اے شاہ زادی! ـ حسنین احمد تقی

اے شاہ زادی
میں شاہ ہوتا
تو تیرے ہنسنے پہ سارے زندان توڑ دیتا
تری خوشی پر نجانے کتنے غلام بیڑی سے کھول دیتا

اے شاہ زادی
میں شاہ ہوتا
تو مسخروں کو تیری اداسی کی سخت قیمت چکانا پڑتی

تو بور ہوتی تو تیری خاطر میں سورماؤں کو بندروں کی طرح نچاتا، تماشا ہوتا

مجھے تو ڈر ہے کہ تیرا غصہ نجانے دنیا کو کتنی جنگوں میں جھونک دیتا

جو پانچ دریا بھی گروی رکھ کر
ترا خسارا ادا نہ ہوتا
تو تیرے آنسو کی رائیگانی کے دکھ میں گنگا کو روک دیتا ،اے شاہ زادی
تو دیکھ پاتی کہ سندھو ماتا کی ساری خلقت سے بڑھ کے تیرے یہ آنسو میرے لیے اہم ہیں

اے شاہ زادی !
میں شاہ نہیں ہوں
مگر محبت کے سارے صیغے نبھانا اچھے سے جانتا ہوں
مجھ ایسے پاگل محل کی چوکھٹ پہ بیٹھے رنگین خواب تکتے ہیں
مجھ ایسے پاگل محبتوں کے امین ہوتے ہیں

اے شاہ زادی !
تو جانتی ہے ؟
محل کے خادم مجھے گلی میں گھسیٹتے ہیں
مجھے اجازت نہیں ہے تیرے حسین چہرے کو نظم کرنے کی
سو میری حرکت پہ شاہزادے ، میان باندھے ، غصیل گھوڑے نکالے ، میری تلاش میں ہیں

کہانی اپنی بچی کھچی سانسیں بھر رہی ہے
میں اب بھی گلیوں میں گرتا پڑتا پکارتا ہوں

اے شاہ زادی !
اے شاہ زادی !
اے شاہ زادی !

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*