احمد پٹیل:گاندھی خاندان کے بعد کانگریس کا سب سے طاقت ور شخص- رشید قدوائی

احمد پٹیل کو ہمیشہ کانگریس میں تنظیمی آدمی سمجھا جاتا تھا۔ وہ سب سے پہلے اس وقت منظرعام پر آئے جب راجیو گاندھی نے آسکر فرنانڈیزاور ارون سنگھ کے ساتھ 1985 میں انھیں اپنا پارلیمانی سکریٹری بنایا ، تب ان تینوں کو غیر رسمی گفتگو میں ‘امر اکبر-انتھونی’ گینگ کہا جاتا تھا۔احمد پٹیل کے دوست ، مخالفین اور ساتھی انھیں احمد بھائی کہتے رہے؛ لیکن انھوں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اقتدار و اشتہار بازی سے دور رکھا ۔ سونیا گاندھی ، منموہن سنگھ اور ممکنہ طور پر پرنب مکھرجی کے بعد احمد پٹیل یوپی اے کے 2004 سے لے کر 2014 کے دورانِ حکومت میں سب سے طاقتور رہنما تھے۔اس کے باوجود اس مدت میں وہ وزیر کی حیثیت سے مرکزی حکومت میں شامل نہیں ہوئے۔2014 کے بعد سے جیسے ہی کانگریس تاش کے پتوں کی طرح بکھرنا شروع ہوئی ، تب بھی احمد پٹیل مضبوطی سے کھڑے رہے اور مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اورکانگریس کی سخت مخالف شیوسینا کو بھی ساتھ لانے میں کامیاب رہے۔اس کے بعد جب سچن پائلٹ نے راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت سے بغاوت کی ، تب بھی احمد پٹیل ہی نے لگ کر ان کے اختلافات کو دور کیا۔ تمام سیاسی تجزیہ کار یہ کہہ رہے تھے کہ پائلٹ جیوتی رادتیہ سندھیا کی طرح بی جے پی میں جائیں گے ، تب احمد پٹیل پردے کے پیچھے سے کام کررہے تھے ، انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ سچن پائلٹ کانگریس میں ہی رہیں۔
پردے کے پیچھے کی ایکٹویٹی:
احمد پٹیل سے متعلق ایسی بہت ساری کہانیاں ہیں اور یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ سنہ 2014 کے بعد ، گاندھی کنبہ کے مقابلے میں پارٹی کارکنوں کے مابین ہم آہنگی برقرار رکھنے میں احمد پٹیل کے اثر و رسوخ نے زیادہ کام کیا؛لیکن ہر آدمی کی اپنی کوتاہیاں یا یہ کہیں کہ حدبندیاں ہوتی ہیں۔احمد پٹیل ہمیشہ چوکس رہے اور کسی بھی معاملےمیں فیصلہ کن موقف اختیار کرنے سے گریز کرتے رہے۔ جب 2004 میں یو پی اے کی حکومت بنی تو کپل سبل اور پی چدمبرم جیسے کانگریس قائدین کا گروپ 2002 کے گجرات فسادات میں اس وقت کے وزیر اعلی گجرات نریندر مودی اور موجودہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مبینہ کردار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنا چاہتا تھا؛لیکن احمد پٹیل اس بارے میں تذبذب کا شکار تھے ، ان کے مخمصے اور ہچکچاہٹ کو سونیا گاندھی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے محسوس کیا تھا اور ان دونوں کو احمد پٹیل کی سیاسی سوجھ بوجھ پر اعتماد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ احمد پٹیل کے مشورے پر دونوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف سست اور محتاط ردِعمل کا سہارا لیا۔ اسی کے ساتھ احمد پٹیل ہمیشہ بیرونی دنیا کے لئے ایک پہیلی بنے رہے؛ لیکن جو لوگ کانگریس کے کلچر کو سمجھتے ہیں ان کی نظر میں وہ ہمیشہ ایک سرمایہ رہے۔ وہ ہمیشہ محتاط نظر آتے؛ لیکن تھے بہت ملنسار اور بااخلاق ۔ ان کی شبیہ بھی نسبتا صاف ستھری تھی۔
پارٹی کے خزانچی کی حیثیت سے…
