افغانستان کے حوالے سے مسلم ممالک کا کردار-فتح محمد ندوی

افغانستان یا اسی طرح دوسرے کمزور ممالک کے حوالے سے یہ بات مجھے ہمیشہ تکلیف میں ڈالتی ہے کہ دیگر مسلم ممالک خصوصا سعودی عرب کا کردار قابل مذمت اور افسوس ناک ہے۔کتنے ہی غریب ملک ایسے ہیں جن کے عوام خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ان کے پاس اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے بھی ضروری سامان نہیں۔ تعلیم اور دیگر سماجی ترقیاتی منصوبوں کی بات تو درکنار۔ افسوس کہ ان سنگین حالات میں دنیا میں کوئی ان کا پرسان حال نہیں ۔باہمی تعاون، ان کا خیال اور دفاع تو کجا۔
افغانستان کے عوام صدیوں سے جس لاچاری اور پریشانی کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہے۔اس غربت اور تنگدستی کے سبب دنیا سے ان کا ہر قسم کا تہذیبی ثقافتی معاشی اور سماجی رشتہ بالکل ختم اور الگ تھلگ ہے۔ بلکہ معاصر دنیا سائنس اور تعلیمی ترقی کی اس دوڑ میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن افغان قوم اپنے افلاس اور قلت اسباب کی وجہ سے کوہ ودمن کے بیچ  خاک چھان رہی ہے۔ اگر افغان قوم کے پاس موجودہ دنیا کا یہ ترقی یافتہ پلان ہوتا اور ان کو ہر قسم کے وسائل فراہم ہوتے تو وہ بھی معاصر دنیا کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر اپنی شمولیت کا اعتراف اور اعلان کر اتے اور دنیا کے کسی ظالم یا غاصب کی یہ ہمت نہ ہوتی کہ ان کی طرف بری نظر سے دیکھ لیں۔ دنیا میں وہی قومیں دیگر قوموں کی قیادت کا فریضہ انجام دے سکتی ہیں جن کے اندر باہمی تعاون اور اشتراک کا جذبہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائی کو اپنے برابر کھڑا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس کے برعکس وہ قومیں جو مفاد پرستی اور خود غرضی کے بھنور میں پھنس جاتی ہیں وقت اور حالات ان سے قیادت کا اعزاز اور تمغہ بھی چھین لیتے ہے۔ پھر وہ قومیں ہمیشہ کے لیے رسوائی کے قعر مزلت میں جاگرتی ہیں۔
ذکر تھا افغان قوم کی بدحالی اور ہماری بے حسی کا، افغان قوم کے حوالے سے آج جو حالات ہم دیکھ رہے ہیں ان کی ذمہ دار تمام تر مسلم دنیا ہے۔ اگر باہمی تعاون سے سعودی عرب جس طرح دیگر ملکوں کی مدد اور امداد کرتا ہے کاش وہ افغان قوم کی اس حالت زار پر بھی سوچتا تو وہاں جنگ کے یہ حالات ہی پیش نہ آتےاور وہاں کی سر زمین معصوموں کے خون سے لالہ زار نہ ہوتی۔لیکن یہاں افسوس اور غم اس بات کا ہے کہ خود مسلم ممالک نے افغان قوم کو تباہ و برباد کر نے میں کوئی کسر اور موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
اگر مسلم ممالک خصوصاً سعودی عرب افغان قوم کے استحکام اور ترقی کے لیے ایک پلاننگ کے تحت پیش رفت کرتا تو لا محالہ اس کا فائدہ اسی کو ملتا اور شاید پھر قتل و قتال اور خونریزی کی یہ نوبت ہی نہ آتی۔اور لاکھوں لوگ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش نہ کرتے۔ کیونکہ آمادہ جنگ وہی قومیں ہوتی ہیں جو برے حالات اور تنگ دستی کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہوتی ہیں اورطاقت ور قومیں انہیں غریب اور نہتے ہونے کی وجہ سے ستاتی رہتی ہیں۔
خیر افغانستان کے حوالے سے ان ممالک کا کردار مثبت یا منفی اپنی جگہ ان کی کیا مصلحت وہ جانے۔ البتہ ایران کا کردار افغان قوم کے حوالے سے نہایت منافقانہ اور حد درجہ گھٹیا اور مذموم عزائم اور مقاصد کا پیش خیمہ ہے۔ ایران نے ایک پڑوسی ملک ہونے کی حیثیت سے جس طرح افغانستان کی تقسیم کا پلان طے کیا ہوا ہےاور ابھی اس کے مشن میں افغان قوم کے حوالے سے جو گھٹیا سوچ اور منافقت ہے وہ کسی مورخ اور حالات سے واقف کار طالب علم سے مخفی نہیں۔ میری معلومات کے مطابق بلکہ میں اس بات کو دعویٰ اور دلیل سے کہہ سکتا ہوں کہ افغان قوم کے ان ناگفتہ بہ حالات کا برابر ذمہ دار ایران بھی ہے۔ افغانستان کے شمالی اتحاد کے رہنما احمد شاہ مسعود کو ایران نے اپنی اس مذموم پالیسی کے لیے خوب استعمال کیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے افغان کے اس دور خانہ جنگی میں جب افغان قوم نازک حالات سے گزر رہی تھی ان آستین کے سانپوں سے افغان قوم کی حفاظت فرمائی اور یہ لوگ اپنے مشن میں کا میاب نہ ہوسکے۔
سچی بات یہ ہے کہ حمام میں سب ننگے ہیں ہر ایک کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ کس کس کا رونا رویا جائے۔بلکہ ان تمام باتوں کو ذکر کر کے خود اپنی جگ ہنسائی ہے۔ہمیں اپنی غلطیوں کا البتہ اعتراف کر کے باہمی اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ پیش کرنا چاہیے۔یہ بھی یاد رہے کہ اگر افغان عوام کے معاشی حالات مستحکم نہیں ہوپاتے، تو خطے میں امن کی بحالی مشکل ہوگی۔اس لیے ہرحال میں ان کا تعاون اشد ضروری ہے۔خاص طور سے ان کے تعلیمی اور معاشی استحکام کے بعد ہی امن و شانتی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا،لہذا تمام پڑوسی ملک امن و آشتی کی بحالی میں افغان قوم کے حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