عدلیہ میں میڈیا کا ٹرائل:حوصلہ افزا بھی،خطرناک بھی ـ ایم ودود ساجد

(پہلی قسط)

اس وقت سپریم کورٹ کے علاوہ ملک کی کم سے کم تین ہائی کورٹس میں مختلف معاملات میں زہریلے میڈیا کے خلاف سماعت چل رہی ہے۔۔۔ سپریم کورٹ میں ہی کئی الگ الگ اشوز پر سماعت ہو رہی ہے۔

اس کی مختلف بنچز اور کم سے کم تین ہائی کورٹس میں جو کارروائی جاری ہے اس میں عدالتی تبصرے بڑے دلچسپ بھی ہیں اور دور رس نتائج کے اعتبار سے بڑے خطرناک بھی۔۔ عدلیہ کا رخ صاف نظر آرہا ہے کہ وہ بعض ٹی وی چینلوں کے چیخنے چلانے اور اشوز کو غلط رخ دینے اور بعض اوقات فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششوں سے ناراض ہے۔۔ اس ضمن میں ریپبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ارنب گوسوامی کا نام سب سے اوپر ہے۔

ارنب گوسوامی نے اپنے کیریر کی ابتدا اس وقت کی تھی جب راجدیپ سردیسائی ان کے Boss ہوا کرتے تھے۔اس کے بعد میں نے ان کو Times of India کے چینل ٹائمز ناؤ کے ایڈیٹر کے طور پر دیکھا تو وہ میرے سب سے پسندیدہ صحافی بن گئے۔۔ مجھے ان کی بحث کا طرز بھی پسند آتا تھا جب وہ غلطی پر کسی کو نہیں بخشتے تھے۔۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ٹائمز ناؤ میں ایک بحث کے دوران ارنب گوسوامی نے شو سینا کے ایک ممبر پارلیمنٹ کو کہہ دیا تھا کہ کیا آپ اندھے ہیں؟ واقعہ یہ ہوا تھا کہ دہلی میں مہاراشٹر سدن کی کینٹین میں رمضان کے دوران شو سینا کے کچھ ممبران پارلیمنٹ کھانا کھا رہے تھے۔اسی دوران ایک روٹی جلی ہوئی آگئی۔۔ ممبران پارلیمنٹ نے سپروائزر کو بلوایا۔اتفاق سے وہ مسلمان تھا اور روزہ سے تھا۔شو سینا کے ایک ممبر پارلیمنٹ نے کہاسُنی کے دوران اس سپروائزر کے منہ میں زبردستی وہ جلی ہوئی روٹی ٹھونس دی۔۔ اسی واقعہ پر ارنب نے رات کے نو بجے بحث کی تھی اور سپروائزر کی حمایت میں شوسینا کو کٹگھرے میں کھڑا کردیا تھا۔

ٹائمز ناؤ سے استعفی دینے کے بعد جب ارنب گوسوامی نے اپنا چینل ریپبلک شروع کیا تو ان کا رویہ یکسر تبدیل ہوگیا۔۔ ان کے چینل میں این ڈی اے کے ایک ممبر پارلیمنٹ کے بھی پیسے لگے ہوئے ہیں۔اب تو وہ مودی نوازی میں اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ مودی نواز چینل تک ان سے اکھڑے اکھڑے رہتے ہیں۔۔ یہ تمام تمہید باندھنے کا مقصد ایماندار اور آزاد میڈیا کی اہمیت بتانا ہے۔۔ٹائمز ناؤ کے دوران ہونے والی ارنب کی بحثیں تاریخ کا حصہ ہیں۔۔سیاسی اشوز پر ارنب سے بحث کرنے سے کیا بی جے پی اور کیا کانگریس دونوں کتراتے تھے۔۔تنازعہ کے محور میں جو پارٹی ہوتی تھی اس کے ترجمان کو ارنب نے بیسیوں بار خون کے آنسو رلائے ہیں اور لوہے کے چنے چبوائے ہیں۔

