ادب گرو ادیب ساز مولوی اسماعیل میرٹھی

تنویر خالد قاسمی
مرکزالدراسات الاسلامیۃ
اکڈنڈی، پریہار، سیتامڑھی، بہار
اردو زبان کی پائدار نیو رکھنے والے، نظمِ معرّٰی کے بانی مولوی اسماعیل میرٹھی12 /نومبر /1844 ء بہ مطابق 29 / شوال / 1260 ھ کو میرٹھ شہر کے محلہ مشائخان میں پیدا ہوئے، اس محلے کو ” اندر کوٹ ”، ”بالائے قلعہ ” اور پرانی تحصیل بھی کہا جاتا تھا۔ بعد میں اسماعیل میرتھی کی طرف نسبت کرتے ہوئے ا س محلے کو ” اسماعیل نگر ” کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔
قرآن شریف، ابتدائی فارسی و عربی، گلستاں، بوستاں اور شاہنامہ وغیرہ فارسی کتب درسیہ ختم کرنے کے بعد نارمل اسکول میں داخل ہوئے اور وہاں سے فراغت حاصل کی۔ بچپن سے ہی علمی و ادبی ماحول اور گھرانہ ملا تھا؛ اس لیے زبان و ادب سے وابستگی وراثت میں ملی تھی، غالب جیسے ادب کے تناور درخت کے زیرِ سایہ 16 سال کی عمر میں ہی شعر و شاعری کیمیدان میں قدم رکھ چکے تھے؛ یہی نہیں کہ صرف قدم رکھا؛ بل کہ آگے چل کر اسماعیل میرٹھی نے نظم نگاری کے میدان کو مزید وسعت بھی بخشی ہے،چنانچہ اردو کی پہلی نطمِ معرّٰی ان کی طرف ہی منسوب کی جاتی ہے۔
گوپی چند نارنگ کے الفاظ میں:
” ان کا شمار جدید نظم کے ہیئتی تجربوں کے بنیاد گزاروں میں بھی ہونا چاہیے، آزاد اور حالی نے جدید نظم کے لیے زیادہ تر مثنوی اور مسدس کے فارم کو برتا تھا، اسماعیل میرٹھی نے ان کے علاوہ مثلث، مربع، مخمس، مثمن سے بھی کام لیا ہے۔ ترقی پسند شاعروں نے آزادنظم اور نطمِ معری کے جو تجربے کیے ان سے بہت پہلے ”عبد الحلیم شرر ”،”نظم طباطبائی ” اور ” نادر کاکوری ” اور ان سے بھی پہلے اسماعیل میرٹھی ان راہوں سے کانٹے نکال چکے تھے۔ ”
بہ قول علامہ شبلی:
”مولانا حالی کے بعد اگر کسی کونظم میں درجۂ کمال حاصل ہے تو وہ صرف آپ (اسماعیل میرٹھی) کو ہے، جدید رنگ میں مولانا حالی کے بعد اگر کسی نے سننے لائق کچھ کہا ہے تو وہ مولوی اسماعیل صاحب میرٹھی ہیں۔ ”
اسماعیل میرٹھی شروع سے ہی درسیات سے وابستہ رہے؛ چنان چہ 10 / جولائی / 1860 ء تا 1867 ء محکمۂ تعلیم میں خدمت انجام دیتے رہے، پھر اس کے بعد ضلع اسکول ” سہارن پور ” یوپی میں 1870 ء تک بحیثیت فارسی استاد و صدر مدرس مامور رہے، 1888 ء تک میرٹھ محکمۂ تعلیم میں انسپکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ جولائی 1888 ء تا 1899 ء نارمل اسکول آگرہ میں بحیثیت صدر مدرس آپ کی بہترین خدمات ہیں اور ” نارمل اسکول ” آگرہ سے ہی آپ ریٹائر ہوئے، اس طرح تقریبًا 40 سالوں تک آپ درس و تدریس سے مستقل جڑے رہے، درس و تدریس اور تعلیم سے گہری دل چسپی کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے ” مدرسہ بنات المسلمین ” قائم کیا، جو 1925 ء میں ” محمد اسماعیل گرلز اسکول ” اور اب ” اسماعیلیہ ڈگری کالج ” کے نام سے موسوم ہے۔
