آغا صاحب کی ایک شرارت!-رئیس صدیقی

 

Email:rais.siddiqui.ibs@gmail.com
ایک صاحب تھے آغا جانی کاشمیری۔ یہ ۱۹۰۸ میں پیدا تو لکھنؤ میں ہوئے لیکن رہتے تھے ممبئی میں۔ آغا صاحب نے بہت سی فلموں کے لئے کہانیاں بھی لکھیں او رمکالمے بھی۔آغا صاحب شاعر بھی تھے اور سوانح نگار بھی۔آغا صاحب نے اپنی زندگی کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کو ہم سوانح عمری کہتے ہیں۔ اس کتاب کا نام ہے ’ سحر ہونے تک۔ آغا صاحب ۹۰ ؍ برس کی عمر پاکر، ۱۹۹۸ میں اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے لیکن ان کی کتاب ہمیشہ انہیںزندہ رکھے گی۔اس کتاب کی زبان اس قدر پیاری اور انداز اس قدر اچھوتا، رواں اور دلچسپ ہے کہ جناب سید احتشام حسین، علی سردار جعفری اور راجندر سنگھ بیدی جیسے صاحبِ ز بان اور ا ردو کے بہت بڑے ادیب بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے۔
اس کتاب میں ان کی زندگی کے بہت سے مزیدار قصے ہیں۔ خاص طور سے بچپن کی شرارتیں۔
ان ہی شرارتوں میں سے ایک شرارت آغا صاحب ہی کی مزیدار زبان میں پیش کررہا ہوں:
ایک حکیم صاحب تھے جن کو ہم سب ’حکیم مرغا‘ کہتے تھے۔ ایک پسلی کے خود اور دوہزار آدمیوں کو مارنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ ہمارے محلے کے ایک مکان میں مطب کرتے تھے جس میں ایک قبرستان بھی تھا۔ جب کبھی کوئی حلوہ بناتے تو ہم لوگوں کو چکھاتے اور اس کے اوصاف اور خوبیاں بیان کرتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کہ مریضوں کی موجودگی میں آئو، حلوہ چکھو ا ور خوب تعریف کرو۔ہم لوگ روز حلوہ کھاتے اور جب ختم ہونے لگتا تو وہ مریضوں کے سامنے پوچھتے۔ کیسا حلوہ ہے؟‘‘ تاکہ کوئی مریض پھنسے۔ ہم لوگ مریضوں کے سامنے کہہ دیا کرتے تھے کہ کیا کہنا !
آپ کے والد نے کھایا۔ دادا نے کھایا۔ چچا نے کھایا اور سامنے قبرستان میں دفن ہوگئے!
اور پھر ہم لوگ مریضوں پر نظر ڈالتے ہوئے یہ کہہ کر بھاگ لیتے :
’’اب دیکھنا ہے کہ اِن میں سے کس کی باری ہے؟‘
مگر ہم بچوں کی اس شرارت پر حکیم صاحب ناراض نہیں ہوتے بلکہ انکے چہرے پر معصوم سی مسکان پھیل جاتی اور کہتے :
شرارت بچے نہیں کریں گے تو کیا ہم بڈھے کریں گے !
سچ تو یہ ہے کہ معصومیت صبر ، برداشت اور نظر انداز کرنے کی قوت، خوش مزاجی ، ہر حال میں خوش رہنا اور چہرے پر دل خوش کر دینے والی مُسکان ، اللہ کی طرف سے ہم بندوں کو انمول تحفہ ہے!!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*