ارنب کو گزشتہ روز ہی سپریم کورٹ سے بہت بڑا جھٹکا لگا ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ پال گھر (مہاراشٹر) میں بھیڑ کے ہاتھوں دو سادھوؤں کی لنچنگ میں موت کے بعد ارنب نے اس پر بحث کی تھی اور قضیہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سونیا گاندھی کے خلاف ماحول بنایا تھا۔اس لنچنگ میں وہ عیسائی مشنریوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔پھر جب لاک ڈاؤن کے دوران باندرہ (ممبئی) ریلوے اسٹیشن کے باہر گھروں کو واپس جانے کی خواہش رکھنے والے ہزاروں مزدور جمع ہوئے تو ارنب نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر مسلمانوں کی طرف رخ موڑنے کی کوشش کی۔اس میں اس نے اسٹیشن کے سامنے واقع ایک مسجد کا بھی حوالہ دیا۔

پال گھر والے معاملہ میں جب کانگریسیوں نے اس کے خلاف پانچ مختلف مقامات پر ایف آئی آر کرائی تو وہ دوڑ کر سپریم کورٹ پہنچ گیا۔حیرت ہے کہ سپریم کورٹ سے راحت مل بھی گئی۔پانچ ایف آئی آر کو ایک جگہ کرنے کے بعد جو انکوائری چل رہی تھی اس پر بھی بامبے ہائی کورٹ نے ارنب کو مزید راحت دیدی۔اس کے بعد مہاراشٹر اسمبلی نے شوسینا کے ایم پی سنجے راؤت اور مہاراشٹر کے وزیر اعلی اودھو ٹھاکرے کے خلاف بدزبانی کرنے کی پاداش میں ارنب کو 60 صفحات کا ایک مراعات شکنی نوٹس دیدیا۔اس میں اسے اسمبلی کو جواب دینا ہے اور اگر اسپیکر مطمئن نہ ہو تو اسے اسمبلی کی پری ولیج کمیٹی کے سامنے پیش بھی ہونا پڑسکتا ہے۔۔ یہ کمیٹی اسے جیل بھی بھیج سکتی ہے۔لہذا ارنب بھاگ کر پھر سپریم کورٹ پہنچا۔مہاراشٹر اسمبلی کو نوٹس جاری ہوگیا ہے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔

اس کے بعد ممبئی پولیس نے ٹی آر پی یعنی ٹیلیوژن ریٹنگ پوائنٹس کے حوالہ سے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا۔اس میں ارنب گوسوامی کے چینل ریپبلک کا بھی نام آیا۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹی آر پی کیا ہے۔دراصل یہ ایک تکنکی عمل ہے جس سے یہ پتہ لگایا جاتا ہے کہ کون سا چینل سب سے زیادہ دیکھا جارہا ہے۔اس کی اور بھی بہت تفصیل ہے لیکن مجموعی طور پر جو چینل سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے وہ ٹی آر پی میں نمبر ون ہوتا ہے۔ پرائیویٹ کمپنیاں اسے سب سے زیادہ اشتہارات دیتی ہیں۔ اسی کے حساب سے اشتہارات کے نرخ (Rate) بھی کم یا زیادہ ہوتے ہیں ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹی آر پی کا حساب کتاب رکھنے والی تنظیم BARC نے اس کے لئے ایک کمپنی Hansa کو ٹھیکہ پر رکھا۔۔ ہنسا نے تین چینلوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرکے وہ دو ہزارمیٹر (ریٹنگ کا پتہ لگانے والے الیکٹرانک ڈبے) اور بعض اطلاعات کے مطابق 44 ہزار میٹر جن غریب اور ناخواندہ لوگوں کے گھروں میں نصب کئے ان سے سودا کرلیا کہ وہ دن میں پانچ گھنٹے فلاں فلاں چینل کو ہی دیکھیں گے۔۔ اس کے عوض انہیں 400-500 روپیہ ماہانہ دئے گئے۔ان گھروں کو بڑی اسکرین والے رنگین ٹی وی سیٹ بھی مفت دئے گئے۔ اس سے ریٹنگ آئی تو انگریزی چینلوں میں ارنب گوسوامی کا چینل نمبر ون بن گیا۔۔۔ یہ دراصل 30 ہزار کروڑ روپیہ کے اشتہارات لینے کے لئے کیا گیا تھا۔۔ ظاہر ہے کہ یہ دھوکہ دہی تھی۔ممبئی پولیس نے اس سلسلہ میں دفعہ 420 اور 500 کے تحت ارنب کو نوٹس دیا اور دوسرے دو مقامی قسم کے چینلوں کے ذمہ داروں کو گرفتار کرلیا۔

