اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو- ثروت حسین

 

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو

جاگوتو آئینہ دیکھو اور مجھے دیکھو

سوچویہ خاموش مسافر کیوں افسردہ ہے

جب بھی تم دروازہ دیکھو اور مجھے دیکھو

صبح کے ٹھنڈے فرش پہ گونجا اس کا ایک سخن

کرنوں کا گلدستہ دیکھو اور مجھے دیکھو

بازوہیں یا دو پتواریں ناؤ پہ رکھی ہیں

لہریں لیتا دریا دیکھو اور مجھے دیکھو

دو ہی چیزیں اس دھرتی میں دیکھنے والی ہیں

مٹی کی سندرتا دیکھو اور مجھے دیکھو

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*