Home تجزیہ اعتبارکی موت – ودود ساجد

اعتبارکی موت – ودود ساجد

by قندیل

اگر ممتاز ماہرین قانون اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سبکدوش جج حضرات ‘ عدالتوں اور خاص طور پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تعلق سے کھلے عام مایوسی ‘ ناامیدی اورنقد ونظر کا اظہار کریں تو ہم جیسےعام لوگوں کی تشویش کا پیمانہ کیا ہوگا۔

دفعہ 370 کے فیصلہ پر معروف بزرگ ماہر قانون ’ فالی ایس ناریمن‘ نے کھلے طور پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلہ کو غلط اور قانونی طور پر ’برا‘ قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سبکدوش جج جسٹس روہنٹن ناریمن نے بھی کہا ہے کہ ملک کے پریشان کن حالات میں سپریم کورٹ کے چند فیصلے اور سیاسی واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔

دفعہ 370 کے فیصلہ کے حوالہ سے جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں اور خاص طور پر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھی مایوسی اور نقد ونظر کا اظہار کیا ہے۔ادھر متھرا اور بنارس کی مسجدوں کے تعلق سے مقامی عدالتوں ‘ الہ آباد ہائی کورٹ اور خود سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں سے بھی متاثرہ فریق کو مایوسی ہوئی ہے۔ ان حالات میں عوام الناس کے ذہن میں عدلیہ کی جو تصویر بن رہی ہے وہ بہت تشویش ناک ہے۔

موجودہ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کو اس منصب پر آئے ہوئے ایک سال ہوگیا ہے۔ ان کا مزید ایک سال باقی ہے۔ اتنا یا اس سے زیادہ وقت بہت کم چیف جسٹس حضرات کے حصہ میں آیا ہے۔ اگلے پانچ برسوں تک تو دوسال بھی کسی چیف جسٹس کے حصہ میں نہیں آئیں گے۔ تاہم 2028 میں جسٹس جے بی پاردی والا اس منصب پر دو سال کےلیے فائز ہوں گے۔ وہ غالباً ملک کے پہلے پارسی چیف جسٹس ہوں گے۔
ملک کی سب سے بڑی (مسلم) اور اس سے چھوٹی (سکھ) اقلیت سے تعلق رکھنے والے جسٹس اے ایم احمدی اور جسٹس جے ایس کیہر بھی چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔

بہت سے جج حضرات سبکدوش ہونے کے بعد کچھ ایسی باتوں کا انکشاف کرتے ہیں کہ جو سننے میں حیرت انگیز لگتی ہیں اور انصاف کے طالب طبقات ہاتھ مل کر رہ جاتے ہیں کہ کاش ایسی کچھ بصیرت اور دردمندی ان جج حضرات نے اس وقت دکھائی ہوتی جب وہ منصب پر فائز تھے۔ موجودہ چیف جسٹس کے تعلق سے اس وقت بہت سے حلقوں نے بھاری بھر کم امیدوں کا اظہار کیا تھا جب انہوں نے یہ منصب سنبھالا تھا۔ لیکن اب تو خود ماہرین قانون اور سبکدوش جج حضرات ہی سپریم کورٹ کے تعلق سے تشویش اور شکوک وشبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اولین پیراگراف میں مذکور ممتاز ماہر قانون فالی ایس ناریمن اور سپریم کورٹ کے سبکدوش جج جسٹس روہنٹن ناریمن کی تشویشات اس ضمن میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ‘ پرتنکر دواکر نے 21 نومبر 2023 کو سبکدوش ہونے کے بعد اپنی الوداعی تقریب میں جو انکشاف کیا وہ بالکل اسی طرح حیرت انگیز تھا جس طرح خود ان کے دوتازہ فیصلے تھے۔

ایک فیصلہ میں جسٹس دواکر نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی ٹیم کے ذریعہ بنارس کی گیان واپی مسجد میں علی الصباح جارحانہ سرعت کے ساتھ سروے شروع کرنے کوجائز قرار دیا تھا۔ دوسرے فیصلہ میں انہوں نے گیان واپی مسجد کی انتظامیہ کے ایک مقدمہ کو عین اس روز اپنی عدالت کو منتقل کرنے کا حکم جاری کردیا جس روز دوسرے جج جسٹس پرکاش پاڈیا اس پر فیصلہ دینے والے تھے۔