ارنب گوسوامی کو ڈر ہوا کہ اگر وہ تھانے گیا تو اس کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔وہ اس نوٹس کے خلاف دوڑ کر پھر سپریم کورٹ پہنچا۔۔میں نے اسی وقت ٹویٹ کیا کہ آخر کیا بات ہے کہ ارنب چھوٹے چھوٹے معاملات میں دوڑ دوڑکر سپریم کورٹ پہنچ جاتا ہے اور راحت لے آتا ہے۔آخر وہ بامبے ہائی کورٹ کیوں نہیں جاتا۔ میں نے عدلیہ سے سوال کیا تھا کہ کیا میرے جیسا آدمی یا کوئی اور غریب شخص بھی اسی طرح پولیس نوٹس کے خلاف سپریم کورٹ جاکر راحت حاصل کرسکتا ہے؟۔ یہی وہ کیس تھا کہ جس پر سپریم کورٹ نے ارنب کو راحت نہیں دی۔۔ لیکن اس راحت نہ دینے میں بھی ارنب کو راحت مل گئی۔۔ اس کے وکیل کو سپریم کورٹ نے یہ چھوٹ دیدی کہ وہ پٹیشن واپس لے لے اور بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔سپریم کورٹ کی بنچ چاہتی تو پٹیشن کو خارج کردیتی اور ارنب سے یہ حق چھین لیتی کہ وہ بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔وہ ارنب پر جرمانہ بھی عاید کرسکتی تھی۔ ایسی کئی نظیریں موجود ہیں ۔

مذکورہ قضیہ میں سپریم کورٹ کی اس سہ رکنی بنچ کی سربراہی مقبول عام جج‘جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ کر رہے تھے۔جیسے ہی ان کی بنچ کے سامنے ارنب کا یہ کیس آیا انہوں نے فوراً ارنب کے وکیل سے سوال کیا کہ ”میرا خیال ہے کہ آپ کے موکل کا دفتر ورلی میں ہے۔وہ بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔“ ارنب کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ اس کی درخواست آرٹیکل 226 کے تحت یہیں سن لی جائے لیکن جسٹس اندو ملہوترا نے کہا کہ نہیں آپ آرٹیکل 482 کے تحت ہائی کورٹ جائیے۔۔۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے آپ کی پٹیشن کو سنا تو اس سے ایک غلط پیغام جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس چندر چوڑ نے یہ بھی کہہ دیا کہ یہ ایک رجحان چل پڑا ہے کہ آج کل پولیس کمشنرز انٹرویو دینے لگے ہیں۔۔ظاہر ہے یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ تھا جس میں ممبئی کے پولیس کمشنر نے ایک پریس کانفرنس کرکے ریپبلک چینل اور دوسروں کے خلاف ٹی آر پی کی دھوکہ دھڑی کے بارے میں بتایا تھا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی بنچ میں ارنب کا ایک اور کیس چل رہا ہے جس میں اس نے مہاراشٹر اسمبلی کے نوٹس کے خلاف اپیل کی ہے۔لیکن اس میں بھی چیف جسٹس نے جو کہا ہے اس سے لگتا ہے کہ ارنب کو کوئی راحت نہیں ملے گی اور اسے اسمبلی کے نوٹس کا جواب دینا ہی ہوگا۔

