اگر کھوگیا اک نشیمن تو کیا غم؟ – سفینہ عرفات فاطمہ

ہمارا بسیراجہاں ہے،وہ علاقہ غیرمعروف توخیر نہیں کہہ سکتے، لیکن اس قدر معروف بھی نہیں ہے۔اتنا ضرور ہے کہ شہر کے رہائشی علاقوں کی طرح یہاں سانس لیتے ہوئے گھٹن نہیں محسوس ہوتی۔ اتنی ہوایہاں میسر ہے کہ انسان کھل کر سانس لے سکے۔ شوراورہنگاموں سے بھی یہ کافی حد تک پاک ہے۔شہر کی پاش بستیوں کی طرح نہ مسابقت کی دوڑ ہے،نہ ہی کوئی رسمی،بناوٹی ماحول۔ شہری حدود میں فروغ پارہے معیارِ زندگی سے ہم آہنگ ہونے کی کاوش میں کٹھ پتلیوں کی طرح رقص کرتے ہوئے کاسمیٹکس کی دبیز تہوں کے پیچھے چھپے ہوئے  چہرے بھی یہاں دکھائی نہیں دیتے۔ شہری علاقوں میں سیکڑوں انسانوں کے بیچ رہ کر بھی اجنبیت دامن گیر ہوجاتی ہے،لیکن یہاں لوگوں کا ہجوم تونہیں ہے مگر جو بھی یہاں رہتے ہیں، چاہے ان کا مذہب الگ ہو،چاہے ان کی ذات جداہو، چاہے ان کا عقیدہ مختلف ہو،حتی کہ زبان بھی ایک نہ ہو،لیکن یہ ایک دوسرے کے تئیں اچھے اور سچے جذبات رکھتے ہیں۔آپس میں لفظوں کاتبادلہ نہ بھی ہوتو متبسم آنکھوں سے اس تعلق خاطر کی ترسیل ضرور ہوتی ہے جو خودبخود ہی دومختلف انسانوں کے درمیان وجود میں آجاتا ہے۔ بظاہرکوئی بندھن نہیں، بظاہر کوئی تعلق نہیں، راہیں بھی جدا اور منزل بھی، لیکن ایک بے نام سا ربط ضرور ہے، ایک خاموش انڈرسٹینڈنگ ہے، ایک محسوس ہونے والا رشتہ ہے۔
سورج انتہائی فراخ دلی سے اپنی کرنیں یہاں بکھیرتا ہے،کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا وہ جانبداری سے کام لے رہا ہے،یعنی دوسرے علاقوں کے برعکس اس خطے کو زیادہ روشن کیے ہوئے ہے۔ اس کی رخصتی کا منظر بڑا ہی دلفریب ہوتا ہے،کبھی وہ پہاڑوں کے پیچھے غائب ہوجاتا ہے تو کبھی اس کی مائل بہ رخصت نرم شعاعیں درختوں سے چھن چھن کر دھوپ چھاؤں کا نظارہ پیش کرتی ہیں۔ بارش کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ چاہے برسات کا موسم ہو کہ نہ ہو، جب بھی یہاں بارش ہوتی ہے، شدت سے ہوتی ہے، حتی کہ یہاں پھیلی ہوئی پہاڑیاں، پانی کے تیزدھاروں میں اپناوجود کھودیتی ہیں، یعنی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں۔ دستِ قدرت کی اس فیاضی پر کچھ لوگ یہ کہہ کر خوش ہولیتے ہیں یاپھر خود کو بہلاتے ہیں کہ یہاں بسنے والے دوسرے علاقوں میں مقیم لوگوں کے مقابلے میں زیادہ نیک ہیں جو یہاں ابرِکرم کھل کربرستا ہے۔ یہاں کے مکینوں کو برسات کے موسم میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ بارش کا پانی آنگن میں داخل ہوجاتا ہے اور اس کے ساتھ مینڈک بھی بن بلائے مہمان بن کر چلے آتے ہیں۔ان چھوئی موئی لڑکیوں کے لیے تو یہ مینڈک دشمنِ جاں ہوتے ہیں جومعمولی اور حقیر کیڑوں کو دیکھ کر بھی اچھل پڑتی ہیں اور اپنے صنفِ نازک ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔ جن کے پختہ مکان ہیں، جنہیں اپنی چھتوں کی مضبوطی اور درودیوارکی رفاقت پر پورا بھروسہ ہے۔ وہ باران رحمت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور وہ جن کے کچے مکان ہیں (مکان بھی کہاں، صرف جھونپڑیاں)اس خوف سے اپنی چھتوں کو تکنے لگتے ہیں کہ کہیں تیز بارش ان کے آشیانوں کو بہانہ لے جائے، ایسے ہی منظر کے مشاہدے کے بعدکسی شاعرنے یہ شعر کہاہوگا :
