افغان قوم کو آزادی سے جینے کا حق دیا جائے ـ فتح محمد ندوی

امیر شکیب ارسلان نے افغانستان کے باسیوں کا ذکر ان الفاظ سے کیا ہے۔
میری جان کی قسم اگر ساری دنیا میں اسلام کی نبض ڈوب جائے۔ کہیں بھی اس کی زندگی میں رمق باقی نہ رہے۔ پھر بھی کوہ ہمالیہ اور ہندوکش کے درمیان میں بسنے والوں میں اسلام زندہ رہے گا اور ان کا عزم جوان رہے گا۔( دریائے کابل سے دریائے یرموک تک) شکیب ارسلان کے افغانستان کے حوالے سے یہ تاریخی جملے اپنی سچائی،حجت اور ثبوت کے اعتبار سے افغان قوم کے ہر فرد کی پیشانی پر ثبت ہیں۔بلکہ انہوں نے ہر دور میں اسلامی غیرت اور حمیت کی خاطر اپنی قربانیوں سے اپنی تاریخ ان پتھروں پر لکھی ہے جن کے دامن میں افغان قوم اور ان کی نئی نسل جوان ہوتی ہے۔ افغان قوم کا یہ بھی ایک تاریخی کمال اور اسلامی حمیت کا ثبوت ہے کہ اس قوم کا کسی بھی حال اور کسی بھی صورت اور زمانے میں اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت اور اقدار سے رشتہ اور محبت میں کمی اور اضمحلال واقع نہیں ہوا۔
بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں افغانستان کے پایہ تخت پر امیر امان اللہ خاں اپنے والد حبیب اللہ خاں کے قتل کے بعد براجمان ہوئے ۔انہوں نے افغانستان کو مغربی کلچر میں پوری طرح شامل کرنے کے لیے ترکی کے مصطفی کمال پاشا کو اپنا آئیڈیل اور ہیرو بنایاان کی اس جدت پسندی اور ملحدانہ فکر و خیال کے خلاف افغان علما اور عوام سڑکوں پر اتر گئے اور ان کے اس ملحدانہ نظام کا تختہ الٹ کر حبیب اللہ (بچہ سقا) کو افغانستان کا حکمران بننے کا موقع مل گیا۔لیکن چند ماہ کے بعد ہی نادر خاں نے اس سے اقتدار چھین کر خود افغانستان کے فرماں رواں بن گئے۔اب ‌نادر خاں نے افغانستان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد افغانستان کو تعلیمی معاشی اور سماجی اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے میدان میں ان کی شناخت اور پہنچان بنانے اور ان کو معاصر دنیا کے ساتھ کھڑا کر نے میں جوبے پناہ جدوجہد کی اس کے لیے اس مرد مجاہد اور نیک نام حکمراں کو برصغیر کی تاریخ صدیوں یاد رکھے گی۔ نادر خاں کی افغان قوم کی تعلیمی اور معاشی استحکام کے لیے جہد مسلسل اور ملی غیرت اور حمیت کا ثبوت آج بھی باقی ہے۔ کابل میں واقع یونیورسٹی کا قیام ان کی مسلسل کو ششوں کا خوبصورت اعلان اور اعتراف ہے۔ تاہم جلدی ہی ان کی مثبت کوششوں کو کسی کی نظر لگ گئی۔افغان قوم کے ایک ظالم نوجوان نے اس نیک دل اور باغیرت حکمران کو شہید کر کے اپنی آخرت برباد کی۔
نادر خان کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے ظاہر شاہ اقتدار کی دوڑ میں شامل تھے۔ تاہم ان کو موقع نہیں دیا گیا بلکہ ان کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی سردار داؤد خاں ان کو برطرف کر کے اقتدار پر قابض ہو گیا لیکن جلد ہی اس سے اقتدار چھین کر ظاہر شاہ نے بزورِ طاقت اپنے قبضہ میں لے لیا۔کچھ دنوں بعد جبکہ ظاہر شاہ کسی سرکاری سفر پر تھے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پھر سردار داؤد خاں نے ظاہر شاہ کو اقتدار سے بے دخل کرکے افغانستان پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔
سردار داؤد خاں پورے طور پر اسلام مخالف تھا اس نے افغانستان میں اسلام کے زور کو ختم کرنے کےلیے روس اور مغرب نوازی کا سہارا لیا بلکہ اس نے خود روس کی گود میں بیٹھ کر افغان قوم کی تباہی اور بربادی کا آلہ کار اور پیش خیمہ بن کر افغان قوم کو آگ اور خون کے حوالے کر دیا۔ مدتوں افغان قوم اور علما پر ہر قسم کا ظلم روا رکھا گیا ۔آخر سردار داؤد خان کے ان کمیونزم اور لادینیت کے لے پالک بیٹوں نے سردار داؤد خان کو معزول کرکے اس کے پورے خاندان،فوجی کمانڈر اور وزرا کو قتل کر کے افغانستان پر سرخ جھنڈا لہرانے کے راستے ہموار کر لیے۔اب افغان قوم کا مقدر روس کےظالم اور دین کے دشمن حکمراں اور افغانستان میں ان کی ناجائز اولاد نور محمد ترکئی حفیظ اللہ امین کے ہاتھوں میں آگیا۔ لیکن یہ دو نوں روس سے اپنی محبتوں کا ثبوت پیش کرتے ہوئے قتل ہوگئے۔ صدر نور محمد ترکئی کے چند سال اقتدار کے بعد اب روس اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ افغانستان پر زبردستی قابض ہوگیا۔ تقریباً نو سال تک افغانستان اس کمیونزم اور الحادی دور میں سخت مصائب اور حالات سے گزرا جس کے ذکر سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ روس نے اپنی طاقت اور قوت کے نشے میں ظلم و جبر کی پوری پچھلی تاریخ کو ماند کر کے تاریخ انسانی میں ازسر نو اپنے قہرماں نظام کی وہ قیامت خیز داستاں رقم کی جو ظلم و بربریت کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
افغان قوم نے اپنی ماضی کی جرات و ہمت بہادری اور دلیری کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے متحدہ قومی حمیت اور ملی غیرت کا ثبوت پیش کرتے ہوئے روس کے دانت کھٹے کردیے اور امریکہ کی طرح ذلت و رسوائی کا طوق اپنے وقت کی سپر طاقت روس کے گلے میں ڈال کر ان کو واپس روس میں بھیج دیا۔روس کے شکست کھانے کے بعد افغانستان پھر آپسی خانہ جنگی میں داخل ہو گیا۔ ۱۹۹۶ سے ۲۰۰۱ تک پوری افغان قوم آپس میں لڑتی رہی۔
جس طر ح افغانسان کے صدر امیر امان اللہ نے مصطفی کمال پاشا کی لادینی سوچ اور خیال کو افغان عوام نے اپنے پیروں تلے روند کر رکھ دیا تھا۔ پھر انہوں نے سردار داؤد خان کے خلاف میدان میں آکر اس کے لادینی روسی باطل نظام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔اس کے بعد روس اور اس کے ہم خیال حکمرانوں پھر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقابلہ کیا۔اس پوری کشمکش سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ افغان قوم آزادی سے جینا چاہتی ہے اور اب معاصر دنیا کو یہ چاہیے کہ وہ افغان قوم کو آزادی دے کر امن و سکون اور اپنی مرضی سے جینے کا حق عطا کریں۔