ابوطالب رحمانی کے حالیہ انٹرویو کا تجزیہ ـ عبداللہ ممتاز

ابوطالب رحمانی نے اپنے ایک زوردار انٹرویو میں سوشل میڈیا پر لکھ رہے قلمکاروں کو خوب دھتکارا اور انھیں "شریر وفتین” کے لقب سے نوازا ہے، ابوطالب صاحب نے ان سے پوچھا ہے کہ بتاؤ بیس تیس سال بعد تم میں کون ہے جو مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی بنے؟
مولی ساب! اللہ تعالی امت کے احوال اور ان کے تقاضوں کے اعتبار سے افراد پیدا کرتے رہتے ہیں، گزشتہ زمانے کے کسی مخصوص فرد جیسا تیار نہ ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اور اس کی وجہ سے کسی کا قد چھوٹا نہیں ہوتا، ہم سوال پوچھتے ہیں کہ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی آخر منظور نعمانی کیوں نہیں ہوے؟ مولانا محمد ولی رحمانی مولانا منت اللہ رحمانی کیوں نہیں ہوے؟ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی قاضی مجاہد الاسلام کیوں نہیں ہوے؟ مولانا ارشد مدنی حسین احمد مدنی اور حسین مدنی شیخ الہند کیوں نہیں ہوے؟ اس کا مطلب ان سب کے مقام ومرتبہ کا انکار کردیا جائے؟
پتہ نہیں مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی پر امارت کے حوالے سے کس نے اعتراض کیا ہے؟ ہوسکتا ہے کوئی ایک آدھ نامعلوم مولوی نے کچھ لکھ دیا ہو جنھیں امارت کے احوال کا کچھ پتہ نہ ہو اور آپ اس کا جواب دینے بیٹھ گئے، آپ نے بالکل نیشنل میڈیا والا معاملہ کیا ہےـ سوشل میڈیا پر آپ پر اور آپ کے پروپیگنڈوں پر سوال کیے جارہے ہیں، آپ ان کا جواب نہ دے کر موضوع بھٹکانے کے لیے مولانا خلیل الرحمن صاحب کا نام استعمال کر ہے ہیں ـ یقینا وہ مؤقر ومحترم ہستی ہیں، ان کی خدمات عظیم ہیں؛ لیکن امت کے افراد کو ان سے بھی سوال کا حق ہے، سوال پوچھنے کے لیے ان کے لیول میں آنا ضروری نہیں ہے ورنہ حضرت عمر سے جو دیہاتی نے برسر ممبر سوال پوچھا تھا ان کا جواب حضرت عمر یوں دیتے کہ پہلے یہ بتاؤ تم اسلام کس سن میں لائے؟ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگیں کتنی لڑیں اور ہاں امیر المؤمنین تو میں ہوں، تمھاری اوقات کیا ہے مجھ سے سوال پوچھنے کی؟
آپ ان نوجوان مولویوں سے پوچھ رہے ہیں کہ تم نے آج تک قوم کے لیے کیا کیا ہے؟ اور بیس تیس سال بعد تم میں خلیل الرحمن سجاد نعمانی بننے کی صلاحیت ہے؟
یہ نوجوان آپ سے یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ آپ نے امت کے لیے کیا کیا ہے؟ آپ اپنے بھی دو چار کارنامے شمار کرا دیجیے، سوائے اسٹیجوں پر چیخنے چلانے اور چنگھاڑنے کے اور ڈیڑھ دو گھنٹے اس نوٹنکی کے تیس تیس چالیس چالیس ہزار روپے وصولنے کے علاوہ آپ اپنا کارنامہ بھی بتائیں، آپ نے مولویوں کو دبے لفظوں میں چندہ کا طعنہ بھی دیا ہے، آپ کو جو اسٹیج پر ایک ڈیڑھ گھنٹہ بدکنے اور اچھل کود کرنے کے چالیس پچاس ہزار روپے ملتے ہیں وہ بھی امت کے چندے سے ہی آتا ہی اور وہ بھی قوم کے خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے،مدرسوں کی افادیت کا آپ نے خود ہی اعتراف کیا ہے؛ لیکن جلسوں کی ایک پائی افادیت مجھے بتادیجیے جو آپ کا ذریعۂ معاش ہےـ
آپ نے بعض مولویوں کو یہ بھی طعنہ دیا ہے کہ وہ ڈھائی تین سو روپیہ کی دہاڑی پر لکھ رہے ہیں ـ
کہتے ہیں کہ جن کا گھر شیشے کا ہو انھیں دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں چلانا چاہیے، دہاڑی پر آپ بھی فرماتے ہیں، فرق یہ ہے کہ ان بیچاروں کو (بشرطیکہ آپ اپنی بات میں سچے ہوں) ڈھائی تین سو دہاڑی ملتی ہے اور آپ کو تیس چالیس ہزار،
میں اپنے نوجوان مولویوں سے کہتا ہوں کہ آپ بلاشبہ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی بنیے؛ لیکن ابوطالب رحمانی ہرگز نہ بنیں ـ

