دینے کا ایک واضح تصور بھی رکھتے تھے اور جذبہ بھی۔اسی مناسبت سے اس میقات میں ان سے تعلیم کے میدان میں خدمات طلب کی گئی تھیں اور مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیر مین کی حیثیت سے بڑی اہم خدمات انجام بھی دے رہے تھے اور بہت کچھ کرنے کا عزم رکھتے تھے۔
سادگی، سنجیدہ اور مدلل گفتگو، معاملہ فہمی اور پیچیدہ تنظیمی مسائل کو سلجھانے کی صلاحیت، سیاست، ملی امور وغیرہ پر گہری نظر اور ان امور پر نپی تلی صائب رائے دینے کی صلاحیت، نظم و ضبط اور اپنے ذمے دار کی بھرپور اطاعت، محنت و جفاکشی اور اپنے کام کو لگن اور دلجمعی سے کرنے کا جذبہ، یہ مرحوم کی کچھ نمایاں خصوصیات تھیں۔ ان کے وقت کا بڑا حصہ مرکز جماعت ہی میں گذرتا۔ صبح فجر سے کافی پہلے مرکز آجاتے۔ آدھا پون گھنٹہ تیز تیز قدموں سے مرکز کے باہر واکنگ کرتے۔اس کے بعد فجر کے لیے مسجد تشریف لے جاتے۔ نماز فجر کے بعد پھر مرکز آجاتے اورمرکز کے اپنے کمرے میں،غالباً ورزش اور پھر تلاوت کرتے۔ کچھ دیر گھر جاکر پھر نوبجے سے پہلے مرکز آجاتے۔ دوپہر کے وقفے کا بیشتر حصہ بھی مرکزہی میں گذارتے اور رات میں دیر گئے واپس لوٹتے۔ برسوں سے میں ان کا یہی معمول دیکھ رہا ہوں۔ تنظیمی مصروفیات نہ کبھی ان کی ورزش اور واکنگ میں حائل ہوتی اور نہ کبھی مطالعہ میں۔اس نسل کے بزرگوں میں جدید کتابوں اور میڈیا اور علمی دنیا کے جدید ترین رجحانات سے ان سے زیادہ واقف مجھے کوئی اور نظر نہیں آیا۔ اردو کے علاوہ ہندی میں بھی مہارت حاصل تھی۔ انگریزی کتابوں کا بھی مطالعہ کرلیتے۔ ادھر چند سالوں سے عربی زبان سیکھنے کی بھی بڑی کامیاب کوشش کی تھی۔طلب علم کے ذوق اور نت نئی چیزیں جاننے اور سیکھنے کے شوق کے اعتبار سے بھی اپنی نسل کے افراد میں وہ نہایت ممتاز تھے۔۔
ان کی رحلت سے وسیع اور متنوع تجربات، سوجھ بوجھ، معاملہ فہمی اور اصابت رائے کی حامل ایک قیمتی شخصیت سے ہم حروم ہوگئے۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور مرحوم کو کروٹ کروٹ جنٹ نصیب فرمائے۔ آمین