احمد امین کی "حیاتی”-نجم الہدیٰ ثانی

قسط (1)

لاک ڈاؤن میں پڑھی گئی ایک خودنوشت سوانح پر تاثراتی تحریر

ہوش سنبھالتے ہی مولانامودودیؒ کی تحریروں نے ‘شخصیت پرستی’ کے مرض سے خبردار کردیا تھا۔ پھر پتا نہیں کب ہمارے کچے منفعل ذہن نے سوانحی ادب کو بھی’شخصیت پرستی’ میں شامل کرلیا-ظاہر ہے اس کی ذمہ داری مولانا محترم کی تحریروں پرعائد نہیں ہوتی۔
چند برسوں بعد جب کارلائل تک پہنچے تو تاریخ اورعظیم شخصیات کے متعلق اس کی قیمتی رائے جان کرافسوس بھی ہوا کہ یہ برطانیہ جیسی ترقی یافتہ ملک میں پیدا ہوکر بھی ایسی رجعت پسندانہ سوچ رکھتا ہے اوراپنے مولانا کےپختہ تاریخی شعورپرفخرہوا۔
مزید چند برس وقت کی تھال میں گرگئے اوردہلی کی ایک دوپہرایک برطانوی نژاد عہدِ وسطیٰ کے ہندوستان کے مؤرخ کو یہ شکایت کرتے ہوئے سنا کہ ہندوستان میں بادشاہوں کا سوانحی ادب بہت غریب ہے۔ اس بار ترقی یافتہ ملک کے اس مؤرخ کی بات سن کر ہم اپنےمولانا پر فخرنہیں کرسکے۔ شاید ان کی تحریروں کا سحرٹوٹ رہا تھا۔ شاید ہمارا ذہن اپنے پاؤں پرکھڑا ہورہا تھا۔ شاید کچھ بدل رہا تھا۔ شاید بہت کچھ بدل چکا تھا۔
ہاں، مگرحق بات تویہ ہے کہ اس تبدیلی کی تہہ میں مولانا کی ان تحریروں کابھی حصہ تھا جو شخصیت پرستی کے خلاف لکھی گئی ہیں۔ یعنی جہاں سے درد ملا تھا وہیں دوا بھی موجود تھی۔ اس لئے اس دوپہر تو ہم اپنے مولانا پرفخر نہیں کرسکے لیکن برسوں بعد جب ذہن کو اپنے پختہ ہونے کا گمان ہوا تو معلوم ہوا کہ مولانانے ہمیں کب اپنی تحریروں کے سحر میں گرفتارہونے کےلئے کہا تھا؟ وہ تو شخصیت پرستی، جس میں ان کی شخصیت بھی شامل تھی، کی نفی کررہے تھے’ شخصیت شناسی کی نہیں اور شخصیت شناسی کے لئے شخصیت کے احوال و ظروف سے واقف ہونا ضروری ہے۔
یہاں ایک اور نکتے کی طرف اشارہ بھی ضروری ہے۔علمی دنیا میں تاریخ کو عظیم شخصیات کی سوانح سمجھنے کا رجحان گواب متروک ہو چکا ہے مگراس کی جزئی صداقت شاید ہردورمیں مسلم رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تاریخ کا تانا بانا واقعات سے تیار ہوتا ہے اورواقعات کوظہورمیں آنے کے لئے گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان درکارہوتے ہیں۔ اگرہم تاریخ میں چلتے پھرتے انسانوں اور مادی عوامل کے بیچ کوئی شاہراہِ اعتدال تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ہم شخصیت پرستی کے مہلک مرض سے محفوظ رہ کر شخصیت شناسی کی منزل پرپہنچنے کی امید کرسکتے ہیں۔ شخصیت شناسی دراصل دوانتہاؤں کے بیچ وہ نقطۂ اعتدال ہے جہاں سے ہم کسی شخصیت کو اس کے عہد، اس کے مسائل اوراسے میسر وسائل کے چوکھٹے میں صحیح طورسے سمجھ سکتے ہیں۔
چارسو سے زائد الفاظ خرچ ہوچکے ہیں مگراحمد امین اوران کی سوانح’ حیاتی’ کاابھی تک کوئی اتہ پتہ نہیں ہے!
تو بات دراصل یہ ہے کہ لاک ڈاؤن ہے اوروقت کا بیلنس ہمارے پاس ٹھیک ٹھاک ہے۔ بیٹے کوپڑھانے، بیٹی کے ساتھ کھیلنے اورگھر میں قید ہر بے بس اور مجبور شوہرکی طرح، صبح و شام بیگم کی جلی کٹی سننے کے بعد ایک وقت ہی تو ہے جو ہمارے پاس بچ رہتا ہے۔ اس لیے خبردار صاحبان! اگر آپ لاک ڈاؤن والے جمعے کےمختصر خطبےکے عادی ہوچکے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لئے نہیں ہے۔ ہاں! اگرآپ میری طرح بیتے دنوں والے ‘میلاد’ کی تقریروں کا ذوق رکھتے ہیں تو پھر آئیے، براجئے اورہندوستان سے مصرتک اس جھولے میں جھولیے جس کا نام "حیاتی” ہے۔

(جاری )

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)