شاید راہل گاندھی احمد پٹیل کو ایک ایسے شخص کی حیثیت سے دیکھتے رہے،جو کم سے کم نریندر مودی اور امیت شاہ کی حکمت عملی کو سمجھنے کے قابل ہوں۔اب یہ کوئی راز نہیں ہے کہ احمد پٹیل کو کانگریس نے پانچویں بار اگست 2017 میں راجیہ سبھا میں بھیجا تھا (یہ اپنے آپ میں انوکھا تھا ؛ کیونکہ کانگریس نے اس سے پہلے کسی بھی نیتا کو پانچ بار راجیہ سبھا نہیں بھیجا تھا)مگر وہ خود اس کے زیادہ خواہش مند نہیں تھے؛ لیکن کہا جاتا ہے کہ اس وقت کی پارٹی سربراہ سونیا گاندھی نے اس کے لیے انھیں راضی کیا اور کہا کہ وہ واحد شخص ہیں جو امیت شاہ اور پوری بی جے پی سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ پارٹی کے خزانچی کی حیثیت سے ان کی ذمے داری نہ صرف پارٹی کے لئے فنڈ اکٹھا کرنا تھی؛ بلکہ مختلف اسمبلی انتخابات اور 2019 کے عام انتخابات کے دوران پارٹی کارکنوں کو متحد رکھنے کی بھی ذمے داری تھی۔ جب راہل گاندھی کی قسمت ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی ،ایسے میں پارٹی کارکنان کو ساتھ رکھنا اور انھیں مدد فراہم کرنے کا ذمہ بھی انہی کے سرتھا۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ احمد پٹیل ہندوستان کی تمام ریاستوں میں کانگریس کے بیشتر کارکنوں اور عوامی نمائندوں کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ وہ پوری سمجھداری اور رازداری کے ساتھ ایک گھنٹے کے اندرہر قسم کے وسائل (رقم ، بھیڑ ، نجی جیٹ طیاروں اور دیگر تمام رسدوں ) کی فراہمی میں ماہر تھے۔
کاروباری گھرانوں تک احمد پٹیل کی رسائی:
اتناہی نہیں، احمد پٹیل راہل گاندھی اور ممکنہ شراکت دار ممتا بنرجی، مایاوتی اور چندرابابو نائیڈو کے درمیان بھی رابطے کی ایک اہم کڑی تھے۔ان کے علاوہ غیر این ڈی اے اور غیر یو پی اے علاقائی پارٹیوں میں بھی ان کی پہنچ تھا۔ کانگریس کے حلقوں میں احمد پٹیل کی بیوروکریسی ، میڈیا اور کاروباری گھرانوں تک رسائی کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔اس حلقے میں کہا جاتا ہے کہ لو پروفائل رہنے والے کانگریس کے اس سینئر لیڈر کے احسانوں تلے دبے لوگ سماج کے تمام طبقات میں موجود ہیں ، بہت سے لوگ ان کے احسانات کا بدلہ چکانے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے؛لیکن احمد پٹیل نے ان میں سے بیشتر کو شاید ہی استعمال کیا ہو۔ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں احمد پٹیل کی 23 مدر ٹریسا مارگ کی رہائش گاہ 10 جنپتھ (سونیا گاندھی کی رہائش گاہ) ، 12 تغلق کریسنٹ (راہل گاندھی کی رہائش گاہ) اور 15 گردوارہ رکاب گنج مارگ (کانگریس وار روم) جیسا ہی پاور سینٹر تھی۔ ان کے گھر میں کئی راستوں سے داخل ہوا جاسکتا ہے اور نکلا جاسکتا ہے۔ گھر میں بہت سے کمرے ، چیمبرس اور بہت سارے لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام ہے ، جہاں لوکل باڈی کے انتخابات سے لے کر پارلیمانی انتخابات ، پارٹی کے ریاستی عہدے داروں اور کانگریس کے وزرائے اعلی تک کے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوتا رہا ہے۔
سیاسی دور اندیشی:
تاہم احمد پٹیل کا سیاسی سفر اتنا آسان نہیں تھا جتنا آج لگتا ہے۔1985 میں نوجوان اور پرجوش راجیو گاندھی بیوروکریسی کے طوق کو توڑنا چاہتے تھے (اسے وزیر اعظم کا دفتر پڑھا جاسکتا ہے) ، لیکن احمد پٹیل ، ارون سنگھ اور آسکر فرنانڈیز کو لے کر کیا جانے والا ان کا تجربہ ناکام ہوگیا تھا؛کیونکہ ان تینوں کے پاس نہ تو انتظامی تجربہ تھا اور نہ ہی آئی اے ایس کی مضبوط لابی پر قابو پانے کے لیے مطلوبہ سیاسی ذہانت؛لیکن احمد پٹیل 1991 میں راجیو گاندھی کی موت کے بعد بھی اہم کردار ادا کرتے رہے۔ راجیو گاندھی کے بعد پی وی نرسمہا راؤ نے احمد پٹیل کو اپنے اور 10 جن پتھ کے درمیان پل کے طور پر استعمال کیا۔