افغان،طالبان: اندازے اور امیدیں ـ وقار احمد ندوی

 

موجودہ طالبان کتنے اچھے ہیں یا کتنے برے، حتمی طور پر یہ تو وقت ہی بتائے گا، البتہ امید رکھ سکتے ہیں کہ یہ "حقانی طالبان” نہیں ہوں گے، "امریکی طالبان” ہو سکتے ہیں ـ امریکہ نے کم وبیش بیس سال لیے ہیں، تب جا کر ایک کھیپ تیار ہوئی ہے. لیڈرشپ کی تیاری میں کافی محنت اور سرمایہ لگایا ہوگاـ اتنی آسانی سے اقتدار کی منتقلی بلا وجہ نہیں ہےـ امید ہے اب ہندوستان کا طیارہ قندھار نہیں لے جایا جائے گاـ اطمئنان کر سکتے ہیں کہ ملا عمر، اسامہ اور ان کے ہم خیال رفقا تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ـ طالبان کا بیانیہ بدلا ہوا ہے، ان کی باڈی لینگویج پہلوں جیسی نہیں ہے، جو بھی ہوگا پہلے سے بہتر ہوگا، ایسا سوچنا غلط نہیں ہےـ

بحیثیت ہندوستانی شہری، ہندو ہوں یا مسلمان، اس معاملہ میں ہمارے خوش یا ناخوش ہونے کا کوئی مطلب نہیں ہے، یہ افغانیوں کا اندرونی معاملہ ہےـ ہماری خواہش ضرور ہے کہ طالبان اچھے پڑوسی ثابت ہوں ـ ہماری سرمایہ کاری کے تحفظ کی ضمانت دیں ـ ایک پڑوسی کی حمایت میں دوسرے پڑوسی کے خلاف صف آرا نہ ہوں ـ ہمارا ملک پہلے بھی ان کے لیے بہت کچھ کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گاـ

ہمارے پاس ان کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے. اساتذہ، کتابیں، اطبا، دوائیاں، خوردنی اشیا، کپڑے، گاڑیاں، انجینیرس اور ٹکنیکل افراد وغیرہ؛ جو چاہیں جتنی مقدار میں چاہیں نہایت معقول قیمتوں کے عوض حاصل کر سکتے ہیں۔

 

ہندوستانی قیادت کے لیے موجودہ حالات میں مناسب ترین پالیسی یہ ہو سکتی ہے کہ وہ افغانستان میں اپنے مفادات کو امریکی مفادات سے نتھی کر دے یا قریب تر رکھےـ فائدے کا امکان زیادہ اور نقصان کا اندیشہ کم ہو جائے گاـ

 

سیاسی رشتے مفادات کے تابع ہوتے ہیں. سیاست میں کوئی دائمی دوست یا دائمی دشمن نہیں ہوتاـ دوستی اور دشمنی حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہےـ امریکہ بھی بدل چکا ہے، طالبان بھی بدلے ہیں، ہندوستان کو بھی احتیاط کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ اپنی پالیسی پر نظر رکھنی ہوگی اور بدلتے رہنا ہوگاـ ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہتر نہیں ہیں لیکن ہندوستان ایران کا اچھا دوست ہےـ خدا نا خواستہ ہمارے اندازے غلط ثابت ہوں اور امریکہ طالبان سے رشتے استوار نہ کر پائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہندوستان بھی لازما طالبان کو اپنا دشمن سمجھےـ

ویسے ہمارے وزیر خارجہ ایس جے شنکر بڑے قابل فاضل انسان ہیں، ڈپلومیسی کا لمبا تجربہ بھی رکھتے ہیں اور ان کے ذاتی تعلقات کا دائرہ بھی بڑا وسیع ہے، یقین ہے کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی کو درست سمت میں رواں رکھتے ہوئے ہر طرح کے سفارتی بحران پر احسن طریقہ سے قابو پا لیں گےـ

 

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے طالبان سے شکست کھا کر بوریا بستر باندھا ہے، وہ چاہیں تو اپنی سوچ درست کر سکتے ہیں ـ زمینی حقیقت یہ ہے کہ تا حال امریکہ کو شکست دینے والی کوئی طاقت روئے زمین پر وجود نہیں رکھتی ہےـ عالمی بازار امریکی ڈالر میں لین دین اور خرید فروخت سے جس دن بے نیاز ہو جائے گا اس دن امریکہ کے زوال یا شکست کی بابت بات کی جا سکے گی، ہنوز واشنگٹن دور است. سابقہ حکومت امریکی امداد کی دست نگر تھی اور طالبان بھی اسی کے سہارے حکومت کر پائیں گےـ