عدم رواداری پرراہل گاندھی کابیان،نقوی چراغ پا

نئی دہلی:اقلیتی امورکے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے ہفتہ کے روز کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی کو بھارت اور امریکہ میں رواداری کے تناظرمیں نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ جاگیردارانہ فوٹو فریم میں فکس ‘فیملی ہندوستان کی ثقافت اور رواداری کونہیں سمجھے گی۔بین؎ الاقوامی برادری باربارہندوستان میںاقلیتوں کے عدم تحفظ کامسئلہ اٹھارہی ہے۔سی اے اے پرعرب ممالک کے علاوہ امریکہ اورانسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی سوال اٹھایاتھا،اس کے بعددہلی تشدداوراب اس نام پربے جاگرفتاریوں پربھی مستقل آوازیں آرہی ہیں۔گزشتہ د نوں امریکہ کی مذہبی حقوق کی تنظیم نے بھی تشویش ظاہرکی تھی ۔مرکزی وزیرنے اس پررائے ظاہرکرنے اورجواب دینے کی بجائے راہل گاندھی کونشانہ بنایاہے۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے سابق امریکی سفارت کار نکولس برنس کے ساتھ ڈیجیٹل بات چیت کے دوران دعویٰ کیاہے کہ امریکہ اورہندوستان رواداری اور کشادگی کے ڈی این اے کے لیے جانا جاتا تھا جو اب ختم ہوچکا ہے اور جوخودملک کو تقسیم کررہے ہیں ہے۔وہ خودکو قوم پرست کہہ رہے ہیں۔اس پر نقوی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاہے کہ کانگریس کے جاہلوں کو جو ہندوستان کے رواداری کے ڈی این اے کو تبدیل کرنے کا علم نہیںرکھتے ہیں ، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سناتن کلچرہندوستان کا ڈی این اے تھا ، اور رہے گا۔انھوں نے آئے دن ہورہی لنچنگ،بے جاکاروائیوں اورمنظم میڈیاٹرائل پرکچھ نہیں کہاہے۔انہوں نے کہاہے کہ ہندوستان کی اس ثقافت نے اتنے بڑے ملک میں کثرت میں وحدت کے فارمولے سے جوڑ دیا ہے۔ سینئر بی جے پی لیڈرنقوی کے مطابق ، وزیر اعظم نریندر مودی ، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سب کا ساتھ ، سب کا وکاس کے عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں،عدم رواداری کے سب سے بڑے شکار رہے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ زشی سنڈیکیٹ ملک کو بدنامی میں لانے میں پاگل پن کی سطح پر آگیا ہے۔انہوں نے الزام لگایاہے کہ کانگریسی لیڈران ملک کی شبیہ کو خراب کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔کبھی دہشت گردوں کی ہلاکت ، سرجیکل اسٹرائیک پر ہنگامہ آرائی ، کورونا کے ساتھ لڑائی سے متعلق الجھن اور اب ملک کو عدم روادار ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ملک کی ثقافت سلامتی اور اس کے تحفظ کے بارے میں کانگریس اور اس کے لیڈروں کی لاعلمی کی انتہاہے؟ راہل گاندھی پرحملہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہاہے کہ جاگیردارانہ فوٹو فریم میں فکس کنبہ ہندوستان کی ثقافت،ثقافت اور عزم کو برداشت نہیں کرے گا۔