ابرار اجراوی کی تنقید میں استدلالی اور منطقی عکس-پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی

کوہسار، بھیکن پور،3، بھاگل پور،بہار
موبائل:9430966156

ڈاکٹر ابرا ر احمد اجراوی تنقید نگار ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف و مرتب ہیں۔ کم وقت میں اپنی بصیرت مندی کی وجہ سے شناخت بنانے میں کام یاب ہیں۔ وہ تحقیقی مزاج بھی رکھتے ہیں اور اپنی تحریر میں نئی جہتوں کے اکتشافات اور دیدہ ریزی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ عربی زبان و ادب پر ان کی خاص نگاہ ہے،جس کے ادراک سے نیا مواد اردو کو دیتے رہتے ہیں۔
زیر مطالعہ کتاب”محاکمہ“ میں ان کے بارہ(۲۱) تحقیقی و تنقیدی مقالے ہیں، جن سے دریائے ادب کی شناوری سامنے آتی ہے۔ مطالعہ کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔ تعمیری نقطہئ نظر سے فکر و فن کو جلا ملتی ہے۔ تجسس، تفحص اور تکشف کے عمل سے معانی و مفاہیم کی تعبیر واضح ہوتی ہے اور مضمرات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ اپنی فکری پرواز کے بارے میں پیش لفظ ”اپنے من میں“ کے ذریعہ بتاتے ہیں:
”لکھنا لکھانا اور چھپنا چھپانامیری روزمرہ کی زندگی کا حصہ رہا ہے۔بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ تحریر ی مشق میرے لیے آب و دانہ کے مانندہے۔میری نجی زندگی کا انحصار اسی غیر مرئی ستون پر ہے۔اگرچند دنوں کے لیے بھی لکھنا پڑھنا موقوف ہوجائے تو ایسا لگتا ہے، جیسے زندگی کے شعلے سرد پڑگئے ہوں۔“
پیش نظرکتاب میں مضامین کے عنوان اس طرح ہیں:’قرآن ادب و بلاغت کی میزان، علمائے ہند کی نثر پر قومی یک جہتی کا اثر، بہار میں ادب اطفال:معاصر منظر نامہ، اکیسویں صدی میں دربھنگہ کی تنقید کائنات، سادہ نثری اسلوب کا ارتقا اور خطوط غالب، تبصرہ:تعریف و تاریخ، تحلیل و تمثیل، مولانا مناظر احسن گیلانی کا نثری اسلوب، مولانا اعجاز اعظمی کا نثری’اعجاز‘، صفیر بلگرامی:شخص اور شاعر، مولانا افضال الحق جوہر قاسمی:مقام و کلام، حافظ کرناٹکی:نعت رنگ شاعر‘۔
ابرار احمد اجراوی نے سائنسی تنقید کے پیش نظر اپنی فکر و سوچ کو اعتبار بخشا ہے اور معیار و اقدارکی عمارت کھڑی کی ہے۔ قرآن کریم کی عظمت کو نئے انداز سے دریافت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
”قرآن عربی زبان کے چند پرشکوہ الفاظ و مرکبات کا نام نہیں، وہ معانی و مطالب کا گنجینہ بھی ہے۔ سارے علوم و فنون کے سوتے یہیں سے پھوٹے ہیں۔ قرآن کریم کا اسلوب و اندازبھی نرالا ہے اور اس کے الفاظ و حروف بھی منفرد ہیں۔حرا سے جو نسخہئ کیمیا بنی کریم ﷺ لے کر امت محمدیہ کی طرف آئے تھے، اس میں عالم انسانیت کے لیے صرف رشد و ہدایت کی ہی تعلیمات نہیں، بلکہ وہ ادب و بلاغت اور زبان و بیان کا بھی اعلی ترین نمونہ ہے۔“
اکیسویں صدی میں تبصرہ نگاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اور غیر افسانوی ادب کا اہم جز قرار دے کر اس کے معتبر ہونے کے بارے میں ابرار اجراوی یہ دلیل پیش کرتے ہیں:
”کتابوں پر تبصرہ اور ریویو لکھنا پرانے زمانے میں ادیبوں کا نجی شوق تھا، کلاسیکی عہد میں بھی تقریظ/تقدیم اور تبصرے لکھے جاتے تھے، مگراس وقت صرف نام ملتا تھا، دام نہیں۔ جس’آج کل‘ میں ظ. انصاری کو ایک تبصرے کے ساڑھے نو روپے ملتے تھے، اسی ’آج کل‘ میں اس وقت تبصرہ نگاروں کی خدمت میں 750/ روپے تک کا اعزازیہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے تبصروں کی اہمیت و وقعت اور قدر و قیمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔“
ابرار اجراوی نے بیش تر مضامین میں نقد کے ذریعہ علمیت کو آشکار کیا ہے اور استدلالی اور منطقی عکس کو اثر پذیری عطا کی ہے۔
ابرار اجراوی نے علمی سطح پر اور معلومات کی جدت کی وجہ سے کیفیت اور تجسس نیز حقیقی وجودی عرفانیات کو معیار بندی عطا کی ہے۔ ان کی تنقید و تحقیق میں اجتہاد کی موشگافی نمایاں ہے۔ یہ ایک طرح سے تخلیقیت شناسی کا مکاشفہ بھی ہے اور مطالعہ بھی، جس میں آگہی تنقیدی بصیرت لیے ہوئے ہے اور صداقت شناسی کی قوس قزح سورج آسا شعور کو آفاقی گیرائی سے تجربہ کش بنایا ہے، جس کے تقاضے میں عہد کی تفہیم ہمہ گیر وظیفہ بنتی ہے۔ لفظ و معنی کے وسیلہ سے انھوں نے دلی مکالمہ کو استوار کیا ہے، جس میں تخلیق کی روح ناقدانہ بصیرت کے ساتھ تخلیقیت کشا بنتی ہے۔ خواہ وہ نثر نگار ہوں یا شاعر، ابرار صاحب نے تخلیقیت کو جس طرح اپنی تنقید میں نشان زد کیا ہے، اس سے اصافی فراوانی کی معنویت تاثریت کی حامل بنتی ہے، جس میں صحیح معنوں میں نفسیاتی قطبی اور روحانی کیفیت کا جلوۂ نموعصری عناصر کو کارفرما بنانے میں ممد و معاون ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*