اے شہرِ امن و زیتون!۔نزار قبانی

ترجمہ:نایاب حسن

اے شہرِ قدس! اے مذاہبِ خداوندی کے مینار
اے وہ خوب صورت بچی،جس کی انگلیاں جلا دی گئی ہیں
اے شہرِ بتول! تیری آنکھیں غم زدہ ہیں
اے وہ نخلستان، جو پیغمبرِ آخرالزماں کی گزرگاہ رہی ہے
تیری راہوں کے پتھر بھی رنجیدہ ہیں
تیری مسجدوں کے مینار بھی ملول ہیں
اے شہرِ قدس! اے سیاہ چادروں میں لپٹی حسینہ!
’کنیسۂ قیامت‘ میں بروزِ اتوار کون گھنٹیاں بجائے گا؟
عیدِ میلاد کے موقعے پر کون بچوں کے لیے کھلونے خریدے گا؟
اے شہرِ قدس! اے رنج و غم سے نڈھال شہر!
اے پلکوں پر جھولنے والے آنسووں کے بڑے بڑے قطرے
اس ظلم کو کون روکے گا؟
اے مذاہب کے موتی!یہ تیری ذمے داری ہے
دیواروں کے پتھر سے خون کی چھینٹیں کون دھوئے گا؟
کون انجیل کو بچائے گا؟
کون قرآن کا تحفظ کرے گا؟
کون مسیح کو اس کے قاتلوں سے نجات دلائے گا؟
کون نوعِ انسانی کی حفاظت کرے گا؟
اے قدس!اے میرے شہر!
اے قدس! اے میرے محبوب!
کل،آیندہ کل، لیموں کے درخت پھولیں گے، پھلیں گے
بالیاں سبز ہوں گی اور زیتون لہلہائیں گے
آنکھیں ہنسیں گی
اور کبوترہجرت کی تکالیف سے نجات پاکر
پاکیزہ چھتوں کی طرف لوٹیں گے
بچے تیری گلیوں میں کھیلیں گے
اور باپ بیٹے تیرے چمکتے ٹیلوں پر
ایک دوسرے سے ملیں گے
اے میرے شہر!
اے شہرِ امن و زیتون!
نزار قباني

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*