احمد پٹیل:شخصیت،کانگریسیت اور سیاسی خدمات -مفتی انور خان سرگروہ

جناب احمد پٹیل جہانِ فانی سے کوچ کرچکے ہیں، اللّٰہ انہیں غریقِ رحمت کرے اور مرحوم کی ان خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے، جو انہوں نے قوم و انسانیت کی فلاح وبہبود کی خاطر سرانجام دی ہیں۔
قومی زندگی میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں، جو ہر وقت چرچے میں نہیں رہتے ہیں،مگر وہ یکسوئی اور خاموشی سے سماجی اور سیاسی کاموں میں مصروف رہتے ہیں، اور ان کے کام کو ملک گیر پیمانے پر محسوس کیا جاتا ہے، احمد پٹیل اسی قبیل کے قدآور لیڈر تھے۔
یو پی اے کی سرکار کے دونوں ادوار میں حکومت سازی کے عمل میں ان کا اہم کردار رہا تھا، اور وزارتِ عظمیٰ کےلیے  پرنب مکھرجی کی جگہ منموہن سنگھ کی تجویز میں بھی احمد پٹیل کی دور رس نظر دخیل تھی، بعد کے حالات نے ثابت کردیا کہ اگر پرنب مکھرجی جیسے اندر کے سنگھ پرست کو وزیراعظم بنایا جاتا تو وہ ناگپور کے اشارہ پر کانگریس کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے سے گریز نہ کرتے۔
نرسمہاراؤ کے بعد سیتارام کیسری کی صدارت تک کانگریس پارٹی تباہی کی کگار پر تھی، اس نازک موقع پر احمد پٹیل اور دیگر کانگریسوں نے مل کر سونیا گاندھی کو ملک کی سیاست میں متعارف کرایا اور انہیں سیاستدان بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، اور کانگریس نے ان کی صدارت میں دو مرتبہ سرکار بنائی، خود کانگریس میں جان پڑگئی اور بھارت کی ریاستوں میں مقامی پارٹیوں کو ابھرنے کے مواقع میسر آئے، ورنہ بھاجپا سے پنڈ چھڑانا مشکل ہوگیا تھا۔
احمد پٹیل کانگریس پارٹی کے رکنِ رکین تھے، اس مقام پر وہ اپنی انتھک محنت، پیہم لگن اور اپنے یکسو مزاج کے طفیل جاپہنچے تھے، ان کے دوستوں اور سیاسی دشمنوں میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہےکہ وہ پختہ کار سیاستدان اور خاموش جنگجو ہی نہیں تھے بلکہ بڑے ہی نرم خو، بااخلاق، متحمل مزاج اور اصول و نظریات کے پاسدار لیڈر تھے، اور ان کی مقبولیت میں یہ عنصر بھی شامل تھا کہ وہ ناپ تول کر بولتے تھے اور سامنے والے کو سننے کا جِگرا رکھتے تھے، وہ بےوجہ کی بیان بازی سے بچ رہتے تھے۔
آج سیاسی بازار میں دل بدلی عام ہے، بازار میں سیاستدانوں کی بولیاں لگ رہی ہیں، بھاجپا نے سیاسی جانوروں کی خریدوفروخت کی منڈیاں سجا رکھی ہیں، ایسی گھٹیا سیاست کے دور میں احمد پٹیل کی شخصیت بےداغ اور ممتاز دکھائی دیتی ہے، یوں ان کا سیاسی قد ولبھ بھائی پٹیل کی مورتی سے کہیں بڑھ کر بلند ہے، جہاں سودےبازوں کے اندر انہیں آفر دینے کی ہمت دم توڑ دیتی ہے، اِن معنوں میں وہ نواز دیوبندی کے نفیس شعر پر پورا اترتے ہیں:
اگر بِکنےپہ آجاؤ تو گھٹ جاتےہیں دام اکثر
نہ بِکنے کا ارادہ ہو تو قیمت اور بڑھتی ہے
نہ ان کے سیاسی افکار بازار میں "بِکتے” دکھائی دئے اور نہ ہی وہ میڈیا میں اول فول "بَکتے” نظر آئے ہیں۔
ان کی افادیت کو اندرا گاندھی سے راجیو گاندھی تک سب نے محسوس کیا اور انہیں دہلی میں مدعو کیا گیا، لیکن وہ مرکز کی لائم لائٹ سے دور رہ کر گجرات میں پارٹی کا کام کرنے کو ترجیح دے رہے تھے۔
