ایک ادبی نشست کا قصہ ـ حفظ الرحمن

 

شرکا کا تعارف
ابن سلاسل : مختصر سا وجود رکھنے والے حیدر خان کا قلمی نام ابن سلاسل یعنی زنجیروں کا بیٹا ہے۔ قبلہ کا اصل نام اور قلمی نام دونوں ہی ان کی الٹرا مائیکرو اسکوپک شخصیت سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں، لیکن انہیں غرہ ہے کہ جب بھی نثری ادب کی تاریخ رقم کی جائے گی اس میں ان کا نام جلی حروف میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنی ادبی تحریروں کا ایک مجموعہ اس امید پر شائع کیا کہ حکومت اس پر پابندی عائد کرکے کاپیاں ضبط کرلے گی، لیکن حکومت نے ان تحریروں کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ پہلے بڑا سٹپٹائے پھر کہا کہ ان کے نظریات کو سمجھنے سے حکومت بھی قاصر رہی ہے۔ جس دیس میں اقبال سا مرد آزاد جیل خانے کی شوریدہ رات میں دم توڑنے کی بجائے نرم و گداز بستر مرگ پر خدا کو پیارا ہوتا ہے وہاں آزاد نظریات کا یہی حشر ہوتا ہے۔ نہ عوام توجہ دیتے ہیں، نہ حکومت نوٹس لیتی ہے اور گنج ہائے گراں مایہ کی آخری منزل کباڑ کی دکان بن جاتی ہے۔
آنت مرادآبادی : موصوف کا اصل نام پتہ نہیں کیا ہے لیکن ادبی حلقوں میں وہ آنت مرادآبادی کے نام سے معروف ہیں۔ موصوف کا تخلص سامع یا قاری کو چونکنے پر مجبور کردیتا ہے اور آنت اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ تخلص کے بارے میں ان کا استدلال ہے اعضائے رئیسہ و غریبہ میں سے بیشتر کو شعرا و ادبا نے اپنا تخلص بنایا ہے وہیں آنتوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ آنت انسانی نظام انہضام کی ضامن ہے۔ انسان سنگ دل ہو کر زندہ رہ سکتا ہے لیکن سنگ آنت ہوجائے تو اس کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ انسانی وجود میں دل سے نازک چیز آنت ہے اسی کی مناسبت سے انہوں اپنا تخلص آنت مقرر کیا ہے۔ ان کی نثر نازک، مزاج نازک، صحت نازک، کلام نازک اور گالیاں نہایت قوی ہیں۔ ہم عصر ان سے چھیڑ چھاڑ سے گریز کرتے ہوئے جواب جاہلاں باشد خموشی کے لازوال طریق کار پر عمل پیرا ہوتے ہیں وہیں آنت اس گمان میں مبتلا ہیں کہ کوئی ان سے پنگے نہیں لے سکتا۔
مردم بیزار : حساس طبع مردم بیزار کا اصل نام فرید منصور ہے۔ بہت کم لوگوں کے علم میں یہ بات ہے کہ نثر میں طبع آزمائی سے قبل محمد فرید خان مردم شناس کے نام سے شاعری کیا کرتے تھے۔ شاعری کو لوگوں نے پسند نہیں کیا تو قبلہ تبدیل کرتے ہوئے نثر کی سمت رخ کرلیا اور مردم بیزار بن گئے۔ اختلاج قلب کے مریض ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ یہ مرض انہیں بیزاری کے سبب لاحق ہوا ہو۔ علامتی نثر سے شغف رکھتے ہیں اور حتی الامکان کوشش رہتی ہے کہ کھل کر بات کرنے کی بجائے علامات میں مقصود بیان کرجائیں۔ تجریدی مصوری کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھاری قیمت میں ماڈرن آرٹ کا ایک نمونہ حاصل کیا تھا۔ فنکار کے اعزاز میں گھر دعوت رکھی۔ ہم فکر و ہم مزاج افراد کو بھی مدعو کیا۔ سب نے مصوری کے نمونے کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے۔ دوسری جانب مصور خون کے آنسو روتا رہا کہ اس کا فن پارہ دیوار پر الٹا لٹکا ہوا تھا۔