کچھ روز قبل کیرالہ ہائی کورٹ کی ایک رکنی بنچ نے بھی میڈیا کو بہت سخت سست سنائی ہے۔ایک معاملہ میں جج نے کہا: میں رپورٹروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ایوڈینس ایکٹ کی دفعہ 24 کا مطالعہ کریں۔اس کی رو سے کسی بھی معاملہ پر اس وقت تک میڈیا میں بحث نہیں ہوسکتی جب تک تحقیقات پوری ہونے کے بعد چارج شیٹ مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کردی جائے اور وہ اس کو سماعت کیلئے قبول نہ کرلے۔۔ یہ ایک بہت ہی شاندار فیصلہ آیا ہے۔اس میں جج صاحب نے کافی سخت ریمارکس پاس کئے ہیں اور وارننگ دی ہے کہ اگر آج کے بعد ریاست (کیرالہ) کے میڈیا نے اس فیصلہ کی خلاف ورزی کی تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔۔۔

یہ فیصلہ گوکہ کیرالہ ہائی کورٹ کا ہے اور یہ ریاست کے لئے ہی نافذالعمل ہے لیکن اسے دوسری ریاستوں میں بھی لاگو کیا جاسکتا ہے کیونکہ گواہی یا شہادت کا قانون پہلے سے ہی موجود ہے جو پورے ملک پر نافذالمعل ہے۔ اسی طرح آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے بھی ایک معاملہ میں میڈیا کو بہت سخت سست سنائی ہے اور ایک زمین کے قضیہ میں میڈیا کو پابند کردیا ہے۔۔ اسی سے پریشان ہوکر آندھرا پردیش کے وزیر اعلی جگن موہن ریڈی نے سپریم کورٹ کے نمبر دو جج جسٹس این وی رمانا کے خلاف چیف جسٹس کو ایک لمبا چوڑا خط ارسال کیا ہے۔۔ جسٹس رمانا اگلے چیف جسٹس ہیں ۔ اب وزیر اعلی کے خلاف کئی پٹیشنز سپریم کورٹ میں دائر ہوگئی ہیں کہ ایک تو انہوں نے اتنے سینئر جج کے خلاف سنگین الزامات لگائے ہیں اور اوپر سے وہ خط جو چیف جسٹس کو بھیجا تھا اسے پریس کو بھی دیدیا ہے۔ممکن ہے کہ کچھ دنوں میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلی کی بھی گوشمالی ہو۔

حکومت حسب توقع وہی کر رہی ہے جو بی جے پی کی پالیسی ہے۔۔ جب معاملہ اس کے تلوے چاٹنے والے صحافیوں کا ہوتا ہے تو وہ آئین کے آرٹیکل 19 (A) 1-2 کا حوالہ دے کر پریس کی آزادی کو سپریم بتاتی ہے لیکن جب معاملہ ان صحافیوں کا ہوتا ہے جو اس کے نقائص کی نشاندہی کرتے ہیں تو وہ ان کے خلاف ڈٹ کر عدالت میں کھڑی نظر آتی ہے۔ایسے میں یہ بڑا مشکل ہوگیا ہے کہ حکومت کے خلاف ایماندار صحافی کیسے کام کریں اور بدزبان اور زہریلے چینلوں اور صحافیوں کو کیسے قابو کیا جائے۔

یوپی میں ایسے بیسیوں صحافی جیلوں میں ہیں یا مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جو یوگی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔اور جب صحافی مسلمان ہو تو اس کے خلاف تو سیدھے ملک سے غداری کا مقدمہ ہوجاتا ہے۔جیسے متھرا کے راستے میں کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کو گرفتار کرلیا گیا اور اس پر ملک سے غداری کا الزام عاید کرکے جیل میں ڈال دیاگیا۔یہ حکومت چاہتی ہے کہ جو چینل اور صحافی اس کے سامنے خود سپردگی کردیں وہ کتنا بھی زہر پھیلائیں‘ ان پر کوئی قدغن نہ لگے لیکن جو خود سپردگی نہ کریں ان کو وہ بھی جیلوں میں بند کردے اور ان پر سپریم کورٹ بھی قدغن لگادے۔

