اکھلیش یادوبھی نرم ہندوتواکی سیاست کی جانب گامزن؟

مندرکادورہ کرنے والے سابق وزیراعلیٰ قریب کی درگاہ جانابھول گئے
لکھنؤ:یوپی میں اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی مندر کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ ، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کے بعد ، اب سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادوبھی اسی رنگ میں ہیں ۔وہ اب نرم ہندوتواکی راہ پرچل رہے ہیں۔اکھلیش کے مرزاپور کے دورے پر ونڈیاواسینی دیوی مندر سرخیوں میں ہے۔ اکھلیش نے مندرکے احاطے میں موجود تمام دیوتاؤں کے گرد چکرلگایالیکن یہاں سے تھوڑی دور واقع درگاہ جانا بھی بھول گئے۔جبکہ پارٹی کے لوگ اسے ایک سخت شیڈول کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ، لیکن سیاسی ماہرین اسے اکھلیش کی بدلی ہوئی حکمت عملی سے جوڑ کراسے دیکھ رہے ہیں۔ دراصل مرزا پور آنے والے قائدین درگاہ کا دورہ کرنے کے بعد ، ونڈیاواسینی مندر میں سیکولرازم کاپیغام پیش کرنے جاتے ہیں۔ اکھلیش کے بھی چادر پیش کرنے کا انتظار تھا لیکن اکھلیش وہاں نہیں پہونچے ہیں۔