افغانوں کو بھوک سے بچانے میں دنیا مدد کرے: اقوام متحدہ

نیویارک:اقوام متحدہ کو افغانستان میں امداد کے لیے 2022 میں پانچ ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاکہ اسے تباہی سے بچایا جا سکے اور 40 سال کی مشکلات کا سامنا کرنے والے اس ملک کا مستقبل محفوظ کیا جاسکے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ ایک ہی ملک کے لیے کی جانے والی اقوام متحدہ کی پہلی بار اتنی بڑی رقم کی اپیل ہے۔ادارے کا کہنا تھا کہ چار اعشاریہ چار ارب ڈالر کی ضرورت افغانستان میں ہے جبکہ مزید 62 کروڑ 30 لاکھ دیگر ممالک میں پناہ لینے والے لاکھوں افغانوں کی مدد کے لیے درکار ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دو کروڑ 20 لاکھ افراد جبکہ پانچ پڑوسی ممالک میں 57 لاکھ دربدر افغانوں کو رواں سال ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔ ادارے کے سربراہ مارٹن گرفتھ کا کہنا ہے کہ میرا پیغام اہم ہے، افغانستان کے لوگوں کے لیے دروازے بند نہ کریں۔ بھوک، بیماری، غذائی قلت اور اموات کو روکنے میں ہماری مدد کریں۔طالبان کے گذشتہ برس اگست میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے ملک شدید مالی مسائل سے دوچار ہے اور وہاں مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔امریکہ نے افغانستان کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کردیئے ہیں جبکہ امدادی سامان کی فراہمی میں کافی مسائل ہیں۔افغانستان کو 2021 میں بدترین خشک سالی کا سامنا بھی رہا۔جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارٹن گرفتھ کا کہنا تھا کہ ’امداد کے بغیر ’(افغانوں کا) کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر فنڈنگ ہوئی تو امدادی ادارے افغانستان کو کھانا اور زرعی سپورٹ، طبی سہولیات، غذائی قلت کا علاج، شیلٹر اور پانی کی رسائی فراہم کر سکیں گے۔ واضح رہے کہ رواں برس تقریباً 47 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا سامنا کریں گے، اس میں 11 لاکھ بچے شامل ہیں۔مارٹن گرفتھ کے مطابق یہ رقم 160 این جی اوز اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو دی جائے گی۔ کچھ رقم طبی سٹاف سمیت فرنٹ لائن ورکرز کو دی جائے گی۔ تاہم یہ طالبان انتظامیہ کے ذریعے نہیں کیا جائے گا۔تعلیم کے حوالے سے افغانستان کی صورتحال کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 80 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہوسکتے ہیں کیونکہ اساتذہ کو زیادہ تر اگست سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