گلدُم آشیانوی : اصل نام فقیر بخش ہے۔ عرصہ دراز تک اپنا نام ‘ایف بی’ لکھتے رہے۔ پھر فیس بک کی آمد ہوئی تو فقیر بخش (ایف بی) نے اپنا نام ترک کرتے ہوئے ‘گلدم آشیانوی’ کا تخلص اختیار کرلیا۔ تخلص کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ جب ان کا جنم ہوا تب ان کی ایک چھوٹی سی دم تھی جس پر پھول بنے ہوئے تھے۔ (دروغ بر گردن گلدم آشیانوی) جوں جوں ان کی عمر بڑھتی گئی وہ دم غائب ہوتی گئی۔ انہیں دعویٰ ہے کہ وہ دنیا کے اکلوتے دُمدار انسان تھے، بعد ازاں یہ اعزاز قدرت نے ان سے چھین لیا۔ مفسدین اس مبینہ دُم کے بارے میں شر انگیز انکشافات کرتے ہیں لیکن گلدم مفسدین کو خاطر میں نہیں لاتے اور اپنی دنیا میں مست رہتے ہیں۔ گلدم کی نثر دیکھیں تو گمان ہوتا ہے کہ وہ قلم سے نہیں بلکہ دم سے تحریر کی گئی ہے جس میں جا بجا پھول بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔

‘انجمن یاران رطب اللسان’ کی بزم بپا تھی۔ ابن سلاسل، گلدم آشیانوی، مردم بیزار اور آنت مرادآبادی بہ نفس نفیس شرکت فرما تھے اور محبان ادب کی بھی خاصی تعداد موجود تھی۔ بزم میں فنکاران اپنی اپنی تخلیق پیش کررہے تھے اور حاضرین اس پر تنقید و تبصرہ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ بیشتر تخلیق سے طویل ان پر کیا جانے والا تبصرہ ہورہا تھا۔ آغاز ابن سلاسل کے افسانے ‘ٹوووں’ سے ہوا تھا جس پر ابن سلاسل نے ڈھیر ساری داد حاصل کی تھی۔ آنت مرادآبادی کے افسانے ‘ہاضمہ’ پر کچھ سامعین نے برا سا منہ بنایا تھا لیکن آنت کی گالم گفتار کے خوف سے کسی نے تنقید کی ہمت نہیں جٹائی اور تعریف میں بھی بخیلی سے کام لیا تھا۔ البتہ گلدم آشیانوی، ابن سلاسل اور مردم بیزار نے آنت کی ندرت خیال کو خوب سراہا تھا۔ ابن سلاسل کے بقول آنت مرادآبادی کے افسانہ ‘ہاضمہ’ سے اٹھتی بدبو درحقیقت سماج سے اٹھتی بدبو ہے جسے تخلیق کار چاہ کر بھی نظر انداز نہیں کرسکتا۔ گلدم آشیانوی کے مختصر افسانہ ‘دُم گم گشتہ’ کی روانی اور ٹیکنیک کی سب نے تعریف کی لیکن لیڈ ابن سلال کے افسانے ‘ٹوووں’ کو ہی حاصل تھی۔ ابن سلاسل کو اب علامتی افسانوں میں شناخت رکھنے والے مردم بیزار کی تخلیق سے ہی خطرہ تھا۔ بصورت دیگر ابن سلاسل نے میدان تقریباً مار لیا تھا۔
ناظم کی دعوت پر مردم بیزار اپنی تخلیق پیش کرنے کیلئے ڈائس پر تشریف لائے۔ قدرے بلند آواز میں کھانسا، پھر نسبتاً کم بلند آواز میں کھانسا، اس کے بعد اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ہال کے ایک کونے سے تالی کی ہلکی سی آواز آئی۔ پھر کسی نے سُر سے سُر ملایا اور آن کی آن میں پورا ہال تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اٹھا۔ اس دوران مردم بیزار سر جھکائے بیٹھے رہے۔ آنت مرادآبادی لپکے، پھولوں کی مالا مردم بیزار کے گلے میں ڈالی اور فرط مسرت سے ان کی پیشانی چوم لی۔ سامعین کا جوش و خروش صاف ظاہر کررہا تھا کہ مردم بیزار کے علامتی افسانہ کے سامنے ابن سلاسل کا افسانہ ‘ٹوووں’ پست پڑ چکا تھا اور ابن سلاسل کو اس کا کوئی افسوس بھی نہیں تھا۔ تالیوں کا شور کم ہوا تو تنقید و تبصرہ کا دور شروع ہوا۔
سب سے پہلے آنت مرادآبادی گویا ہوئے۔