جسٹس دواکرنے الزام عاید کیا کہ 2018 میں سپریم کورٹ کالجیم نے ان کا تبادلہ بدنیتی سے اور ہراساں کرنے کے لیے کیا تھا۔ اس انکشاف میں انہوں نے اس وقت کے چیف جسٹس آف انڈیا‘ جسٹس دیپک مشرا پر بطور خاص نشانہ سادھا۔ عام طور پر جج حضرات سبکدوشی کے بعد اپنی الوداعی تقریب میں اس طرح کے الزامات عاید نہیں کرتے۔ لازمی طور پر کوئی بات ضرور ہوگی کہ جس کے سبب جسٹس دواکر کو اپنے ساتھ ہونے والی ’بدنیتی‘ اور ’ہراسانی‘ کا اتنا دکھ تھا کہ انہوں نے پانچ سال تک اسے سینہ میں چھپائے رکھا اور اب جب وہ اخلاقی بندش سے آزاد ہوگئے تو انہوں نے عدالت کے احاطہ سے باہر آنے تک کا بھی انتظار نہیں کیا اور عین اس وقت جب انہیں ہائی کورٹ کے تمام جج اور بار ایسو سی ایشن کے تمام وکلاء الوداعیہ دے رہے تھے‘ اس دکھ کا اظہار کردیا۔

یہاں تک پھر بھی بات غنیمت تھی لیکن انہوں نے اس قضیہ میں موجودہ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ کا نام بھی جوڑ دیا۔ انہوں نے چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میرے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو درست کیا اور مجھے ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی سفارش کی۔ ہمیں ان کے ساتھ ہونے والی ’بدنیتی‘ اور ’ہراسانی‘ پر کچھ نہیں کہنا۔ اگر فی الواقع ان کے ساتھ ایسا ہوا ہے تو ہمیں ان کے ساتھ ہمدردی ہے۔ لیکن انہیں اس قضیہ کے ساتھ موجودہ چیف جسٹس کا نام نہیں جوڑنا چاہئے تھا۔ اگر وہ اپنی قانونی صلاحیت اور آئین کے مطابق فیصلہ لکھنے کی اہلیت اور سینیارٹی کی بنیاد پر چیف جسٹس مقرر ہوئے تھے تو یہ ان کا حق تھا اور اس میں چیف جسٹس کا شکریہ اداکرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایسا کرکے انہوں نے چیف جسٹس کی معتبریت پر ہی سوالیہ نشان کھڑا کردیا۔

گیان واپی کے سروے کا قضیہ یہ ہے کہ 21 جولائی کو ضلع عدالت نے گیان واپی کا سروے کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس کے خلاف مسجد انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے عارضی اسٹے جاری کرکے مسجد انتظامیہ کو الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کو کہا۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس‘ دواکر نے سماعت کے پہلے دن اے ایس آئی کی خوب سرزنش کی کہ آخر اتنے بھاری آلات اور جے سی بی کے ساتھ علی الصباح سروے کے لیے جانے کی کیا جلدی تھی۔ لیکن اگلے ہی روز انہوں نے اس سروے کو جائز قرار دیدیا۔

مسجد انتظامیہ نے ہندو فریق کی مقامی عدالت میں اس رٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں 2020 میں اپیل دائرکی تھی جس میں مسجد کی جگہ کو’ مکیشور مندر‘ کے طور پر بحال کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ مسجد انتظامیہ نے کہا تھا کہ یہ رٹ قابل سماعت ہی نہیں ہے۔ ایسی رٹ کی موجودگی میں مقامی عدالت کا سروے کرنے کا حکم جاری کرنا بجائے خود درست نہیں تھا۔ کیا مقامی عدالت کو اس رٹ پر ایسے وقت میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے تھا کہ جب ہائی کورٹ نے اس پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

3 اگست 2023 کوجب جسٹس پرکاش پاڈیا یہ فیصلہ سنانے والے تھے اسی روز چیف جسٹس دواکر نے اسے اپنی عدالت کو منتقل کرلیا۔ بعد میں جب متاثرہ فریق نے اس پر اعتراض کیا اور چیف جسٹس سے اس کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے کچھ تکنیکی خامیوں کا حوالہ دے کر اپنے فیصلہ کو جائز قرار دیدیا۔ سپریم کورٹ میں بھی متاثرہ فریق نے یہ سوال اٹھایا لیکن چیف جسٹس کی بنچ نے کہہ دیا کہ الہ آبادہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی نیت پر شبہ کرنا درست نہیں۔

چیف جسٹس دواکر 21 نومبر کو ریٹائر ہوگئے اور ان کی بنچ اس مقدمہ کو نہ سن سکی لیکن ان کی سبکدوشی کے بعد یہ معاملہ جسٹس روہت رنجن اگروال کی بنچ کو سونپا گیا جنہوں نے 19دسمبر 2023 کو مذکورہ بالا معاملہ پر فیصلہ دیتے ہوئے ہندو فریق کی عرضی کو قابل سماعت قرار دیدیا اور کہا کہ 1991 کا وہ ایکٹ جس کی رو سے عبادت گاہوں کی وہی حیثیت برقرار رہے گی جو 1947کو تھی‘ گیان واپی کے سروے کی راہ میں مانع نہیں ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ جس جج نے اس معاملہ کی 75سماعتیں کرکے 2021 میں فیصلہ محفوظ کرلیا تھا آخر اسے فیصلہ کیوں کرنے نہیں دیا گیا؟ کیا محض چند تکنیکی سوالات کی بنیاد پر اتنی تفصیلی سماعت کے بعد اس مقدمہ کو کسی اور بنچ کو منتقل کرنا درست تھا؟ پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ محض ایک دو سماعت کے بعد کیا گیا فیصلہ زیادہ قابل قبول ہوگا یا 75سماعتوں کے بعد کیا گیا فیصلہ زیادہ مستند ہوگا؟