"امیر شریعت ایسا ضرور ہو کہ جو عربی پر عبور رکھے، انگریزی پر عبور رکھے”ـ
چاہے وہ شریعت پر عبور نہ رکھے، مولی ساب! آپ میر شریعت کا انتخاب کر رہے ہیں یا ملٹی نیشنل کمپنی میں مینیجر کی جاب کے لیے آدمی ہائر کر رہے ہیں، حد ہوتی ہے بکلولی کی، ایک طرف فرما رہے ہیں کہ سب کچھ بالکل دستور کے مطابق ہو رہا ہے اور دوسری طرف آپ فرما رہے ہیں کہ امیر شریعت عربی وانگریزی پر عبور رکھنے والا ہو ـ دستور میں عربی وانگریزی پر عبور رکھنے کی شرط نہیں ہے؛ بلکہ شریعت اورسیاسات ہندیہ پر عبور رکھنے کی شرط ہےـ

ابوطالب رحمانی کے بقول سب کمیٹی میں جو کچھ طے ہوا وہ سب مفتی نذر توحید نے کرایا تھا، نامنیشن کی شرط ہو یا مقام انتخاب سب ان ہی کے مشورے سے طے ہوا پھر وہ مستعفی ہوگئےـ

جب سب کچھ ان ہی کے مشورے سے طے ہوا اور انھوں نے خود ہی ان ساری باتوں کو غلط قرار دے دیا تو بات ختم ہوگئی، اب ان کے سارے مشوروں کو کالعدم قرار دے دیجیے؛ لیکن نہیں، اس وقت والا مشورہ آپ کے مفاد میں تھا اور بعد والی تردید آپ کے مفاد میں نہیں ہےـ اس لیے آپ ان کے مشوروں کو کالعدم قرار نہیں دے سکتےـ

انھوں نے سنبت پاترا اسٹائل میں یہ بھی فرمایا کہ "پہلے جو دستور کے خلاف کام ہوے ہیں اس پر بھی کبھی گفتگو کی جائے گی”ـ

اگر پہلے دستور کے خلاف کام ہوے ہیں تو اس کے مجرم آپ بھی ہیں، ارباب حل وعقد کے ممبر تھے آپ، آپ نے اس وقت سوال کیوں نہیں پوچھا؟ ہمارے نوجوان علما کو غلط لگتا ہے تو وہ سوال پوچھ رہے ہیں، آپ چپی کیوں سادھے رہے؟
ارے ہاں! وہ تو میں بھول ہی گیا تھا کہ آپ تو تیس چالیس ہزار روپے پیشگی ادائیگی کے بعد کسی موضوع پر لب کشائی کیا کرتے ہیں اور ظاہر ہے اس موضوع پر لب کشائی کے لیے آپ کوکسی نے فیس نہیں دی ہوگی اور ہاں! امارت سے آپ کا مفاد بھی تو وابستہ ہے اور ان بیچارے غریب مولویوں کا کوئی مفاد نہیں اس لیے یہ سوال پوچھ رہے ہیں ـ
انھوں نے فرمایا ہے کہ مفتی نذر توحید نے کہا تھا کہ "متوقع امیر شریعت کے لیے امیدوار جہاں جہاں سے ہے وہاں سینٹر نہ رکھا جائے”.
انھوں نے تین جگہوں کے متعلق کہا ہے، ایک مونگیر دوسرا پٹنہ تیسری جگہ کا ذکر نہیں کیا ہےـ
گویا یہ سب کمیٹی اور نائب امیر بھی سمجھ رہے ہیں کہ تین لوگ امیر شریعت کے "امیدوار” ہیں ـ ظاہر ہے امیدواروں کے درمیان الیکشن کروانا اور پھر امیر شریعت کا انتخاب کرنا یہ سب کمیٹی، نائب امیر اور ارباب حل وعقد کی نااہلی وناکامی ہے اور بلاشبہ ان تینوں میں سے کسی کا بھی انتخاب غیر شرعی اور غیر دستوری ہوگا، اس لیے ان تینوں کا نام متوقع امیر شریعت سے خارج کریں اور کسی چوتھے کا انتخاب کریں. الحمدللہ بہار بانجھ نہیں ہے کہ تین کے سوا کوئی امیر بن ہی نہیں سکتاـ
جس طرح نائب امیر جو خالص مَدرسی اسٹائل کے آدمی ہیں، یعنی بہترین مدرس، اچھے قلمکار، شاندار ادیب؛ لیکن امارت سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا انھیں دیوبند سے اٹھا لقئے اور نائب امیر نامزد کردیا، اس قسم کے کئی اور سارے دیوبند میں ہی مل جائیں گے جو نائب امیر سے اچھی صلاحیت والے ہوں گے، ان سے اچھے قلمکار اور بہتر ادیب ہیں ان ہی میں سے کسی کا انتخاب کرلیجیے.ـ ویسے بھی حکومتی اثرو رسوخ اور اس کے داؤ پیچ کے مقابل نہ تو مولانا ولی رحمانی صاحب کچھ کرسکے اور نہ آئندہ بننے والا امیر کچھ کر سکے گاـ تین طلاق کا معاملہ ہو یا پھر بابری مسجد کا قضیہ ہم دیکھتے ہی رہے اور قانون پاس ہوگیاـ یقینا اس میں مولانا محمد ولی رحمانی کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں تھی، انھوں نے اپنی بساط بھر کوشش کی؛ لیکن امارت کی قوت ہی انتہائی محدود ہے، اس لیے امید یہی ہے کہ آپ کسی کو بھی امیر بنادیں کوئی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرے یا کانوں میں اس سے امت کو کوئی فرق نہیں پڑتاـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*