افغانستان کس کا قبرستان؟ ـ خورشید ندیم

افغانستان انسانی تہذیب سے بچھڑا ہوا ایک سماج ہے۔آج امن اُس کی پہلی ترجیح نہیں اور یہی اس کا المیہ ہے۔ امریکہ والے بظاہر بہت سیانے ہیں۔ 1979 ء میں یہاں قدم رکھنے سے پہلے،انہوں نے اس خطے کے طرزِ معاشرت اورسماجی بنت کا اچھی طرح جائزہ لے لیا ہوگا۔ عام طور پر وہ یہی کرتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ جب ان کی سیاست کا مرکز بنا تو امریکی یونیورسٹیوں میں سی آئی اے کی معاونت سے ’مراکز برائے مطالعہ مشرقِ وسطیٰ‘ قائم ہوئے۔ ایک ایک مذہبی اور سیاسی رجحان کو سمجھا گیا۔تاریخ کو کھنگالا گیاا ور اس کے بعد اس خطے کے بارے میں ایک پالیسی مرتب کی گئی۔
1970ء کی دھائی میں اور اس کے بعد ایسی تحقیقی کتابوں سے کتب خانے بھر گئے جو مشرقِ وسطیٰ پر لکھی گئیں۔اس کام کے لیے دنیا بھر کے سکالرز کی خدمات مستعار لی گئیں۔ 1979ء سے پہلے افغانستان کے بارے میں بھی تحقیق ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ یہ امریکہ ہی تھا جس نے سوویت یونین کو افغانستان پر قبضے پر ابھارا۔روسی اس جال میں پھنس گئے اور یوں یہ خطہ ان کا قبرستان بن گیا۔
تاہم امریکی اس کا مطالعہ نہ کر سکے کہ مستقبل میں یہ ملک اور کس کس کے لیے قبرستان ثابت ہو گا۔1989 ء میں وہ اسی لاعلمی میں یہاں سے رخصت ہوئے۔ یہاں تک کہ تاریخ نے اس سرزمین کو ایک بار قبرستان بننے کے لیے تیار کردیا۔اب لیکن امریکہ اور اس کے حواریوں کی باری تھی۔امریکہ کو9/11کی صورت میں جس صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا،وہ اس لاعلمی کی قیمت تھی۔اِس بار وہ افغانستان میں داخل ہوا توکسی تیاری کے بغیر،محض حالات کے جبر سے۔اس نے خیال کیا کہ طاقت کے استعمال سے وہ یہ معرکہ سر کر لے گا۔ایسا نہیں ہو سکا۔اسے اندازہ نہیں ہوا کہ قبرستان میں زندگی نہیں،صرف موت سانس لیتی ہے۔
اب امریکہ نے پھریہاں سے رخصت ہونے کا فیصلہ کیا تو افغانستان ایک نئی خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑا ہے۔سب یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کے نکلنے کی دیر ہے،یہ ملک ایک بار پھر میدانِ جنگ بن جائے گا۔افغانستان نے بھی کیا قسمت پائی ہے،سوویت یونین آئے تو خانہ جنگی،جائے تو خانہ جنگی۔امریکہ آئے تو خانہ جنگی،رخصت ہو تو خانہ جنگی۔ معلوم ہوا کہ اس خانہ جنگی کے اسباب خارج میں نہیں، داخل میں ہیں۔
افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے۔اس کا تصورِ مذہب بھی قدیم ہے اور تصورِ سیاست بھی۔یہ طالبان ہوں یا ان کے مخالف،سب کا تصورِ مذہب ایک ہے۔اسی طرح جدید سیاسی اداروں کے لیے فی الوقت وہاں کوئی پذیرائی نہیں۔ابھی تک قدیم جرگہ عدالت بھی ہے اورانتظامیہ بھی۔ جدید مذہبی تعبیرات کے لیے وہاں کوئی جگہ ہے نہ سیاسی تصورات اور اداروں کے لیے۔مجھے اس پر حیرت ہے کہ امریکہ نے سماجی حالات کا ادراک کیے بغیر،افغانستان میں ایک ایسا سیاسی نظم رائج کرنا چاہا،جس کے لیے سماج میں کوئی طلب ہے نہ وہ اس سے باخبر ہے۔
افغانستان کے سیاسی اعیان،پاکستان کے سیاست دانوں کی طرح ہیں۔ان میں سے کون ہے جو جدید سیاسی اداروں اور تصورات سے واقف نہیں؟سیاست مگر سب کی روایتی ہے۔شاہ محمود قریشی کا بیٹا امریکی سینیٹرجان کیری کے زیرِ تربیت ہے، مگراس خاندان کے مالی اور سیاسی اثاثوں کا تمام انحصار پیری مریدی پر ہے۔جیسے اسے نئی سیاسی سوچ کی ہوا نہیں لگی۔یہی حال افغانستان کا ہے۔حامد کرزئی ہوں یا اشرف غنی، مغربی اداروں سے واقف ہیں۔اشرف غنی جان ہیپکنز یونیورسٹی سمیت امریکہ کی کئی جامعات میں علم البشریات کے استاد رہ چکے اور عالمی بینک سے وابستہ بھی رہے۔گویا سماج اور معیشت کے باب میں جدید علمی ترقی اور رجحانات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ان کی سیاست مگر تمام ترروایتی ہے۔افغانستان کو ان کے اس علم سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔
اس کی وجہ واضح ہے۔اقتدار کی سیاست زمینی حقائق سے جڑی ہوتی ہے۔افغانستان کی سماجی حقیقتیں تبدیل نہیں ہوئیں۔امریکی ڈالروں کے سیلاب سے معیشت کو ایک ٹھہراؤ ملا لیکن ظاہر ہے کہ یہ پائدار معاشی ترقی کی علامت نہیں۔جیسے امریکہ کے مفادات کم ہوں گے،ڈالروں کی آمد بھی کم ہو جا ئے گی۔بے روزگاری بڑھے گی تو لوگ پاکستان کا رخ کریں گے یا جنگجو گروہوں میں شامل ہو جائیں گے۔ دکھائی یہ دیتا ہے کہ تاریخ حالات کو ایک بار پھر 1979 ء میں لے جا رہی ہے۔
افغانستان کی صورتِ حال کا امریکہ کی آمد ورفت سے کوئی تعلق نہیں۔امریکہ رہے تو خانہ جنگی۔جائے تو خانہ جنگی۔اس کاتعلق،جیسا کہ عرض کیا ہے،افغانستان کے داخلی حالات سے ہے۔یہ ایک قبائلی معاشرہ ہے جس میں صرف طاقت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔اگر 1996ء میں طالبان بعض علاقوں میں امن قائم کرنے میں کامیاب رہے تو انہیں امریکہ سمیت بہت سے ملکوں کی،ہر طرح کی حمایت حاصل تھی۔اس بار ایسا دکھائی نہیں دیتا۔طالبان کے پاس،اس کا متبادل کیا ہوگا،میں نہیں جانتا۔
دوسری طرف امریکہ کے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں غیر ملکی مداخلت ختم ہو جا ئے گی۔ترکی کابل ائر پورٹ کی حفاظت کی ذمہ داری لے رہا ہے۔یہ حفاظت فوج کے
بغیر تو نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح ایران بھی وہاں کے حالات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا کہ طالبان ایران سے نظری بُعد رکھتے ہیں۔پاکستان افغانستان کے حالات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔اس لیے ہم بھی اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔جب کوئی ہمسایہ ملک لاتعلق نہیں رہ سکتا تو افغانستان غیر ملکی مداخلت سے محفوظ کیسے رہ سکتا ہے؟
افغانستان کا ارد گرد بہت بدل گیا ہے۔افغانستان مگر نہیں بدلا۔افریقہ کے چند ممالک کے ساتھ یہ وہ ملک ہے جو انسانی تہذیب کے قافلے سے بچھڑا ہواہے۔شہروں میں نئی ٹیکنالوجی تو آگئی مگرٹیکنالوجی سے ذہنی تبدیلی نہیں آ سکتی۔اس ٹیکنالوجی کا استعمال جس مہارت کے ساتھ القاعدہ اور داعش نے کیاہے،ریاستوں نے بھی کم کیا ہوگا۔ طالبان بھی سیکھ رہے ہیں لیکن ان میں کسی جوہری تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
پاکستان کو مزید مشکل صورتِ حال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔طالبان اور پاکستان کے مابین وہ تعلقات نہیں رہے جو ماضی میں تھے۔ان کے علاوہ،وہاں کوئی سیاسی گروہ ایسا نہیں جو پاکستان سے کوئی لگاؤ رکھتا ہو۔1979ء کے بعد پاک افغانستان تعلقات کی ایک تاریخ رقم ہوئی ہے۔اس دوران میں باہمی اعتماد کی موت بھی واقع ہو چکی۔میں نہیں جانتا کہ پاکستانی ریاست کے پاس کوئی ایسا فسوں موجود ہے جسے پڑھ کر اس کے تنِ مردہ میں پھر جان ڈالی جا سکتی ہے۔
افغانستان اور اس خطے کے امن کی ضمانت صرف اس میں ہے کہ یہ ملک انسانی تہذیب کے قافلے سے آ ملے۔انسانی تہذیب کو کوئی تصور جمہوریت کے بغیر نامکمل ہے۔جب تک افغانستان میں اقتدار کی منتقلی کا کوئی پرامن راستہ موجود نہیں، خانہ جنگی اس ملک کا مقدر رہے گی۔جمہوریت ہی اس کا واحدحل ہے۔جمہوریت کا مطلب عام شہری کے ہاتھ میں بندوق کے بجائے ووٹ کی پرچی دینا اور اسے یہ باور کرانا ہے کہ یہ پرچی اسی طرح اس کے مفاد کی حفاظت کر سکتی ہے جس طرح،اس کے خیال میں بندق کرتی ہے۔
افغانستان میں سرِ دست اس کا کوئی امکان نہیں۔اس لیے میں یہ تجزیہ کرنے پر مجبور ہوں کہ مجھے افغانستان میں صرف خانہ جنگی دکھائی دیتی ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو کیونکہ ایک ملک جب قبرستان بنتا ہے تو سب سے زیادہ اس کے شہری ہی اسے آباد کرتے ہیں۔افغانستان صرف سوویت یونین اور امریکہ کا قبرستان نہیں ہے،اس کی سرزمین کو امریکیوں اور روسیوں سے زیادہ افغانوں کے لہو نے سیراب کیا ہے۔