احمد امین کی "حیاتی”-نجم الہدیٰ ثانی

لاک ڈاؤن میں پڑھی گئی سوانحی کتاب پرتاثراتی تحریر
(دوسری قسط)

لاک ڈاؤن میں بیٹھے بٹھائے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنی ننھی منی ذاتی لائبریری کی سیر کی جائے۔ یوں بھی کوئی کتاب پڑھے زمانہ ہوگیا۔ جب سے مودی جی نے سی اےاے-این آرسی-این پی آرکا نعرۂ مستانہ بلند کیا تب سےاب تک’ جھوٹ کہنے کے لئے بھی’ ہم نے کوئی کتاب نہیں پڑھی ہے۔ اسی لئے اب ہم اپنے مطالعے کے ادوار کو ماقبل سی اےاے-این آرسی-این پی آرعہد اورمابعد سی اےاے-این آرسی-این پی آرعہد میں تقسیم کرنے لگے ہیں۔
ادوارکی تقسیم سے یاد آیا کہ جامعہ میں ہسٹری کی پہلی کلاس میں (جی ہاں’ ہم اس زمانےمیں اس مضمون کو ‘تاریخ’کے نام سے یاد کرنا معیوب سمجھتے تھے)ہم بابائے تاریخ ہیروڈوٹس کی تاریخِ پیدائش اوروادی سندھ کی تہذیب کے زمانےکو’بی سی’ اور’اے ڈی’ میں یاد کرکےلے گئے تھے کہ پروفیسرصاحب پرہماری تاریخ دانی کا اچھا اثرپہلے ہی دن پڑجائے۔ لیکن ‘بی سی’پرہی انہوں نے جے این یو والے انداز میں ہماری گرفت کرتے ہوئے مسکراکرارشاد فرمایا کہ’دس از آؤٹ ڈیٹڈ۔ پلیز، یوز بی سی ای، انسٹڈ’۔
بہرحال۔ ہماری لائبریری میں کچھ حصے ایسے بھی ہیں جن کی طرف جاتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔ہم اس طرف جاتے ہوئے بھی جھجھکتے ہیں۔ یہ غالب کے لفظوں میں ‘عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ ہیں’۔ یہ برسوں سے ہماری نگاہِ کرم کے منتظرہیں اور ہم کسی شبھ گھڑی کے انتظارمیں ہیں کہ وہ آئے تو انہیں شرفِ مطالعہ وملاحظہ سے سرفراز فرمائیں۔ لیکن اس بار لائبریری میں داخل ہوتے ہوئے ہم نے پکا ارادہ کرلیا کہ اب جب کہ ہم اپنے مطالعے کے ادوار کی تقسیمِ نو سے بھی فارغ ہوچکے ہیں تو کیوں نہ ہمت کرکے ان کو بھی نمٹادیا جائے۔ اس دن یوں بھی ہم عام دنوں سے زیادہ خوداعتمادی محسوس کررہے تھے کیوں کہ کچن میں ہماری کارکردگی سے خوش ہوکر بیگم نے ہمیں پورے دن کی چھٹی دے دی تھی۔
ہمارے ایک عزیز نے اپنی دلہن کے انتخاب میں اتنی باریک بینی اوراحتیاط سے کام لیاتھا کہ ان کی شادی کی عمر ہی نکل گئی ۔یادش بخیر!آخرعمر میں پروفیشنل میرج کاؤنسلرہوگئےتھے۔ اللہ مغفرت کرے ۔کبھی کبھی پرانے دنوں کو یاد کرکے آبدیدہ ہوجاتے اورایک خاص طرح کے جوش میں فرماتے :میاں! عمربھر کا معاملہ ہوتا ہے۔ یونہی تو کسی سے بھی تعلق نہیں جوڑاجاسکتا نا؟شادی ہے کوئی آزاد نظم نہیں کہ جیسی بھی ہوجائے تو شاعری ہی کہلائے گی۔” ان کی اس تشبیہ پردل ہی دل میں جز بز ہونے کے سوا ہم کچھ نہیں کرسکتےتھے کیوں کہ ہمیں اپنی شادی کے بارے ان کے طویل’ بہت طویل’ تجربات سے فائدہ اٹھانا تھا۔
لیکن ہمارے یہ عزیز کہاں سے آ دھمکےیہاں؟
نہیں، صاحبات و صاحبان! ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ان کا کوئی تعلق "حیاتی” سے نہیں ہے۔ اس دنیا میں سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ ذرے کاجگر چاک ہونے سے خورشید کا لہو ٹپکنا صرف عہدِ غالب کا خاصہ نہیں تھا بلکہ یوگی اورمودی کے دورمیں بھی طبیعات کے قوانین اٹل ہیں۔ بس دیکھنے والے کی نظر کمزور نہ ہو اوراگر نظرکمزورہوہی گئی ہوتو اس نے صحیح نمبر کا عینک لگا رکھا ہو۔ ہمارے عزیز اور”حیاتی” میں تعلق بہت مضبوط ہے۔ آں موصوف کو اپنی شریکِ زندگی کے انتخاب اورمجھے ”عنادلِ گلشنِ ناآفریدہ” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ کوئی ایک کتاب یا چند کتابیں ہوتیں تو فیصلہ کرنا آسان ہوتا۔ لیکن یہاں تو معاملہ برسوں کے قرض کا تھا۔ وصولی کرنے والوں کی لمبی قطارلگی تھی۔ملیہ، نیرواورچوکسی کی طرح ہمارے دوست بارسوخ نہیں تھے کہ ”بھگاکربچا”والی تکنیک استعمال کرکے مجھے خلاصی دلا دیتے۔