اس سے قبل الہ آباد ہائی کورٹ نے متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کے سروے کے حکم کو بھی جائز قرار دیدیا۔ کاشی اور متھرا دونوں شہروں کی مسجدوں کے سروے کا حکم تقریباً ایک جیسا ہے۔ دونوں کے فیصلوں میں کہا گیا ہے کہ 1991کا عبادت گاہوں کے تحفظ کا ایکٹ ‘مذہبی مقامات کی حیثیت کے تعین کے لیے سروے کرنے سے نہیں روکتا۔ سوال یہ ہے کہ پھر اس ایکٹ کی افادیت اور ضرورت ہی کیا تھی؟ کیا یہ محض ایک دھوکہ تھا؟ اس سوال پر ماہرین قانون ہی بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ لیکن یہ ایکٹ نرسمہا رائو حکومت نے جس مقصد کے لیے وضع کیا تھا وہ مقصد تو کبھی کا فوت ہوچکا ہے۔ عدالتوں کے فیصلوں اور رجحانات سے نہیں لگتا کہ عدلیہ کے اندر اس ایکٹ کا تقدس برقرار رکھنے کی کوئی خواہش موجزن ہے۔

دفعہ 370 کے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر سیاسی اور آئینی ماہرین کی آراء آہی چکی ہیں۔ ماہرین قانون نے اسے غلط اور قانون میں ’برا‘ فیصلہ قرار دیا ہے۔ جموں وکشمیر کے بعض سیاسی لیڈروں نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ہے انصاف نہیں۔ اسی طرح کا احساس اس وقت ہوا تھا جب تمام شواہد بابری مسجد کے حق میں ہونے کے باوجود دفعہ 142کے تحت حاصل اختیارات کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے مسجد کی جگہ مندر کے لیے دیدی تھی۔ اس وقت بھی متاثرہ فریق کی طرف سے کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ ہے انصاف نہیں۔

گزشتہ 20دسمبر کو جمعیت علماء کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھی کہا کہ ہم اپنی مسجدوں سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ صورتحال صرف کسی ایک مخصوص لسانی یا مذہبی اقلیت ہی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ سیاسی جماعتیں بھی اس سے متاثر ہیں۔ دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کی ضمانت کی اپیل پر تفصیلی سماعت کے دوران جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ زور دے کر کہتی ہے کہ ٹرائل کے دوران یہ معاملہ دو منٹ بھی نہیں ٹک سکتا لیکن جب ان کا فیصلہ آتا ہے تو سسودیا کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ بار بار کہتی رہی ہے کہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے لمبے عرصہ تک ملزمین کو جیل میں نہیں رکھا جاسکتا لیکن کتنے ہی مسلم نوجوان بعینہ اسی صورتحال کا شکار ہیں اور سپریم کورٹ میں ان کی درخواست ضمانت پر بار بار سماعت ٹل جاتی ہے۔

یہ سطور ہمیں یقین ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا تک ترجمہ ہوکر ضرور پہنچیں گی۔ لہذا آخری سطور میں براہ راست انہی سے ایک بات عرض کرنی ہے۔ جسٹس روہنٹن ناریمن نے کم سے کم چار مثالیں دے کر ملک اور عدلیہ کے تعلق سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کی آزادی پر قدغن‘ غیر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں گورنروں کی کارکردگی‘ الیکشن کمیشن بل اور دفعہ 370 کے فیصلہ پر اپنی سخت رائے ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے عدلیہ کو انتہائی سخت موقف اختیار کرنا چاہیے ۔

مذکورہ بالا سطور کی روشنی میں بلا تکلف کہا جاسکتا ہے کہ عدلیہ کے حوالہ سے عوامی اعتبار کی موت ہوچکی ہے۔ چیف جسٹس صاحب! کیا آپ اس اعتبار کو زندہ کرنے کے لیے متاثرہ فریقوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو اسی طرح درست کرسکتے ہیں جس طرح آپ نے جسٹس دواکر کو الہ آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بناکر ان کے ساتھ ہونے والی ’ناانصافی‘ کو درست کیا تھا؟

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like