شہر میں آج بھی کمزور مکانوں والے
تیزبارش کی حمایت نہیں کرنے دیتے
صبح کو بارش تھم جانے کے بعدیہاں رہائش پذیر لوگ ناگوار تاثرات کے ساتھ اپنا دامن بچاتے ہوئے راہ سے گزررہے ہوتے ہیں۔ ان کی حتی الامکان یہ کوشش ہوتی ہے کہ گندے پانی کا کوئی نشان ان کی نفاست پر ضرب نہ لگائے۔ جب وہ اپنے دامن کی فکر سے ذرا آزاد ہوتے ہیں تو ان پر یہ منکشف ہوتا ہے کہ انہیں اس بات کی فکر ہے کہ ان کے کپڑوں پر  کوئی داغ نہ آئے اور دوسری طرف تو پچھلی رات کی بارش نے نشیمن ہی میں آگ لگادی ہے۔ آشیانے بکھرگئے اوران میں سرچھپانے والے تنکے سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ تقریباً ہر بارش کے بعد یہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ جھونپڑیوں میں بسنے والے نہ تو صفِ ماتم آراستہ کرتے ہیں، نہ ہی کسی کی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں، نہ ہی بارش کی مذمت میں کوئی قرارداد ہی منظورکی جاتی ہے، نہ ہی کوئی انہیں دلاسا دینے آتا ہے۔ ”اگرکھوگیا اک نشیمن تو کیا غم‘‘ کے مصداق وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی جھونپڑیوں کوازسرنو سنوارنے میں لگ جاتے ہیں۔
ہم نے اپنے آپ کو ’اعلیٰ‘ سمجھنے والے لوگوں کو ان جھونپڑیوں میں مقیم افراد کے ساتھ براسلوک کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ مجھے یہاں ان ’اونچے‘ لوگوں کے ’نیچ‘ رویوں پر بحث نہیں کرنی، یہ سلسلہ تو ازل سے چلاآرہا ہے۔ ہم تو یہاں ’چھوٹے‘ سمجھے جانے والے لوگوں کے ’بڑے‘ حوصلوں کی بات کرنا چاہتے ہیں کہ کیسے وہ بارباربکھرجانے والے آشیانوں میں رہ کربھی زندگی کا لطف اٹھاتے ہیں۔ان کا ہردن ایک جنگ جیسا ہی ہوتا ہے‘پھربھی وہ کسی گلے اور شکوے کے بغیر،معمول کے مطابق جیے جاتے ہیں۔انہیں اس بات کی کوئی شکایت نہیں کہ وہ موٹے چاولوں اورسوکھی روٹیوں سے اپناپیٹ بھرتے ہیں۔نعمتوں کی، راحتوں کی،سہولتوں کی غیرمساوی تقسیم پربھی ان کی زبان پرکوئی شکوۂ حرف نہیں آتا۔ انہیں ’بلندمرتبہ‘ شہریوں کی طرح نہ تو اپنے اسٹیٹس کی فکر ہے،نہ ہی رپوٹیشن کی۔ یہ لوگ ایک نشیمن کے اجڑنے پر دوسرا نشیمن بنانے کا حوصلہ رکھتے ہیں، زندگی کے چیلنجز کو معمول کی طرح قبول کرتے ہیں، کسی چیز کی لالچ رکھتے ہیں،نہ امید اوروہ لوگ،جنہوں نے زندگی کو مختلف لبادوں، جھوٹی سجاوٹوں سے بوجھل بنادیاہے اورخود بھی انسان کم اورشوکیس میں رکھی ہوئی کوئی مادی شے زیادہ لگتے ہیں،اب کوئی حقیقت پسند ہی فیصلہ کرے کہ اعلیٰ کون ہے اور ادنیٰ کون؟