"علامتی افسانے کے میدان میں جداگانہ شناخت رکھنے والے مردم بیزار نے آج غالباً اپنی اب تک کی سب سے بہترین تخلیق ہمارے سامنے پیش کی ہے، میں انہیں اس پر بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مردم بیزار شاید نہیں تسلیم کریں پھر بھی میں اپنی اس رائے میں رتی بھر تبدیلی پر بھی رضا مند نہیں ہوسکتا کہ آج کی تخلیق ان کی شاہکار تخلیق ہے۔ میں عرصہ دراز سے مردم بیزار سے مطالبہ کررہا تھا کہ دل و دماغ پر مبنی فرسودہ نثر کو ترک کرتے ہوئے آنت کو تخلیق کی ‘مین اسٹریم’ میں لانے کی سعی کی جائے۔ میرے مطالبہ کو مانتے ہوئے مردم بیزار نے آج جو تخلیق پیش کی ہے میں اس پر ان کا شکر گزار بھی ہوں۔ تمام حضرات جانتے ہیں کہ افسانے میں علامات کا استعمال اور ان کا کما حقہ برتاؤ مردم بیزار کا خاصہ ہے۔ آج انہوں نے آنتوں کیلئے کھانسی کی علامات کا استعمال نہایت عرق ریزی سے کیا ہے۔ سامعین نے غور کیا ہوگا کہ مردم بیزار کی کھانسی کی آوازوں میں واضح فرق موجود تھا۔ جو قدرے بلند کھانسی تھی وہ بڑی آنت کی نمائندگی کررہی تھی اور نسبتاً کم بلند آواز والی کھانسی میں چھوٹی آنت کی طرف اشارہ پنہاں تھا۔ دونوں کھانسیوں کے بعد مردم بیزار کے چہرے پر نظر آنے والا سکون اس سکون کی عکاسی کررہا تھا جو دونوں آنتوں کے استعمال کے بعد انسان کے چہرے پر نظر آتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ مردم بیزار کی اس تخلیق کو میں ادب میں تجرید کی دستک کے طور پر دیکھ رہا ہوں، اور اس کیلئے میں مردم بیزار کو ایک بار پھر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔” تالیوں کے شور میں آنت مرادآبادی نے ایک بار پھر مردم بیزار کی پیشانی کا بوسہ لیا اور اپنی نشست پر جا بیٹھے۔
اب گلدُم آشیانوی مائک پر تشریف لائے اور عرض کیا۔ "آج مردم بیزار کی تخلیق کے بعد اس ہال میں تالیوں کی جو گڑگڑاہٹ گونجی ہے وہ گڑگڑاہٹ آج سے قبل اس ہال کے درودیوار کو کبھی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ کل کلاں اس ہال کی کوئی دیوار حادثاتی طور پر گرجاتی ہے تو اس کے ذمہ دار مردم بیزار ہوں گے جن کی کامیاب، شاہکار، لازوال اور بے مثال تخلیق کے بعد گونجنے والی تالیوں نے ان دیواروں کی بنیادوں میں تزلزل برپا کردیا ہے۔ مردم بیزار میرے بہت اچھے دوست ہیں اور میں ان سے نہایت محبت و احترام کے ساتھ التماس کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی بھی وہ ایسی شاہکار تخلیق پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو پہلے سے مطلع کردیں تاکہ ان کی تخلیق کیلئے کسی میدان میں نششتوں کا انتظام کیا جاسکے جہاں کسی حادثہ کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی امکان موجود نہ رہ جائے۔ مردم بیزار کی تخلیق پر تبصرہ کی بات کی جائے تو مجھ میں اس کی سکت موجود نہیں ہے۔ یہ میرے نزدیک سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ کبھی شبلی نعمانی نے ابوالکلام آزاد کے تعلق سے کہا تھا کہ وہ (آزاد) گپ بھی ہانک دے تو وحی معلوم ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں مردم بیزار کھانس بھی دیں تو افسانہ ہوجاتا ہے، ایک کامیاب تخلیق کیلئے مردم بیزار کو بہت مبارکباد!” اس بار حاضرین نے تالیاں بجانے میں قدرے احتیاط سے کام لیا۔
اب ابن سلاسل تبصرہ کیلئے اٹھے۔ مختصر قدوقامت کے سبب وہ ڈائس کے پیچھے چھپ سے جاتے ہیں چنانچہ ان کیلئے خصوصی طور پر ڈائس ہٹا دیا گیا۔ ابن سلاسل نے فرمایا :بیشتر تخلیقات ایک وسیع Atmosphere رکھتی ہیں۔ مختلف نظریات اور مختلف زاویوں سے ان تخلیقات سے مختلف معانی کشید کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اقبال کے بعض اشعار اشتراکی فکر رکھنے والے افراد کے ہاں مقبول عام ہے مگر اقبال خود اشتراکیت کے سب سے بڑے ناقد تھے۔