ایک جانب ممدانی صاحب کہہ رہے تھے کہ یار! اگرکتاب پڑھنی نہیں تھی تو دس برسوں سے کس ناکردہ جرم کی سزادے رہے ہو۔ پڑھ نہیں سکتے تو مجھے ساحر، ٹیگور اورجوائس کے ساتھ کارٹن میں لٹا کیوں نہیں دیتے۔مجھے یقین ہے تمہیں ابھی تک”گڈ مسلم /بیڈ مسلم ” کا فرق معلوم نہیں ہوا ہوگا۔
ممدانی صاحب کے ساتھ اسی محلے میں مولانا شمس تبریز صاحب اور اسحٰق جلیس ندوی مرحوم بھی رہتے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی طنزیہ نگاہوں سے گویا ہوئے کہ ” کیوں بھئی مولوی صاحب! ہماری تاریخ پرآپ کا ‘مبسوط’ تبصرہ اورنقد کا کیا بنا؟ وہ بھی تاریخ ہی کا حصہ بن گیا کیا؟’ ہم ان کی نگاہوں کی تاب نہ لاسکےاورشرم سے پانی پانی ہوگئے۔
مگر ہماری آزمائش کے دن ابھی باقی تھے۔ فوکویاما دامن گیر ہوکرگلوگیر لہجے میں کہنے لگے کہ "تاریخ کی انتہااور آخری آدمی” لکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ اب اس مصنف کی کوئی کتاب نہ پڑھی جائے۔ میری "آئڈنٹیٹی” پڑھ لو، بابو! ‘اس بار ہم بھی چپ نہیں رہ سکے۔ہمت کرکے بول ہی دیا کہ "چچا! ہم آپ کی آئڈنٹیٹی سے خوب واقف ہیں۔ ہمیں تو آپ امریکہ اورجاپان کی ملی بھگت لگتے ہیں۔” یہ بول کر ہم نے دل ہی دل میں اس دوست کا شکریہ ادا کیا جس نے ہمیں "دیریلس:ارطغرل”دیکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ کفارومشرکین کے مقابلے میں یہ خوداعتمادی ہمیں ارطغرل دیکھنے کے بعد ہی ملی ہے۔ فجزاہ اللہ عنی وعن المسلمین جمیعاً۔
فوکویاما چچا کو کھری کھری سنانے کے بعد ہمیں اپنا آپ کافی مسلمان مسلمان محسوس ہوا۔ اگلے محلے میں سابق صدرِ جمہوریہء ہند اورعالم و فلسفی ڈاکٹررادھاکرشنن کو ہم سلام کرکے گزرنا ہی چاہ رہے تھے کہ انہوں نے فہمائشی نظروں سے دیکھتے ہوئے احساس دلا دیا کہ "پرنسپل اپنشدس” کے مطالعے میں غیرمناسب تاخیر ہورہی ہے۔ انور سدید بھی اچانک اپنی بالکونی میں آکھڑے ہوئے اور”اردوادب کی تحریکیں” دکھا کرمسکرانے لگے۔ ہم جھینپ گئےتو سردلہجے میں فرمایا کہ اگلی بار سسرال لیتے ہوئے جانا۔غمِ دنیا سے بے نیاز ہوکر مطالعہ وہیں ممکن ہے۔ ان کی بالکونی کے بعد اردوتنقید و تاریخ کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ معاف کیجئے گا۔ ہمارا مطلب تھا کہ محلہ ختم ہوجا تاہے۔ سوچا! چلو اب جان چھوٹی۔
"کودرا ‘ تو دورکی بات آپ نے تو ابھی تک ‘ادراک’ کو بھی ہاتھ نہیں لگا یا ہے! افسوس!جب زوال پذیرقوموں کے نوجوان وحئ الٰہی کی تابانی سےبے نیازہوکر اپنی بے رنگ زندگی کے نقشےمیں رنگ آمیزی کی سعئ لاحصل کرتے ہیں تومکافاتِ عمل میں ‘ون نائٹ ایٹ کال سنٹر’ اور ‘3 ایڈیٹس’ ہی ان کا مطالعاتی مقدر بن جاتے ہیں۔ ” آواز اورلب و لہجہ سب مایوس لگے۔ تصدیق کے لئے پیچھے مڑکردیکھا تو شاز صاحب سوالیہ نظروں سے میری ہی طرف دیکھتے ہوئے پائے گئے۔
‘شازصاحب! انشاء اللہ ، رمضان کے بعد ادراک کا تدارک کرنے کا پختہ ارادا ہے۔ دعافرمائیں۔’ میں نے ان کی ہلکی پھلکی سائکل اوربھاری بھرکم الفاظ کو دیکھتے ہوئے بمشکل کہا۔ وہ ایک ادائے بے نیازی سے اپنا استعفی ٰ طارقِ (غیر)منصور کو سونپنے چل دئے۔
"مگر، احمدامین اور”حیاتی” کہاں ہیں؟ ”
آواز کے تعاقب میں میری نظریں بیگم کی نظروں سے ٹکراگئیں۔ (کبھی ان نظروں کے ٹکرانے سے دل میں گھنٹیاں بجتی تھیں، موسم سہانا ہوجاتاتھا، بہار میرے کمرے میں اترجاتی تھی اور دل فارمولہ ون کا ڈرائیور بن جاتا تھا۔ مگر اب۔خیر۔ باقی رہے نام اللہ کا۔)
"اگلی قسط میں، بیگم، ان شاء اللہ۔ ” میں نے ٹھٹھک کر صفائ پیش کی۔
"لوگوں کے جذبات سے کھلواڑ، اور ایکتا کپور کی نقل’ وہ بھی اس مبارک مہینے میں، ہرگز مناسب اورقابلِ معافی نہیں۔ آپ کی چھٹی رد کی جاتی ہے۔ فوراً کچن میں رپورٹ کریں۔
(جاری)

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)