سی اے اے پراقدام عدالت میں حکومتی یقین دہانی کی خلاف ورزی،مسلم لیگ نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی

نئی دہلی :گجرات ، راجستھان ، چھتیس گڑھ ، ہریانہ اور پنجاب کے 13 اضلاع میں قیام کے لیے افغانستان ، بنگلہ دیش اورپاکستان کے غیرمسلموں سے ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست دینے کے لیے مرکز کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیاگیا ہے۔مسلم لیگ (IUML) نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عبوری درخواست میں مؤقف اختیار کیاگیاہے کہ مرکز اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ کو دی گئی یقین دہانی کے برخلاف اقدامات کررہا ہے جس کے تحت آئی ای ایم ایل کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) ، 2019 کی شقوں کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے کے لیے دائرالتواء کی گزارش ہے۔عبوری درخواست میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکز اس سلسلے میں عدالت عظمیٰ کو دی گئی یقین دہانی کے متضاد اقدام اٹھا رہا ہے جومتنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) 2019 کی شقوں کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی آئی ایم یو ایل کی جانب سے دائر التواء پٹیشن کے خلاف ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرکز نے یقین دہانی کرائی تھی کہ سی اے اے کے قواعد کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے ، لہٰذااس پر روک لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔سی اے اے کے پاس 31 دسمبر 2014 تک افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہونے والے مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے ہندوستان آنے والے ہندو ، سکھوں ، بدھسٹ ، جین ، پارسی اور عیسائیوں سمیت غیر مسلم اقلیتوں کو ہندوستانی شہریت دینے کی فراہمی ہے۔تازہ ترین درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے جمعہ کے روز اس سلسلے میں شہریت ایکٹ 1955 اور 2009 کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق فوری طور پر آرڈر پر عمل درآمدکے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا جبکہ سی اے اے کے تحت قواعد 2019 میں نافذ ہوئے ہیں۔جسے وزارت داخلہ نے تیار کیا ہے۔ درخواست کے مطابق یہ غیر قانونی اور قانون کی دفعات کے منافی ہے۔