سرکاربتائے ،طالبان دہشت گردہیں یانہیں؟،دوحہ میں بھارتی سفیر کی طالبان سے ملاقات پر اویسی کاحملہ؟

 

نئی دہلی:طالبان اوربھارت کے درمیان پہلے سفارتی روابط کونشانہ بناتے ہوئے آل انڈیامجلس اتحادالمسلمین(اے آئی ایم آئی ایم)کے رہنما اسد الدین اویسی نے مرکزی حکومت سے پوچھاہے کہ وہ اسے دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ حکومت طالبان کے ساتھ چھپ کربات کر رہی ہے ، وہ کھل کر کیوں نہیں کہتی؟ اسے قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کوجواب دیناپڑے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاہے کہ پاکستان اورطالبان کے درمیان ایسا رشتہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ جمعرات کونامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اویسی نے حکومت سے پوچھاہے کہ وہ اسے دہشت گرد تنظیم سمجھتی ہے یا نہیں۔ اویسی نے کہاہے کہ حکومت کیوں شرما رہی ہے؟ وہ قریب بھی نہیں آتے ، وہ دوربھی نہیں جاتے۔ وہ پردہ سے جھانک کر محبت کیوں کر رہے ہیں،کھل کر بات کریں،کیاآپ نہیں کریں گے؟ یہ ملک کا معاملہ ہے ، قومی سلامتی کے معاملے میں حکومت کو ان سوالات کا جواب دینا ہوگا جو ہم اٹھا رہے ہیں۔طالبان کو تحفظ دینے کے پاکستان کی منظوری پراسدالدین اویسی نے کہاہے کہ ہم انہیں اپنی سرزمین پر مدعو کرتے ہیں اور چائے پیتے ہیں ، بسکٹ پیش کرتے ہیں ،کباب پیش کرتے ہیں ، اگر پاکستان قبول کر رہا ہے تو آپ طالبان کوبلا سکتے ہیں۔” کیا آپ چائے کی دعوت دیں گے ، بھارتی سرزمین پر بسکٹ اور کباب؟ یہ بالکل سچ ہے ، طالبان اور پاکستان کا رشتہ ہے جوکبھی ختم نہیں ہوگا۔