آدم خور بھول بُھلّیاں-رئیس صِدّیقی

 

آدم خوربھول بھلّیاں! جی ہاں بھول بھلّیاں!!

میں لکھنؤ کی بھول بھلّیاں کی بات نہیں کررہا ہوں بلکہ اُس بھول بھلّیاں کے بارے میں بتانے جارہا ہوں جو آج سے لگ بھگ تین ہزار سال قبل، جزیرہ کوپٹ کے نزدیک بنی ہوئی تھی۔اس بھول بھلیاں میں ایک آدم خور جانور ’مینو ٹور“ رہتا تھاجس کا سر جنگلی بھینس کی طرح تھا۔ ’مینو ٹور“ سے ایک قدیم یونانی لوک کہانی جڑی ہوئی ہے ، جس کی ابتدا یوں ہوتی ہے ۔

ایک بار کا ذکرہے کہ جزیرہ کوپٹ کے ظالم حاکم ”منپوس“ کے بیٹے کا یونان جانا ہوا اور وہ کسی وجہ سے وہیں قتل کردیا گیا۔

اُس وقت یونان کا بادشاہ بہت کمزور تھا۔ اس لئے منپوس نے اس کی کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اس شرط پر معاف کیا کہ وہ ہر سال بارہ نوجوان لڑکے لڑکیاں مینو ٹور آدم خور جانور پر بھینٹ چڑھانے کے لیے بھیجا کرےگا۔

مرتا کیا نہ کرتا۔ اُس نے یہ شرط منظور کرلی اور شرط کے مطابق، وہ ہر سال بارہ معصوم لڑکے لڑکیوں کو موت کے حوالے کرتا رہا۔

شاہ یونان کا ایک شہزادہ بھی تھا۔جب وہ جوان ہوا تو اس کو اس بے جا اور ظالمانہ شرط کا علم ہوا اور اسے اس بات سے بہت دکھ ہوا۔

بہادر شہزادہ نے اسی وقت آدم خور مینو ٹور کو قتل کرنے کا عزم کےااور اپنے والد بادشاہ سے آیندہ کھیپ میں جانے کا اصرار کیا۔

پہلے تو بادشاہ اپنے شہزادہ کی اس ضد پر راضی نہ ہوا لےکن آخرکاراسے اپنے اکلوتے بیٹے کی ضد ماننی پڑی ۔

مقررہ وقت پر، شہزادہ اپنے گےارہ ساتھیوں کے ساتھ، جزیرہ کوپٹ کے حاکم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔

اس وقت دربار میںحاکم کی بیٹی بھی ایک عالی شان کرسی پر رونق افروز تھی۔

شہزادی بھی ےہ ظلم دےکھ کر اُکتا چکی تھی اور اس نے اس با ہمت اور نڈر شہزادہ کی مدد کرنے کا فےصلہ کےا ۔

چونکہ شہزادہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ لوگ آدم خور کے پاس ایک ایک کرکے بھیجے جائیں گے، اس لئے اس نے حاکم سے التجا کی کہ سب سے پہلے اسے آدم خور کے حوالے کیا جائے۔

اس کی درخواست منظور کرلی گئی اور وہ قید خانہ میں ڈال دیا گیا۔

جب شہزادے کاآدم خور پر بھےنٹ چرھنے کا وقت قریب آےا تو شہزادی نے اسے رسّی کا ایک گولا دیا اور ہدایت کی کہ جب وہ بھول

بھلّیاں میں ڈھکےلا جائے تو وہ اس کا ایک سِرا دروازہ سے باندھ دے اور پھر دھیرے دھیرے رسی کو چھوڑتا ہوا اندر جائے اور جب وہ آدم خور جانور کو قتل کردے، تو اسی رسی کے سہارے باہر نکل آئے۔ اندر بہت بدبو ہوگی۔اس بدبو سے لوگ بے ہوش ہوجاتے ہیں۔ تمہیں اپنی ناک پر کپڑا باندھنا ہوگا۔ آدم خور کے نتھنوں سے بہت ڈراﺅنی آواز نکلتی ہے جسے سن کر دل کی دھڑکن بند ہوجاتی ہے اور اس کا شکار خود بہ خود مر جاتا ہے۔ اس طرح آدم خور کو آسانی سے شکار مل جاتا ہے ۔تمہیں ان سب باتوں کا خیال رکھنا ہوگا اور موقع ملتے ہی بڑی ہمت اور بہادری سے اس کی گردن پر پہ در پہ وار کرنا ہوگا۔

شہزادی کہتے کہتے رکی اور پھر ہاتھ بڑھا کر بولی کہ یہ چمکیلی نگ جڑی انگوٹھی پہن لو ۔اس کی چمک سے تم اسے اچھی طرح دیکھ سکو گے۔

جب شہزادہ رات کے وقت آدم خور بھول بھلّیاں کے اندر ڈھکیل دیا گیا تو اس نے شہزادی کی ہدایت کے مطابق عمل کرنا شروع کیا۔

ابھی وہ اندھیری بھول بھلّیاں میں آہستہ آہستہ اپنے قدم بڑھا ہی رہا تھا کہ اسے آدم خور کے سانس لینے کی کرخت آواز سنائی دی۔

اس نے اپنی تلوار میان سے نکالی اور پے در پے اس کی گردن پر وار کرکے اسے قتل کردیا۔ پھراسی رسی کے سہارے باہر آگیا۔

اس طرح وہ بھول بھلّیاں میں گم ہونے یا بے ہوش ہونے یا آدم خور کا نوالہ بننے سے بچ گیا۔

اس کے بعد شہزادہ اپنے گیارہ ساتھیوں اور ساتھ ہی منپوس کی بیٹی سے شادی کر کے اپنے ملک یونان واپس آیا اور اپنے والد بادشاہ کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا۔ اس نے شہزادی کی مدد کا بھی ذکر کیا۔

بادشاہ بہت خوش تھا ۔اس نے شہزادی سے پوچھا:

بیٹی، یہ تم نے سب کےسے کر لےا ؟ تمہاری دانش مندی سے نہ صرف وہ آدم خور جانور مارا گیا بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کئی معصوموں کی جان بھی بچ گئی۔

شہزادی نے بہت ادب لیکن اعتماد سے کہا:

ہمےشہ مشکل حالات میں ، تدبیر ، سوجھ بوجھ، سمجھ داری ، ہمت اور حوصلہ کام آتا ہے ،نہ کہ غصہ اور طاقت !!!

 

(کہانی نگار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ یافتہ افسانہ نگار و مصنف ہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*