ڈاکٹر عبدالقادر شمس کی پہلی برسی:امارت شرعیہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ نشست میں علما اور صحافیوں نے خراج تحسین پیش کیا

پٹنہ(پریس ریلیز):دنیا سے انسان چلا جاتا ہے ،لیکن اپنے پیچھے یادو اور کارناموں کے گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں ، یہی کارنامے اسے زندہ جاوید بنادیتے ہیں ، مولانا ڈاکٹر عبد القادر شمس کی شخصیت کچھ ایسی ہی تھی ۔ انہوں نے چھوٹی عمر میں لمبی لکیر کھینچی ، ملت اور مٹی کو بڑی سوغات دیا۔ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کانفرنس ہال میں منعقد تقریب میںعلما اور دانشوران نے کیا۔ شہادت کے ایک سال مکمل ہونے پراردو میڈیا فورم بہار کے زیر اہتمام ’ مولانا ڈاکٹر عبد القادر شمس امارت سے صحافت تک ‘ تقریب ہوئی۔صدارتی خطاب میں نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمدشمشاد رحمانی قاسمی نے کہا کہ مولانا عبد القادر شمس کی شخصیت ہمہ جہت تھی ،وہ اپنے مربی حضرت قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کی طرح ملت کا درد رکھتے تھے ۔برسوں سے بیک وقت کئی میدانوں میں کام کیا، انفرادی شخصیت نے اُنہیں ملک گیر سطح پر مقبول بنا دیا تھا۔قائم مقام ناظم حضرت مولانا شبلی القاسمی نے کہا کہ سادگی پسند اور مسلسل کام میں یقین رکھتے تھے۔ اس سے قبل بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری جناب مشتاق احمد نوری نے کہا کہ عبد القادر شمس سیمابی صفت نوجوان تھے ، صحافت کے ساتھ سماج کیلئے انہوں نے جو کام کیا ہے ،وہ نئی نسل کیلئے مثال ہے۔ روزنامہ انقلاب کے ایڈیٹر جناب احمد جاوید نے ڈاکٹر عبد القادر شمس کی جواں مرگی کا تذکر ہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے ،انہوں نے کہا کہ کم عمری میں جو کارنامے انجام دیئے میں ان کی عظمت کو سلام کرتا ہوں، وہ اپنے مخالفین سے بھی والہانہ تعلق رکھتے تھے ۔ صحافتی کاموں کے درمیان اپنے لوگوں سے ان کوجودرد و کر ب ملا کبھی اس کا تذکرہ نہیں کیا۔رکاوٹوں کا شکوہ کرنے کے بجائے تاریخ رقم کرنے میں خود کو لگائے رکھا۔مولانا محمدسہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ ملت نے ایک بیش قیمت ہیرا کھو دیا ،سوچا تھا یہ سورج بلند ہو رہا ہے، دیر تک روشنی دے گالیکن حق کے نام پر شہادت پائی ۔ رفیق کار اور دعوت القرآن ٹرسٹ ارریا کے جنرل سکریٹری مولانا محمد عارف قاسمی نے کہا سیمانچل سے تعلق رکھنے والے وہ صرف صحافی نہیں ایک درد مند سماجی انسان اور ایک مصلح مفکر بھی تھے۔ تعلیم ، صحت ، عوامی فلاح اور کمزوروں اور مظلوموں کیلئے آخری دم تک کام کرتے رہے ۔ انہوںنے اپنے اور اپنے خاندان کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ملت کیلئے دیر رات تک جاگتے ، ذمہ داریاں صبح جلد اٹھا دیتی اور بیچ کا وقت دوڑنے بھاگنے میں گزار دیتے تھے۔نظامت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے جناب مفتی ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے مرحوم سے اپنے دیرینہ تعلقات کا اظہار کیا اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ عبد الواحد رحمانی نے کہا کہ بھائی ڈاکٹر عبد القادر شمس کی زندگی ملت ،مٹی اور محبت کے ارکان ثلاثہ میں منحصر تھی ۔انہوں نے ملت کی خون جگر سے آبیاری کی۔اس موقع پر معروف صحافی ڈاکٹر ریحان غنی ،سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر اظہار عالم ،مولانا رضوان ندوی سمیت ایک درجن سے زائد صحافیوں نے خراج تحسین پیش کیا۔