اقبال ہی کا ایک مصرع ہے:
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
یہ مصرع جہاں استفہامیہ ہے وہیں بیانیہ بھی ہے۔ خود اقبال نے اس موضوع پر سکوت اختیار کیا تھا۔ اسی طرح آج پیش کی گئی مردم بیزار کی تخلیق بھی ایک وسیع Atmosphere کی حامل ہے جس سے مختلف زاویوں سے مختلف معنی نکالے جاسکتے ہیں۔ یہ تمہید اس لیے عرض کی گئی کہ خاکسار جناب آنت مرادآبادی سے اختلاف کی جرات کررہا ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں ہے کہ آنت نے مردم بیزار کی تخلیق سے جو مطلب اخذ کیا ہے، وہ غلط ہے۔ آنت مرادآبادی کی رائے کے احترام کے ساتھ عرض ہے کہ ضروری نہیں کہ کوئی شئے ایک سمت سے جیسی نظر آتی ہو، ہر سمت سے ویسی ہی نظر آئے۔ مردم بیزار کی تخلیق کی علامات کا مفہوم آنت مرادآبادی نے آنتیں نکالا ہے جو ان کے زاویہ نگاہ سے بالکل درست ہے۔ البتہ میرا زاویہ نگاہ قدرے مختلف ہے۔ میری دانست میں مردم بیزار نے اپنی کھانسیوں میں فلسفہ جبر و قدر بیان کیا ہے۔ قدیم زمانے سے یہ بحث چلی آرہی ہے کہ انسان مختار ہے یا مجبور۔ اس کے ساتھ ہی مجھے مردم بیزار کی علامات میں اکثریت و اقلیت کا معاملہ میں نظر آتا ہے۔ علامات (کھانسیوں) کا دو مختلف ساؤنڈ افیکٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان زیادہ مجبور اور کم مختار ہے۔ ایک دائرے یعنی دنیا میں انسان کو اختیارات دیے گئے ہیں وہیں اس دائرے کے باہر کے لامحدود رقبہ یعنی کائنات میں انسان مجبور اور حوادث کا غلام ہے۔ اکثریت و اقلیت کے زاویے سے بات کی جائے تو مردم بیزار کی تخلیق میں بلند آواز والی کھانسی اکثریت اور قدرے کم بلند آواز کی کھانسی اقلیت کی نمائندگی کرتی ہے۔ اپنی کامیاب تخلیق میں مردم بیزار نے نہایت باریکی سے ایک ہمت افزا اور امید کا پیغام دیا ہے کہ اکثریت کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوجائے اس کے سامنے ایک اقلیت موجود ہوتی ہے۔ اکثر اکثریت اسی بنیاد پر اکثریت تسلیم کی جاتی ہے کہ اس کے سامنے اقلیت موجود ہوتی ہے۔ اکثریت کتنی ہی مضبوط، طاقتور کیوں نہ ہوجائے اس کے سامنے اقلیت کی شکل میں کمزور ہی سہی لیکن ایک مزاحمت موجود ہوتی ہے، اس نکتہ کو فیض نے بڑی خوبصورتی سے ایک مصرع میں سمو دیا ہے:
کچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے
اس کامیاب، معنی خیز اور ہمہ جہت تخلیق کیلئے میں مردم بیزار کو بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آئندہ اس سے مزید بہتر کی توقع کرتا ہوں۔” اتنا کہہ کر ابن سلاسل نے مائیک مردم بیزار کو تھما دیا کہ وہ سامعین کی آرا پر اپنا نکتہ نظر بیان کرسکیں۔
وہ کہنے لگے: ” بہت معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ میں اپنا افسانہ ‘تابوت’ پیش کرنے کیلئے ڈائس پر آیا، گلا صاف کرنے کیلئے کھانسا ہی تھا کہ میری طبیعت بگڑنے لگی اور میں اپنے حواس درست کرنے کیلئے نشست پر بیٹھ گیا تھا۔ جسے آپ تخلیق سمجھ بیٹھے ہیں وہ کھانسیِ محض کے سوا کچھ بھی نہیں تھی، آپ کی محبتوں کیلئے شکر گزار بھی ہوں اور شرمندہ بھی ہوں۔” اتنا کہتے کہتے مردم بیزار کو احساس ہوا کہ چھ عدد خونخوار آنکھیں انہیں گھور رہی ہیں، اس احساس کے ساتھ ان کی طبیعت دوبارہ بگڑنے لگی تھی۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*