افغانستان میں القاعدہ کے دوبارہ ابھرنے کا خطرہ موجود ہے: امریکہ

نیویارک :امریکہ کے اعلی دفاعی عہدیداروں نے اپنی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ افغانستان سے آئندہ چند مہینوں میں امریکہ اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد وہاں موجود سرکردہ دہشت گرد گروپ امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعرات کو امریکی اراکین کانگریس کو بتایا کہ القاعدہ جیسے گروپ ممکنہ طور پر دو سال کے اندر اپنی اہلیت دوبارہ حاصل کر لیں گے اور امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر نے کے قابل ہونگے۔جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی نے مزید خبردار کیا کہ یہ عرصہ دو سال سے کم بھی ہو سکتا ہے اور اس کا انحصار افغانستان کی موجودہ حکومت کے مستقبل پر ہے۔جنرل ملی کا کہنا تھا کہ "اگر افغانستان کی حکومت ناکام ہو جاتی ہے یا مقامی سیکیورٹی فورسز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہیں، تو ظاہر ہے کہ خطرہ بڑھ جائے گا۔امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ افغانستان سے باقی ماندہ تمام امریکی افواج 11 ستمبر سے پہلے نکال لی جائیں گی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ افغانستان کے اندر القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملے پر جوابدہ ٹہرانے کا بنیادی مقصدحاصل ہو چکا ہے۔ لیکن اس بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی نہ رہی تو وہاں القاعدہ اور اسلامک سٹیٹ خراسان جیسے گروپ دوبارہ ابھرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔امریکی فوج اور انٹیلی جنس عہدیدار متعدد بار انتباہ کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ابھرتے ہوئے خطرات افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کو غیر مستحکم بنا سکتے ہیں اور دہشت گرد گروپ خود کو مضبوط بنانے اور اپنی ان کارروائیوں کو بڑھانے کا ایسا موقع فراہم کر سکتے ہیں، جس کا انہیں طویل عرصے سے انتظار تھا۔کرسٹین ابی زید نے، جنہیں امریکہ میں انسداد دہشت گردی کے قومی مرکز کی سربراہ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، گزشتہ ہفتے اراکین کانگریس کو بتایا کہ جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی واضح موجودگی نظر آتی ہے، وہاں یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ وہ مقام ہماری سر زمین کے لیے خطرات کا حامل پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