ایک ادیب، ایک عالم اور کامیاب مقرر کی وفات کا سانحہ۔ مولانا بدر الحسن القاسمی

مولانا شاہین جمالی ایک ادیب اور صحافی کی حیثیت سے اس زمانہ میں معروف تھے جب میں دیوبند میں تھا۔ ان کی فراغت ہم لوگوں سے کئی سال پہلے ہوئی تھی، انہوں نے دورۂ حدیث کے بعد مطالعہ علومِ قرآنی کے شعبے میں داخلہ لے کر مولانا احمد رضا خاں کے ترجمۂ قرآن کا تنقیدی مطالعہ کیا تھا، جو کتابی صورت میں شائع شدہ ہے۔ مولانا مفتی ظفیر الدین صاحب کی نگرانی میں اس طرح کے مقالے لکھے جاتے تھے، مولانا محمد رضوان القاسمی اور بعض دوسرے فارغین نے بھی مختلف قرآنی موضوعات پر مقالات لکھے تھے۔ مولانا اخلاق حسین قاسمی کا ایک رسالہ بھی مولانااحمد رضاخاں کے ترجمۂ قرآن کنز الایمان کی غلطیوں کو سمجھنے کے لیے کافی مفید ہے۔
مولانا شاہین جمالی عرصہ تک دیوبند ٹائمز کے ایڈیررہے۔میرٹھ کے مدرسہ امداد الاسلام میں تدریس کاسلسلہ بھی برسوں جاری رہا، یہاں تک کہ وہ وہاں کےشیخ الحدیث بنےاور پھر مہتمم بھی ہوگئے۔ انہوں نے ہندو مذہب کی کتابوں پربھی کافی عبور حاصل کیا تھا اور چترویدی کہلانے لگے تھے ، ان کی تقریریں بیحد مؤثر ہوا کر تی تھیں، چنانچہ ان کی شہرت اور مقبولیت میں برابر اضافہ ہوتا رہا اور وہ ملک کےچند مقبول ترین مقررین میں شمار ہونے لگے اور غیر مسلموں میں بھی ان کی تقریریں پسند کی جاتی تھیں۔
مولاناشاہین جمالی بے حد خوش اخلاق آدمی تھے، وہ اپنے کام سے کام رکھنے کا مزاج رکھتے تھے، ان کی مخالفت شاید کسی سے نہ تھی۔ دارالعلوم دیوبند میں قدرتی طور پر ان کی آمد ورفت تھی گو کہ وہاں سے ان کا ملازمت کا رشتہ نہیں تھا، لیکن مولانا مفتی ظفیر الدین صاحب ، ازہر شاہ قیصر صاحب، مولانا محمد حسین بہاری صاحب، مولانا انظر شاہ کشمیری صاحب اور بہت سی دیگر شخصیات سے ان کے روابط اچھے تھے، جن سے وہ ہمیشہ ملتے رہتے تھے۔ مولانا عثمان صاحب چیرمین کے اخبار کے تو وہ ایڈیٹر ہی تھے۔ مولانا شاھین جمالی ذاتی محنت سے ترقی کرنے اور خودکو بدلتے حالات سے ہم آہنگ کرنے اور گوناگوں صلاحیتوں سے اپنے آپ کو آراستہ کرنے والی مثالی شخصیت تھے۔
چند سال پہلے وہ کویت آئے تو بڑی محبت سے ملے، سالہاسال کے بعد یہ ملاقات ہوئی تھی اور بہت سی پرانی یادیں تازہ ہوئیں۔ اپنی کتاب بھی انہوں نے ازراہِ عنایت دی اور آئندہ کے خاکوں کا بھی ذکر کیا۔ افسوس ہے کہ 2 جون 2021 کو وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے، جس سے بے حد صدمہ ہوا کہ ایک کامیاب اور مثالی آدمی رخصت ہو گیا اور عوام و خواص میں مقبول شخصیت ہم سے جدا ہوگئی ،جو یقینا علمی ودینی حلقے کا زبردست نقصان ہے ان کی موت سے صحافت ادب تدریس اورخطابت کے میدان میں زبردست خلا پیدا ہوگیاہے اور غیر مسلموں پر اثر انداز ہونے والی ایک اہم شخصیت ہم سے جدا ہوگئی ہے ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں فردوس بریں میں جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
ایں دعا از من از جملہ جہاں آمین باد