وہ بھڑوچ سے لوک سبھا کا الیکشن جیتتے تھے، لیکن جب سے سنگھیوں نے گجرات کو فرقہ پرستی کا اکھاڑہ اور عصبیت کا اڈہ بنایا ہے، اس کے منفی پروپیگنڈے کے اثر سے وہ لوک سبھا الیکشن ہارنے لگے، بعدازاں وہ راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوتے رہے، اور کانگریس کے چانکیہ بن گئے۔
بھاجپا نے احمد پٹیل کو راجیہ سبھا سے بےدخل کرنے کی خاطر بہت بڑا سیاسی کھیل کھیلا، نریندر مودی اور امیت شاہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ راجیہ سبھا میں نہ پہنچنے پائیں، لیکن احمد پٹیل نے بھاجپا کی چال کو ناکام بنایا، اور شطرنج کی بساط دونوں کو شہ مات دے دی، بنیے ان کے دھوبی پچھاڑ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

احمد پٹیل اس نسل سے تعلق رکھتے تھے، جب کانگریس کا طوطی بولتا تھا، اور لوگ کانگریس یا کسی دوسری پارٹی سے وابستگی اور وفاداری کو ایمان کا درجہ دیتے تھے، جارج فرنانڈیز جیسا مکاّر اور بےایمان لیڈر بھی سوشلسٹ بنا ہوا تھا، نرسمہاراؤ جیسا بےکردار فاشسٹ بھی کانگریس کا جمہوری لبادہ اوڑھے ہوئے تھا۔
اس دور میں مسلمانوں کا جمہوری نظام میں پختہ یقین تھا، بایں طور کہ چاہے انہیں اپنے مسلک کے امام کا نام یاد نہ ہو، مگر پارٹی لیڈر کی کتھا ازبر تھی، بھارت کے لوگ کانگریسی، مارکسی، سماجوادی اور جن سنگھی خانوں میں بٹے ہوئے تھے۔
غرض کہ احمد پٹیل کی بےپناہ صلاحیتوں کو دیکھ کر یہ خیال آتا ہےکہ اگر قوم سے غلام محمود بنات والا، اسدالدین اویسی اور احمد پٹیل جیسے بااثر افراد ایک پیج پر آنے لگیں، تو انہیں کسی پارٹی کی بیساکھی کی ضرورت نہیں رہےگی، اور ہر دور میں منتخب سیاستدانوں کا ایسا مجمع قوم اور ملک کے حق میں سودمند ثابت ہوسکتا ہے، یا یہ کہ ہمارے طالع آزما لیڈران اور جوانان پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی منظم سیاست کا حصہ بن کر آگے بڑھیں، بہرحال اپنے سے جوڑیں یا خود کسی منظم تنظیم سے جڑجائیں، اب نقلی جمہوری پارٹیوں میں عمریں کھپانے سے فرد اور ملّت کا کام نہیں چلنے والا ہے، مسلمانوں کے تشکیل کردہ محاذ میں پچھڑوں، دلتوں اور اقلیتوں کو مدعو کیا جاسکتا ہے، تب مسلمانوں اور ہموطنوں کے شاندار مستقبل کے لیے کیا مانع ہوسکتا ہے؟
خصوصاً اس لیے بھی کہ آج ہر پارٹی کے کلیدی عہدوں پر بااثر سنگھی بیٹھے ہوئے ہیں اور کسی گِدھ کیطرح اس پارٹی کی بنیادی قدروں کو نوچ نوچ کر کھارہے ہیں۔
آج کی جمہوری پارٹیوں کے اندر اخلاقی خطوط پر ملک کو چلانے کی صلاحیت باقی نہیں رہی ہے، اور انہیں سنگھ پریوار اپنے پیادوں کی طرح استعمال کررہا ہے، ایسے میں یہ واجبی سوال اٹھتا ہےکہ نام نہاد جمہوریت کو تنہا مسلمان ہی کاہے کندھا دےگا؟
اور کیوں مسلمان ہی سورما چنا بن کر بھاڑ کو توڑنے کی کوشش کرےگا؟

سیاسی اختلاف کے ساتھ احمد پٹیل کے تذکرہ سے یہ اطمینان ضرور ہوتا ہےکہ مسلمانوں کے اندر ابھی قحط الرجال نہیں آیا ہے، اور قوم میں ایک سے بڑھ کر ایک لیڈر موجود ہے، صرف ماچس کی تیلی سلگانے کی ضرورت ہے، اور پھر محرومیوں کے شکار طبقات کو آگ کا الاؤ تیار کرنے اور اس کے اندر مظالم کو نذرِ آتش کرنے سے روک پانا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