آگرہ کے قیام کے ابتدائی دنوں سے ہی اسماعیل میرٹھی نے اپنے 30 سالہ گذشتہ تجربات کی روشنی میں تدریسی کتب کی تصنیف و تالیف کا آغاز کر دیا تھا، مولوی اسماعیل میرٹھی ہی سب سے پہلے ادیب ہیں جنہوں نے باقاعدہ بچوں کے ادب کی طرف توجہ دی اور بچوں کی نفسیات کے مطابق ان کی عمر کا خیال رکھتے ہوئے ایسے اسباق ترتیب دیے کہ بچے صرف علم ہی نہ سیکھیں؛ بل کہ اپنی اخلاقی اور تہذیبی روایات سے بھی باخبر رہیں، زندگی اور علم کے ہر شعبے اور عنوان پر ان میں مضامین اور نظمیں لکھیں، اور زبان انتہائی سادہ اور عام فہم استعمال کی گئی، مذہب و عقیدہ سے ہٹ کر ایک صالح معاشرہ کے لیے جن خوبیوں سے مزین ہونا ضروری ہے،وہ تمام امور مولوی اسماعیل میرٹھی نے اپنے اسباق میں شامل کیے،اردو آموزی سے متعلق ان کی ”اردو زبان کا قاعدہ ”، ”اردو زبان کی پہلی ”، ”دوسری ”، ” تیسری ”، چوتھی ” اور پانچویں ” بہت مشہور کتابیں ہیں، جن کے بارے میں ہر زمانے کے ادبا نے تعریف و توصیف کے الفاظ کہے ہیں۔
مولانا عبد الماجد دریا بادی:
” اردو میں مولوی اسماعیل میرٹھی کی ریڈریں اپنے رنگ میں بہترین کتابیں ہیں، جو میں نے اپنے تعلیمی زمانے میں درسًا پڑھی ہیں۔ ”
بابائے اردو مولوی عبد الحق صاحب کچھ یوں رقم طراز ہیں:
”مرحوم کو اردو زبان پر بڑی قدرت حاصل تھی اور ان کا کلام فصیح اور صحیح زبان کے لیے سند ہے، ہماری زبان میں ان کی نظم گوئی کی نظیرنہیں؛ نہ تو پہلے کبھی ایسی نظمیں لکھی گئیں اور نہ اب تک ان کے بعد لکھی گئیں۔“
موجودہ زمانے میں کچھ مسلک پرست انتہا پسند تعمیر کی بجائے تخریب کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں، اور نونہالانِ قوم کو بچپن سے ہی متشدد، غیر معتدل راستے پر ڈال رہے ہیں،مسلکی جھگڑے اور عقیدوں کے بکھیڑے سکھلا رہے ہیں؛جس کی وجہ سے معاشرہ ایک ناہموار سمت میں جا رہا ہے،اور ادب کے نام پر انتہائی بے ادبی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔جب کہ اسماعیل میرٹھی اپنی کہانیوں کے ذریعہ بچوں میں بہادری، انصاف پروری، صبر و تحمل، علم دوستی، محنت، میل جول اور اتحاد و یکجہتی کے جذبات پیدا کرنا چاہتے تھے۔
خلاصہ یہ کہ اسماعیل میرٹھی نے اپنی کتابوں میں وہ سب کچھ جمع کر دیا ہے، جس سے ذہن وعقل میں بالیدگی بھی آتی ہے اور ان کتابوں میں سچائی و پاکدامنی، زہد ع قناعت، شجاعت و سخاوت کے درس بھی ملتے ہیں۔ اسی طرح حیوانات و نباتات، جمادات و معدنیات کی دنیا بھی دکھائی جاتی ہے، تو کہیں مختلف پھل و پھول کا تعارف بھی کرایا جاتا ہے؛مصنف کبھی صحرا نوردی پر کمر بستہ نظر آتے ہیں، تو کبھی کوہ پیمائی میں مشغول دکھائی دیتے ہیں،کبھی سمندر وں کی وسعت ناپتے ہیں، تو کبھی گنبدِ افلاک پر کمند ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی قدیم بادشاہوں کی رسّہ کشی و مقابلہ آرائی کا آنکھوں دیکھا حال کتاب کو ” فاصلہ نما ” بنا کر بلا واسطہ نشر کرتے ہیں۔
مولوی اسماعیل میرٹھی کو ان کی کامیاب، قابلِ وقعت ادبی خدمات پر حکومتِ وقت کی طرف سے جون 1912 ء کو ” خان صاحب ” کا خطاب دیا گیا۔ان کی مشہور تصانیف میں ”اردو زبان کا قاعدہ ” تا ”اردو زبان کی پانچویں ”1892 ء تا 1893 ء ، ”قواعداردو،اول، دوم ” 1894 ء ” توزک اردو ” 1894 ء ، ” اردو کورس برائے نارمل اسکول ” 1897 ء ” کمک ردو، ادیب اردو ” 1909 ء ، ” سفینہئ اردو ” 1910 ء ، ” سواد اردو ” 1914 ء ، تذکرۂ غوثیہ، قصیدہ نوائے زمستاں، جریدۂ عبرت، فکرِ کلیم، اور ریزہئ جواہر قابل ذکر ہیں۔
بروزِ جمعرات: یکم نومبر 1917 ء بہ مطابق 14 محرم الحرام 1336 ھ کو ادب گر وادیب ساز مولوی اسماعیل میرٹھی کا میرٹھ میں انتقال ہوا اور میرٹھ باغپت دروازے کے باہری حصے میں آپ کو دفن کیا گیا۔