عبد الحمید نعمانی کو سلام-اطہر شمسی

القرآن اکیڈمی،کیرانہ

ابھی کوئی چار پانچ روز پہلے کی بات ہے مولانا عبد الحمید نعمانی کی ہندوتو سے متعلق چار کتابوں کا ایک سیٹ ایک لمبے انتظار کے بعد موصول ہوا۔پیکٹ ملتے ہی رہا نہ گیا۔دیگر تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ،فوراً مطالعہ شروع کیا،کتابیں اس قدر دلچسپ کہ کوئی آٹھ سو صفحات پر مشتمل یہ تمام چاروں کتابیں صرف چار روز سے بھی کم وقت میں مکمل ہو گئیں۔الحَمدُ للہ۔ کافی تفصیلی نوٹس بھی لیے گئے۔مطالعہ کے بعد بلا شبہ فکر کو جلا ملی،علم میں اضافہ ہوا اور ہندوتو کی جانب سے مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کی تفہیم میں بڑی مدد ملی۔ گزشتہ رات القرآن اکیڈمی کیرانہ میں اسی تھیم پرایک لکچر بھی پیش کیا جو پوری طرح انہی کتابوں سے مستفاد تھا۔ مولانا نعمانی کو اللہ جزائے خیر دے،بلا شبہ آپ نے بڑا کام کیا۔میں مولانا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ نیز اُمید کرتا ہوں کہ مولانا ان خطوط پر آگے بڑھتے رہیں گے اور ہم جیسے طلبہ آپ سے استفادہ کرتے رہیں گے۔ تمام احباب سے درخواست ہے کہ مولانا کی ان چاروں کتابوں کا نہ صرف خود لازمی طور پر مطالعہ کریں بلکہ دیگر احباب کو یہ کتابیں گفٹ بھی کریں اور پڑھنے کے لیے کہیں۔ میں خود مولانا کی ان تصانیف کو بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ مجھے مولانا نوشاد زبیر ملک صدر الکتاب فاؤنڈیشن نوادہ (بہار) نے بتایا کہ وہ ان کتابوں کو سو لوگوں تک پہنچا چکے ہیں۔ کتابوں کے نام یہ ہیں:
۱. ساورکر: فکر و تحریک
۲. سنگھ کے بانی ڈاکٹر ہیڈ گوار
حیات و تحریک
۳. ہندتو: اہداف و مسائل
۴. ہندوتو اور راشٹرواد

آخر میں ایک درخواست مولانا نعمانی سے یہ ہے کہ آر ایس ایس اور ہندوتو کا جو تجزیہ آپ نے اپنی کتب میں پیش کیا ہے،براہ کرم اسے نہایت مختصر عمدہ کوالٹی ویڈیو سیریز کی شکل میں ضرور سامنے لائیں تاکہ نسل نو ان حقائق سے واقف ہو۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*