عبد القیوم انصاری کے 116 ویں یوم ولات پر نیشنل مومن کانفرنس کا آن لائن جلسہ،محروم طبقات کے لیے سیاسی حصے داری پر زور

کولکاتا:عظیم مجاہد آزادی اور مومن لیڈر عبد القیوم انصاری کی 116 ویں سالگرہ کے موقع پر نیشنل مومن کانفرنس نے ملک بھر کے اپنے ممبران کے ساتھ زوم میٹنگ کرکے مرحوم لیڈر کو یاد کیا ۔ نیشنل مومن کانفرنس کے صدر و سابق وزیر ڈاکٹر شکیل الزماں انصاری نے کہا کہ عبد القیوم انصاری نے ایسے وقت میں بیک ورڈ مسلمانوں کی آواز کو اٹھانے کی جرات کی جس وقت ان کی آواز کو کوئی سننا پسند نہیں کرتا تھا ۔ وہ صرف مومن قوم کے لیڈر نہیں تھے بلکہ وہ تمام پسماندہ طبقات کی آواز تھے ۔ انہوں نے کہا کہ عبد القیوم انصاری کی قیادت تھی جس نے جناح کے دو قومی نظریہ کی سخت مخالفت کی ۔ وہ پسماندہ مسلمانوں کو سماجی ، سیاسی اور مذہبی عزت و وقار دلوانا چاہتے تھے اور ان کی پہچان کی طرف توجہ دیتے تھے ۔ وہ پہلے لیڈر تھے جن کی نظر اس طرف گئی ۔ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک پسماندہ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے وہ حق نہیں مل رہا ہے ۔ اب تو حال یہ ہے کہ جس ریاست سے مومن کی لیڈر شپ ابھری اب وہاں سیاسی طور پر استحصال جاری ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
اس موقعے پرفاروق اعظمی کلکتہ ، اقبال انصاری ، کلکتہ، نعیم انصاری، اندور، پرویز عالم انصاری، سیتامڑھی، پروفیسر عبد الواحد انصاری، قمر الدین انصاری، وقار عالم انصاری، ظفر امام انصاری، احکام انصاری ، انور عالم انصاری، فواد انصاری، ندیم اختر انصاری، فیاض عالم انصای، سمیت دیگر افراد نے بھی مرحوم عبد القیوم انصاری کے اوصاف کو یاد کیا اور نیشنل مومن کانفرنس کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا ۔