عدالتوں میں جو مقدمات چل رہے ہیں بظاہر تو زہریلے چینلوں کے خلاف ان کے کسی خوش آئند نتیجہ پر ختم ہونے کی امید ہے لیکن ان سے کچھ خطرناک رجحان بھی طے ہوجائیں گے جو اس حکومت کے ہاتھ میں دھار دار ہتھیار کی طرح ہوں گے۔

مثال کے طورپر دہلی ہائی کورٹ اور بامبے ہائی کورٹ کے دو معاملات کے دو نکتے قابل غور ہیں: مشرقی دہلی کے فسادات اور سی اے اے کے خلاف احتجاج کے سلسلہ میں جو لوگ ماخوذ ہیں ان میں ایک آصف اقبال تنہا بھی ہیں۔انہوں نے عدالت میں دہلی پولس کے خلاف درخواست دی تھی کہ وہ میڈیا کو ان کے خلاف معلومات لیک کر رہی ہے۔جبکہ ابھی چارج شیٹ تک نہیں تیار ہوئی ہے۔اس کی وجہ سے ان کی ضمانت نہیں ہورہی ہے۔اس پر دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولس سے پوچھا کہ آپ معلومات میڈیا کو کیوں لیک کر رہے ہیں؟ پولیس نے جواب داخل کیا کہ ہم نے کسی کو معلومات لیک نہیں کی ہیں۔اب ہائی کورٹ نے زی ٹی وی کو ہی نوٹس جاری کرکے پوچھا ہے کہ جب آپ کو پولس نے معلومات نہیں دی ہیں تو پھر آپ اپنا ذریعہ معلومات بتائیں کہ آپ کو یہ معلومات کہاں سے ملی ہیں۔

یہ سوال ہی اپنے نتائج کے اعتبار سے خوف ناک ہے۔اگر یہ رجحان چل پڑا تو میڈیا کی اصل آزادی خطرہ میں پڑجائے گی۔اصولاً اور روایتاً میڈیا اس کا پابند نہیں ہے کہ وہ یہ بتائے کہ اسے کہاں سے حقائق ملے ہیں۔۔ میرا خیال ہے کہ اس سلسلہ میں دہلی پولس نے تو اپنی جان چھڑائی ہے اور زی ٹی وی کو بظاہر پھنسا کر ایک غلط رجحان قائم کیا جارہا ہے۔سوال یہ ہے کہ پولیس جو تحقیقات آصف اقبال تنہا کے خلاف کر رہی ہے وہ اس کے سوا اور کسی کے پاس کیوں ہوں گی؟ اور اگر واقعی کسی اور نے ان معلومات کو چوری کرلیا ہے تو یہ تو ملک کے لئے اور بھی زیادہ خطرناک بات ہے۔عدالت نے پولس سے یہ سوال نہ کرکے میڈیا کو ہی پابند کردیا ہے کہ وہ اپنا ذریعہ اطلاع بتائے۔

اسی طرح ممبئی ہائی کورٹ میں سشانت سنگھ راجپوت کی موت والے معاملہ میں میڈیا کے کردار کے خلاف سنوائی چل رہی ہے۔وہاں خاصی لمبی سماعت ہوچکی ہے۔ابھی پیر کے روز (19 اکتوبر کو) پھر سماعت ہوگی۔اس میں عدالت نے مرکزی حکومت سے سوال کر رکھا ہے کہ آخر الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے آپ کے پاس کوئی ضابطہ کیوں نہیں ہے۔یہ بحث بھی بڑی دلچسپ ہے۔۔ گوکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ نے کہا ہے کہ ہمیں میڈیا کی آزادی کا خیال ہے لیکن آزادی کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اگر ان کو میڈیا پورا نہیں کر رہا ہے تو اس پر کون کنٹرول کرے گا۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*