افغانستان اور دہشت گردی کا مسئلہ ـ یاسر ندیم الواجدی

 

افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال سے جو چیز سب سے زیادہ واضح طور پر سامنے آئی ہے، وہ مختلف ممالک کی سیاست کے پیچھے چھپی ہوئی منافقت ہے۔ ان ممالک کے مفادات طے کرتے ہیں کہ کب کس جماعت کو دہشت گرد کہنا ہے اور کس کو اس خانے سے نکالنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک دہشت گردی کی کوئی متفقہ تعریف دنیا میں پیش نہیں کی جا سکی ہے۔ ایک ہی جماعت ایک ملک کے نقطہ نظر سے دہشت گرد ہے، تو دوسرے کے نقطہ نظر سے آزادئ وطن کے لیے سرگرداں تحریک۔

جب امریکی مفادات کا تقاضہ تھا کہ سوویت روس کو شکست دی جائے تو افغانی مجاہدین تمام مغربی ممالک کی نظر میں مجاہدین تھے۔ سوویت روس کو بھگانے کے بعد تقریبا پانچ سال تک افغانستان کشت و خون میں ڈوبا رہا، پڑوسی ممالک نے اپنے مفادات کے مطابق گروپ منتخب کرلیے اور مخالف گروپوں کو دہشت گرد کہنے لگے۔ جب مدارس سے نکلے ہوئے طلبہ نے ملک کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر امارت اسلامی قائم کی، تو تین ممالک کے علاوہ ساری دنیا ان کو دہشت گرد کہنے پر متفق نظر آئی۔ اگلے پانچ سال امن وسکون کے گزرے، خواتین کی عصمتیں محفوظ رہیں، انصاف کا بول بالا ہو گیا، امریکہ میں مقیم ایک افغانی خاندان نے مجھے بتایا کہ وہ چار سال سے جائیداد کو لے کر مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے تھے، لیکن امارت کے دور میں صرف آدھے گھنٹے کے اندر شریعت کی روشنی میں مقامی عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔

مغربی تہذیب کے نمائندہ ممالک کو یہ چیز کہاں راس آسکتی تھی، انہوں نے ایک ڈرامہ رچا اور طلبہ کی حکومت ختم کرنے کے لیے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پھر حملہ آوروں نے یہ شور مچایا کہ ہم سے مزاحمت کرنے والے طلبہ آج سے دہشت گرد کہلائیں گے۔ بیس سال تک جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح "دہشت زدہ” غیر ملکی افواج نہتے "دہشت گردوں” سے نبرد آزما رہیں۔ یکایک مغربی تہذیب کی بقاء کے ضامن: سرمایہ دارانہ نظام کے رکھوالے امریکی صدر نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمارا سرمایہ کیونکہ بہت ضائع ہو چکا ہے، اس لیے اب ہمیں واپس آجانا چاہیے، لیکن واپس آئیں تو کس طرح؟ اگر دبے پاؤں نکلیں، تو امریکہ کو تاریخی رسوائی سے کوئی نہیں بچا سکتا، اس لیے طے پایا کہ "دہشت گردوں” سے مذاکرات کیے جائیں، لیکن دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، اس لیے اب ان کو دہشت گرد نہ بولا جائے، تاکہ مذاکرات کے بعد یہ کہا جا سکے کہ حملہ آور افواج اپنے مشن کی تکمیل کے بعد فریقین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں نکل رہی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ دہشت گردی ایک سیاسی اصطلاح ہے، جس کو معاشرے کی سلامتی کا مسئلہ بناکر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کابل انتظامیہ کو اگرچہ پوری دنیا نے بطور حکومت تسلیم کیا ہے، لیکن خود افغانیوں کی اکثریت نے اس کو بحیثیت وفاقی حکومت کبھی تسلیم نہیں کیا۔ کسی بھی حکومت کے جواز کا معیار یہ ہے کہ ملکی سطح پر اس کو قبولیت عامہ حاصل ہو اور نام نہاد افغانی حکومت اس معیار پر کبھی پوری نہیں اتری۔ بیس سال پہلے ایک جائز اور عوام میں مقبول حکومت کو طاقت کے بل بوتے پر ختم کرکے ایک ناجائز حکومت قائم کی گئی تھی اور اس کو جواز عطا کرنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک نے فوری طور پر اس کو تسلیم کر لیا تھا، آج جب امریکی اور نیٹو افواج شکست خوردہ ہو کر افغانستان سے لوٹ رہی ہیں، یکے بعد دیگرے ملک کے اضلاع پُرامن طور پر طلبہ کے زیر نگیں آرہے ہیں۔ ان اضلاع کا بلا مزاحمت یا ہلکی مزاحمت کے بعد زیر نگیں آنا دلیل ہے کہ افغانی عوام بیس سال پرانی حکومت کے منتظر ہیں، اس صورت حال کو یوں تعبیر کیا جاسکتا ہے کہ مکان کے مستحق افراد مکان میں داخل ہورہے ہیں، اس داخلے کو مغربی یا بھارتی میڈیا کی زبان میں قبضے سے تعبیر کرنا عصبیت کی کھلی دلیل ہے۔ قبضہ دوسرے کی ملکیت پر ہوتا ہے، اپنے گھر میں انسان عزت کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔ سوال کابل پر قابض انتظامیہ سے ہونا چاہیے کہ وہ پرامن طور پر اقتدار کی منتقلی کا عمل کب انجام دیں گے، تاکہ افغانی عوام امارت کے تحت زندگی گزارسکے اور انھیں کھویا ہوا امن دوبارہ نصیب ہو۔

رہی بات دہشت گردی کی، تو دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد وہ سرمایہ دار ہیں، جن کی ہتھیاروں کی فیکٹریاں اسی وقت چلتی ہیں، جب دنیا میں جنگیں ہوں، لہذا یہ لوگ سیاستدانوں کو خریدتے ہیں، تاکہ سرمایہ داروں کے مفادات کو ملک کے مفادات قرار دے کر دنیا میں جنگیں مسلط کی جا سکیں اور اپنے فاسد نظریات کو فروغ دینے کے لیے صحیح نظریات کے حامل افراد کو صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکے۔ فاسد اور صحیح کا معیار بھی جان لیجیے۔ جو نظریات ومفادات سرمایہ کے زیرسایہ بدل جایا کریں وہ فاسد ہوتے ہیں اور جو نظریات سرمایہ سے بے فکر ہوکر پہاڑوں جیسی صلابت کے ساتھ قائم رہیں وہ صحیح ہوتے ہیں۔

آخری بات طلبہ سے ہے کہ وہ امارت کے وفاقی ڈھانچہ کو قائم کرنے کے بعد اس کو مستحکم کرنے کی طرف توجہ دیں، ان کے دستور میں وضاحت کے ساتھ اس چیز تذکرہ بھی ہونا چاہیے کہ ایک امیر سے دوسرے امیر کی طرف اقتدار کی منتقلی کا طریقہ کار کیا ہوگا، پھر اس طریقہ کار پر عمل درآمد کے لیے عزم مصمم بھی ہو تاکہ امارت کو ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ میں بدلنے کی کسی بھی کوشش کو رد کیا جاسکے۔ داعش کے نام پر مغربی استعمار کے کارندے بھی اپنے بال وپر نکالیں گے، تاکہ ملک میں امن وامان قائم نہ ہوسکے، بشمول ایران تمام ہمسایوں سے اگر برادرانہ تعلقات نہیں ہوں گے، تو حقیقی دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکے گا۔