احمد امین کی”حیاتی”-نجم الہدیٰ ثانی

(تیسری قسط)

ٹالسٹائی نے اپنے شاہکار ناول’اینا کرینینا’ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ سارے خوش و خرم خاندان ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں مگر سارے اداس خاندان الگ الگ طرح سے اداس ہوتے ہیں۔
"حیاتی” کے مطالعے کے دوران مجھے ایسا لگا کہ میں ایک ماورا تاریخ متن سے روبرو ہوں۔ احمد امین کی پوری شعوری زندگی مصر کی جدید تاریخ کے سب سے تلاطم خیز دورمیں گذری۔ ان کی پیدائش (1886) سے صرف چار برس پہلے، 1882، میں برطانیہ نے مصرپرفوج کشی کرکے وہاں اپنا بالواسطہ تسلط قائم کرلیا تھا۔ گو محمد علی پاشا کے مصرپرقبضہ (1805) کے بعد مصرپرعثمانی خلیفہ کا دعویٰ محض ایک دعویٰ ہی تھا۔ مگر یہ بھرم 1882 میں مزید کمزو رہوا۔ پہلی جنگِ عظیم (1914) میں عثمانیوں کے اتحادیوں کے خیمے میں جانے کے بعد توبرطانیہ نے ، عملاً، مصرکواپنے ‘تحفظ’ میں لے کر عثمانی خلافت سے اس کا رشتہ ختم ہی کرڈالا۔
برطانوی تسلط کے بعد ملک میں مصری قوم پرستی خوب پھلی پھولی۔ قوم پرستی کے شعورکی کی آبیاری میں ‘واقعۂ دنشوائی'(1906) نے اہم کرداراداکیا۔ مصطفیٰ کامل اورسعدزغلول مصری عوامی بیداری اورسیاسی شعورکے ممتازترین نمائندے بن کراسی دورمیں ابھرے۔ 1922 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی مصرمیں برطانوی افواج کی موجودگی اورمصری سیاست اورمعاشرتی زندگی پر اس کےگہرے اثرونفوذ کی وجہ سے ملک بہت سی تبدیلیوں سے گذررہا تھا۔ 1922 میں آزادی ملنے کے بعد 1952کے فوجی انقلاب تک ملک میں دستوری بادشاہت قائم رہی۔
اس درمیان مصرمیں اخوان المسلمون جیسی طاقتور نظریاتی تحریک نے جنم لیا اوردیکھتے دیکھتے اس نے مصری سماج کے ہرطبقے میں اپنی جگہ بنالی۔ 1948 میں اس عوامی اسلامی نظریاتی جماعت کے انقلابی اورانتہائی مقبول بانی اوررہنما، حسن البناء، کو گولی ماردی گئی۔ لیکن ذرا رکیے اورٹھہرکراخوان المسلمون کے قیام سے پہلےکے مصرمیں برپاان نظریاتی مباحث کو ذراتازہ کرلیجئے جس نے مصری سماج کو دومتوازی حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اخوان کے وجود میں آنے کےبعد یہ دودھڑےایک تکون میں بدل جاتے ہیں کیونکہ ازہرکی روایت پرستی اورمصری سیاسی اشرافیہ کی تجددپسندی کے بین بین اخوان نے قدیم وجدید کے ان متوازی دھاروں کو قرآن و سنت کی روشنی میں ایک لڑی میں پرونے کا کام کیا تاکہ ان دونوں سے ملک و ملت اورانسانیت کی فلاح و بہبود کا کام لیا جاسکے۔
یوروپی سیاسی تسلط کے بعد مصر میں قدیم وجدید یا روایت و تجددکی کشمکس کے عناوین بھی ، کم و بیش، وہی ہیں جو دیگر افریقی-ایشیائی ممالک میں تھے: اجتماعی زندگی سے مذہب کی جلا وطنی، عورتوں کی آزادی ، یوروپی معاشرت کی نقالی، وغیرہ۔ وقت کے ان تمام سلگتے مسائل پراگرآپ احمد امین کی رائےتفصیل سے پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ سوانح ا س مقصد کے لئے نہیں ہے۔ ہاں، ان تمام مسئلوں پرنظری اورعملی اعتبارسے وہ کہاں کھڑے ہیں اس کا پتہ یہ کتاب دیتی ہے۔ یعنی، بیسویں صدی کے وہ معاشرتی، تہذیبی اورتاریخی مسائل جن پرمصرمیں بحث و مباحثہ کا آغاز محمد علی پاشا کے دورمیں ہوااس پرمصرہی نہیں عالمِ عرب کے بیسویں صدی کے نصف اول کے ممتازترین تہذیبی مؤرخ اوردانشور کی رائے شرح وبسط کے ساتھ ہمیں ان کی خودنوشت میں نہیں ملتی ہے۔ ممکن ہے ان میں سے کچھ موضوعات پراپنی دیگر کتابوں میں لکھنے کی وجہ سے، شاید، مصنف نے اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی ہوکہ دوبارہ انہیں چھیڑا جائے۔اورایک صاحبِ قلم کو اس بات کی پوری آزادی ہے کہ وہ اپنی سوانح میں کن شخصیات، واقعات اورموضوعات کو جگہ دیتا ہے اورکسے نظرانداز کردیتا ہے۔ لیکن اس بات کا امکان بھی اتنا ہی قوی ہے کہ اپنے اس ‘محذوف اسلوب’ کے ذریعے وہ جن باتوں کو نظرانداز کررہے ہیں انہیں وہ ، خود اپنی ذات کی حد تک بھی اورمصر کی اجتماعی زندگی کے لئے بھی، لائقِ اعتناء نہیں سمجھتے ہوں۔احمد امین جیسے بلند پایہ ادیب اوراس سے بھی بڑھ کرایک ایسے مؤرخ کی حیثیت سے جس نے مسلمانوں کی تاریخ کے تہذیبی پہلوؤں پرقابلِ قدرکام کیا ہو مسلم ممالک میں مغربیت اور اسلام کی کشمکش پرکھل کر نہ لکھناسطورسے زیادہ بین السطور میں اپنی بات کہنے کےرجحان کا غماز ہے۔
احمد امین نے کتاب کے آغاز میں لکھا ہے، اورصحیح لکھا ہے، کہ انسان کی شخصیت اپنی تمام ترپیچیدگیوں کے ساتھ اپنے آباو اجداد، ماحول، تعلیم وتربیت اوران جیسے دیگرحیاتیاتی، نفسیاتی اورسماجی عوامل کا آخری نتیجہ ہوتی ہے۔ اگرآپ اس بات کے خواہشمند ہیں کہ اس کتاب میں آپ اس دورکے اہم ترین تہذیبی اورسیاسی معرکوں کے متعلق تفصیلی مباحث دیکھیں گے تو آپ کو مایوسی ہوگی۔ گویا ہمیں صاحبِ کتاب کی شخصیت کی ‘مکمل’ جھلک اس کتاب میں نہیں ملتی ہے جو اس کی خودنوشت بھی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے نوم چومسکی بلڈنگ کے ایک چھوٹے سے کیبن میں ‘اسلامک ہسٹری’ کی پروفیسر نے سامنے بیٹھےاپنے چارطلبہ کے متعلق ‘تحلیلِ نفسی’ کرتے ہوئے میری طرف ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ مڑکر کہا: ‘اینڈ یو؟ یوآروورلڈ-وائز۔ یو نو وہاٹ ٹوسے اینڈ وہن ٹو سے’۔
میرے بارے میں پروفیسر کا تجزیہ کتنا صحیح یا غلط تھااس سے قطعِ نظرجس بات نے مجھےبرسوں گذرنے جانے کے بعد بھی ان کا جملہ یاد رکھنے پرمجبورکیا ہے وہ خود ان کی صاف گوئی تھی۔ انہیں میری خوشی یا ناراضی سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ انہیں جو صحیح لگا انہوں نے اس کا اظہار بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کردیا۔
احمد امین ‘ورلڈ-وائز’ تھے؟ کیا وہ اپنے موقف کی صداقت پرصرف اپنی ذات کے اندرون میں یقین کرنے والے تھے؟اس کا واشگاف اعلان و اظہار ضروری نہیں سمجھتے تھے یا اسے، کسی بھی وجہ سے، اپنے حق میں مضر سمجھتے تھے؟ کیا ایک روایتی مذہبی خاندان میں گزرنے والا بچپن اپنی روایتوں سے’منحرف’ ہونے کے بعد کہولت اوربڑھاپا میں واپس ان ‘ایام’ کو یاد تک نہیں کرنا چاہتا تھا؟ اورانہیں نظراندازکرکے یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ ان دنوں کوجب اسے فجرسے عشاء تک اپنے سخت گیراورانتہائی مذہبی والد کی نگرانی کی کوفت برداشت کرنی پڑتی تھی پلٹ کردیکھنے کی تاب ہے نہ کوئی خواہش؟ وہ اس دورکی یادداشت اپنے حافظے سے کھرچ کرپھینک دینا چاہتا ہے؟
(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)