عباس تابش کی ساٹھویں سالگرہ پر ـ رحمان فارس

اے سخن دانِ اعلٰی و بالا
تیرا ہر حرف روشنی والا

تیرے لفظوں میں رفتگاں کا جمال
لکھنؤ اور اصفہاں کا جمال

میر سے تُجھ کو عشق کی تحصیل
میرزا سے مئے سخن کی سبیل

نُطقِ ماضی کا رازدان ہے تُو
اک روایت کا پاسبان ہے تُو

تیرا ہر شعر آبِ زر میں دُھلا
تُجھ پہ ہر تنگ قافیہ بھی کُھلا

بحرِ مشکل میں ایسا مصرعۂ تر
جیسے دریا کی تہہ میں لعل و گہر

اس قدر ہے تری زبان فصیح
خود غزل سب پہ دے تُجھے ترجیح

شعر در شعر معجزہ پُورا
بات قائم، تلازمہ پُورا

تیری تاویل سے ہُوا ممکن
جو خیالِ مُحال تھا تُجھ بِن

تیری توجیہہ سے غلط بھی درُست
یعنی مضمونِ مضمحل بھی ہو چُست

لائے تُو صنعتِ تضاد جہاں
آگ کے قلب سے ہو پانی رواں

تیرے مضمون کی حلیف ردیف
تو نے برتی نہیں نحیف ردیف

تُجھ سُخن کے جو سامنے آئیں
شربت و شہد پھیکے پڑ جائیں

تیرے لہجے سے چاشنی لے کر
اور بھی میٹھی ہوگئی شکّر

تُو غزل کے دیار میں لے آئے
وہ زمینیں کہ آسماں جُھک جائے

پیچ ایسے کہ زُلفِ یار بھی دنگ
وہ روانی کہ آبشار بھی دنگ

بات تیری ہزار باتوں میں بات
شائقِ شعر کے لیے سوغات

بزم احباب میں تُو مثلِ حریر
بہرِ اعدا تری غزل شمشیر

جب تُو مصرعے میں طنز فرمائے
خنجروں کا جگر بھی کٹ جائے

پھر بھی تُو نے غزل کو نرم رکھا
عشق کی آنچ سے ہی گرم رکھا

رنجِ رُسوائی بھی سہا تُو نے
سخت پھر بھی نہیں کہا تُو نے

فنِ اظہار ہو کہ علمِ عروض
تین نسلیں ہوئیں تری مقروض

غزل آباد میں ترے شاگرد
کرتے پھرتے ہیں تیرے نام کا ورد

تیرا اک پرتوِِ جمیل شکیل
تُو ہے دعویٰ تو وہ ہے تیری دلیل

یُوں تُو یاروں کے نام بھی ہیں بہت
حاسدینِ کرام بھی ہیں بہت

تُجھ سا اک شعر بھی اگر ہو نصیب
خود کو خوش بخت سمجھیں تیرے رقیب

ملکوں ملکوں ہُوا تُو محوِ کلام
ہوگئے مُعترف خواص و عوام

رحمتِ حق نے تُجھ کو ایسے چُھوا
شہرۂ شعر شہر شہر ہوا

آج فارس کی ہے دُعا، صاحب !
اوج تیری رہے سدا، صاحب !

تا قیامت بنی رہے تری بات
تُجھ سخن کو عطا ہو آبِ حیات

ایسی عُمرِ طویل تُو پائے
ساٹھواں سال ساٹھ بار آئے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*