ادب کا دعوی جنھیں تھا وہ بے ادب ٹھہرے ـ عفراء بتول سحر

ہمی تھے عشق میں ایسے جفا طلب ٹھہرے
ادب کا دعویٰ جنہیں تھا وہ بے ادب ٹھہرے

تو ماہتاب ہے میں تو چراغ سحری ہوں
تیرے مقابلے میں ذات میری کب ٹھہرے

یہ تھی امید محبت کی بھیک مل جائے
تمہارے در پہ یہ سائل تو بے سبب ٹھہرے

ہمارے چھونے سے مرجھا نہ جائیں سوچتی ہوں
کے پھول جیسے ہی نازک تمہارے لب ٹھہرے

وہ آ رہا ہے سرِ شام دیکھنے مجھ کو
خدایا ایسا ہو ظالم وہ پوری شب ٹھہرے

نظر اٹھا کے نہ اک بار اس نے دیکھا ہمیں
تمام رات وہاں ہم ہی بے سبب ٹھہرے

یہ ایسا شدتِ احساس درد تنہائی
چلے جو آنسو سحر چشم تر پہ کب ٹھہرے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*