ایغور مسلمان پر ظلم کی داستان ـ مفتی حماد نعمانی قاسمی

چین دنیا کا معاشی اور عسکری کےاعتبار سے بہت طاقتور ملک ہے اور پانچ ان بڑے ملکوں میں شامل ہے جسے اقوام متحدہ میں ایک ظالمانہ طاقت یعنی (ویٹو پاور) حاصل ہے، چین آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سے بڑا ملک ہے،اس ملک کی تاریخ بہت قدیم ہے یہاں سینکڑوں بہادر اور جنگجو پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا میں بھر میں اپنی کامیابی کا پرچم لہرایا،
چین پر جاپان کا قبضہ تھا،1949ء میں چین جاپان کے تسلط سے آزاد ہوا اور کمیونسٹ حکومت وجود میں آئی، اور اب تک وہاں مذہب بیزار حکومت ملک کے نظم و نسق کو سنبھال رہی ہے۔
چین کا ایک مشہور خودمختار علاقہ جسے سنگیانگ یا زنجیانگ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ ایک بڑا علاقہ ہےاس کی آبادی بہت کم ہے اس کی سرحدیں جنوب میں تبت،شمال میں روس،مشرق میں منگولیا اور مغرب میں قزاقستان اور افغانستان سے ملتی ہیں۔ ترکستان کے دو حصے ہیں:مشرقی ترکستان اور مغربی ترکستان، مشرقی ترکستان جیسے سنکیانگ کہا جاتا ہےاور یہاں بسنے والے مسلمانوں کو ایغور کے نام سے جانا جاتا ہے،یہ پہلے خود مختار علاقہ تھا لیکن اس پر چین نے قبضہ کرلیا اور اب تک اس خطے پر قابض ہے
مغربی ترکستان(قزاقستان، تاجکستان وغیرہ) یہ علاقہ روس کے تسلط میں تھا تقریبا تیس سال قبل اس خطے کو آزادی نصیب ہوئی،ان دونوں علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، یہاں اسلام کی روشنی خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پھیلنی شروع ہوگئی تھی، اس وقت چین پر ٹینگ خاندان کی حکومت تھی،یہاں کا بادشاہ بغاوتوں سے تنگ آ چکا تھا اس نے مدد کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خط بھیجا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ کمانڈر بنا کر بھیجا ،مسلمان فوجیوں نے یہاں کے علاقوں میں سورش اور بغاوت کا خاتمہ کیا،بہت سارے مسلمان اسی علاقے میں بس گئے اور انہیں کی برکات و ثمرات اور محنت کے نتیجے میں چین اور سنگیانگ میں اسلام پھیلا ۔
گزشتہ دو تین برسوں سے سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے تعلق سے بڑی تشویشناک خبریں سامنے آرہی ہیں،وہاں مسلمانوں کو ستایا جا رہا ہے، ان لوگوں کو بلا جرم قید کیا جا رہا ہے، ان کے بچوں کو ان سے جدا کرکے ان کے دلوں سے اسلام کی عظمت نکالی جارہی ہے، تقریبا لاکھوں مسلمانوں کو حراستی کیمپ میں رکھا گیا ہے،ان کے ایک ایک عمل کی نگرانی ہو رہی ہے،ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے، ان کی عورتوں کے ساتھ ریپ کیا جا رہا ہے، ان کی عورتوں کو بانجھ پن کی دوائیاں دی جارہی ہیں وہاں کے مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگائی جا رہی ہے قرآن کریم کی تعلیم و تعلم پر پابندی لگ چکی ہے،آذان پر بندش عائد ہے۔
امریکہ اور یورپ کی میڈیا نے وہاں کی خبروں کو کوریج کر کے رپورٹ شائع کی ہیں جو وہاں کے مظلوم مسلمانوں کے دلخراش داستان کو بیان کر رہے ہیں، امریکہ ویورپ نے وہاں کے مظلوم ایغور مسلمانوں کے حق میں کئی دفعہ آواز بلند کیے؛لیکن ان کا یہ آواز اٹھانا مسلمانوں سے محبت یا ہمدردی کے بنا پر نہیں بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے انہوں نے اس موقع کا استعمال کیا ہے ورنہ اگر انہیں مسلمانوں سے ہمدردی ہوتی تو عراق و افغانستان کے مسلمانوں کے خون سے امریکہ و برطانیہ نے ہولی نہیں کھیلی ہوتی، فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگین و سرخ نہیں کیے ہوتے۔
امریکہ و برطانیہ کے اس حمایت کے پیچھے یقینا کوئی سیاسی مقصد کارفرما ہے؛لیکن ان کا یہ رویہ مسلم حکمرانوں سے بہتر ہے،مسلم حکمران مردہ ضمیر ہو چکے ہیں، مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے ،ان کے تمام ہتھیار، جنگی طیارے، ٹینک اور توپیں سب مسلمانوں کے خلاف استعمال ہونے کے لیے ہیں۔
اللہ تعالی ایسے حکمرانوں سے ہمیں چھٹکارا عطا فرمائے اور ہمیں ایسے حکمران نصیب ہوں جو امت مسلمہ کے لیے دل درد مند اور فکرارجمند رکھتے ہوں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)