احمد پٹیل سے ان کے مشاہدات اور تجربات میں آنے والے واقعات پر کتاب لکھنے کی فرمائش ہوئی، تو ایک پارٹی کے کارکن کی حیثیت سے ان کا ٹکا سا جواب یہ تھا کہ کئی ایک راز ہیں جو میرے ساتھ قبر میں دفن ہوجائیں گے۔
مرحوم کی سیاسی زندگی پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں، تو کئی اوصاف ایک شخصیت میں یکجا دکھائی دیتے ہیں، ان کی طبعی شرافت، پارٹی ہائی کمان کی مکمل اطاعت، پارٹی کے منشور کے آگے جذبہ فنائیت، اجتماعی کاز میں آخری درجے کی رازداری، برے وقتوں میں خود سنبھلنا اور پارٹی کا ستون بن کر کھڑا رہنا، پرانے اور نئے کانگریسیوں کے مابین فہمائشی پل کا کام کرنا، اور اپنی ذات سے بلند ہوکر پارٹی کی اجتماعیت کو نقطۂ ارتکاز بناکر زندگی گزار دینا، یہ سب کے سب ایمانی محاسن و اوصاف ہیں، جو کسی باصفا مسلم سیاستدان میں ہونے چاہئیں، وہ احمد پٹیل کی شخصیت میں یکجا ہوگئے تھے، یہ اور بات ہےکہ ان کی صلاحیتیں ایسی پارٹی کی نذر ہوگئیں، جس کی کیتلی میں چھید ہے اور اس کی چائے ٹھنڈی ہوچکی ہے.
اُس کے باوجود ذاتی زندگی میں ان صفات کا پایا جانا ہر اعتبار سے لائق تعریف ہے، اور یہ آدمی کا قیمتی اثاثہ ہے۔
یہ ان کی دور رس نظر تھی کہ انہوں نے سیاست میں قدم جمانے کے لیے "اَھْوَنُ الْبَلِیّتَیْن” کے بطور کانگریس کا انتخاب کیا، زمینی سیاست میں پارٹی کے تقاضوں کو پورا کیا، اور حتی الامکان ملک کے جمہوری ڈھانچے کو سنبھالا دینے کی کوشش کی، یہ سب ایسے محاسن ہیں جن سے مسلمانوں کے بشمول سب کو فائدہ پہنچا ہے، کیونکہ موجودہ سیاسی ڈھانچے کا راست مقابلہ آریائی فاشزم سے ہے۔

اپنی افادیت اور فعالیت کے سبب وہ فرقہ پرستوں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھتے تھے، اور یہ چُبھن بھی سنہری صفات میں اضافہ مانا جائےگا، کیونکہ آجکل سنگھیوں کو سیاسی مخالفین پر غصہ نہیں آتا ہے، بلکہ پیار امڈ آتا ہے، وجہ یہ ہوتی ہے کہ اکثر سیاستدان ایکدوسرے کے ساتھ گھوٹالے میں شریک ہیں یا تجارت میں پارٹنر ہیں، مدھیہ پردیش کے ویاپم گھوٹالے سے تازہ ترین کشمیری اراضی کے گھوٹالے تک تمام بدعنوان سیاستدان ایک پُرپیچ پیج پر کھڑے ہیں۔
دعا ہےکہ احمد پٹیل جیسے بےشمار خدمت گزار ملک و ملت میں پیدا ہوں، اور وہ کسی نئی سیاسی قوت کے علمبردار ہوجائیں اور کسی طاقتور پریشر گروپ بانی مبانی ثابت ہوں۔
ہماری قوم کا المیہ ہے کہ وہ کسی نافع کی موت کے بعد بھی کلماتِ تشکر پیش نہیں کرتی ہے، قوم کے نزدیک کسی کے حق میں شکریے کے جلسے کے لیے مخصوص وضع قطع کا ہونا ضروری ہے، ورنہ دھرم سنکٹ میں پڑجائےگا، افسوس کہ پسِ مرگ ان شخصیات کےلئے بھی جلسہ یا شکریہ نہیں ہوتا، جن کے سیاسی اثرورسوخ سے اداروں کے کام بنتے ہیں، یا مصائب و آلام کے وقت جو ڈھال بنتے ہیں،حالانکہ وہ کئی وجوہ سے کلماتِ تشکر پیش کیے جانے کے اہل ہوتے ہیں، بات کڑوی ہے مگر یہ سب اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
"جو مخلوق کو شکریہ نہ کہہ سکے وہ کماحقہ خالق کی شکرگزاری کیسے کرےگا”۔