اس عمل کے دوران احمد پٹیل نے سونیا گاندھی کا اعتماد حاصل کرلیا۔ جب سیتارام کیسری نرسمہا راؤ کی جگہ کانگریس صدر بنے، تو احمد پٹیل خزانچی ہوگئے۔ پھر شرد پوار نے کانگریس صدر کے عہدے کی دوڑ میں سیتارام کیسری کو چیلنج کیا۔ وہ کیسری کے آس پاس موجود تین میاں اور ایک میرا (تین میاں یعنی احمد پٹیل ، غلام نبی آزاد ، طارق انور اور ایک میرا یعنی میرا کمار)پر تنقید کیا کرتے تھے۔ مارچ 1998 میں سونیا گاندھی کانگریس کی صدر بن گئیں۔ تب پٹیل کی ان کے ذاتی سکریٹری ونسنٹ جارج کے ساتھ نہیں بنی۔ جلدبازی میں پٹیل نے استعفیٰ دے دیا۔
راہل کی پہلی پسند نہیں تھے:
احمد بغیر کسی ذمے داری کے ایک طرح سے کچھ دنوں کے لیے منظرنامے سے غائب رہے؛ لیکن یہ سونیا گاندھی ہی تھیں جنھوں نے انھیں باہر نکالا ، ایک طرح سے یہ ونسنٹ جارج کا دبدبہ کم ہونے کی علامت تھی۔اس دوران احمد پٹیل کو موتی لال وورا اور مادھو راؤ سندھیا کی حمایت حاصل ہوگئی اور ان دونوں نے ان کی 10 جن پتھ تک واپسی میں مدد کی۔ احمد پٹیل اس کے لئے ہمیشہ موتی لال وورا کے مشکور رہے۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ جب دسمبر 2017 میں سونیا گاندھی نے پارٹی کی کمان راہل گاندھی کو تھمانا شروع کی تو احمد پٹیل راہل کی پہلی پسند نہیں تھے۔ایک بار راہل گاندھی طویل عرصے کے لیے رخصت پر چلے گئے، تو کانگریس کے اندر یہ بحث تیز ہوگئی کہ نوجوان راہل بوڑھے لوگوں کو باہر نکالنا چاہتے ہیں۔اس میں کچھ حقیقت بھی تھی؛ کیونکہ راہل گاندھی کی زیرقیادت کانگریس میں پارٹی کے اہم چہرے جناردن دویدی کو جگہ نہیں ملی تھی؛لیکن کسی طرح احمد پٹیل اور موتی لال ووراواپسی میں کامیاب رہے۔احمد پٹیل اور موتی لال وورا کو پارٹی کی قیادت میں برقرار رکھنے کی کچھ وجوہات ہوں گی ؛ لیکن پچھلی تین دہائیوں میں ہندوستان کی قدیم ترین پارٹی کا بوجھ احمد پٹیل ، غلام نبی آزاد اور کچھ اہم عہدوں پر موجود پرانے رہنماؤں کے کندھوں پر ہی رہا۔
پارٹی ہائی کمان کا اعتماد:
پارٹی کے اندر نسل در نسل تبدیلی کی بات احمد پٹیل کے سامنے پروان نہیں چڑھی۔ کانگریس کے بہت سے رہنماؤں کا خیال تھا کہ احمد اور وورا کو پارٹی سے سبک دوش کردیا جائے گا اور ان کی جگہ کنیشک سنگھ ، ملند دیوڑا یا پھر نئی نسل کا کوئی نیتا لے گا،جو پارٹی کے مالی معاملات سنبھالے گا؛ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔اگست 2018 میں احمد پٹیل کانگریس کے خزانچی کے عہدے پر لوٹے۔ یہ ایک طرح سے احمد پٹیل کی اہمیت ثابت کرتا تھا ۔ تنظیم پر ان کے اثر و رسوخ کے پیش نظرہی شاید راہل گاندھی نے پارٹی میں اصلاح یا نیا تجربہ کرنے کے بجاے وفاداری کے احترام کا ذہن بنایا ہوگا اور صورت حال کوجوں کی توں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔ روایتی طور پر کانگریس ہیڈ کوارٹر میں خزانچی کے عہدے کو سب سے زیادہ مقبول اور محترم سمجھا جاتا ہے۔اوما شنکر دکشت، اتولیہ گھوش ، پرنب مکھرجی ، پی سی سیٹھی ، سیتارام کیسری اور موتی لال وورا جیسے لوگوں کو پارٹی ہائی کمان کا اعتماد اس لیے بھی حاصل رہا کہ انھیں یہ جانکاری ہوتی تھی کہ پارٹی فنڈ میں پیسے کہاں سے آرہے ہیں اور کہاں جارہے ہیں۔ ایسے میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہےکہ موجودہ دور میں سونیا گاندھی ، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے بعد کانگریس کے سب سے معزز شخص پارٹی کے خزانچی کی حیثیت سے احمد پٹیل ہی تھے۔
ترجمہ :نایاب حسن
(بشکریہ بی بی سی ہندی)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*