اب قطب مینارکی تاریخی مسجدقوت الاسلام کے مندر ہونے کادعویٰ،ساکیت کورٹ میں عرضی دائر،24دسمبرکوسماعت ہوگی

نئی دہلی:بابری مسجدپرفیصلے کے بعدفرقہ پرستوں کے حوصلے بلندہیں۔گیان واپی اورمتھراعیدگاہ معاملے کے بعداب تاریخی قوت الاسلام مسجدکونشانہ بنایاگیاہے۔جب کہ اصول ہے کہ آزادی کے بعدجس عبادت گاہ کی جوحیثیت رہی ہے وہی رکھی جائےگی۔لیکن کچھ عناصرمسلسل پیروپیگنڈے کررہے ہیں۔جن کامقصدکسی بھی حال میں تنازعہ ختم نہیں ہونے دینا ہے۔ دہلی کی ساکیت عدالت میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے ، جس میں قطب مینار کمپلیکس میں واقع قوت الاسلام پر دعویٰ دائرکیا گیا ہے۔اس تاریخی مسجدکی تاریخ مولاناابوالحسن ندوی نے اپنی کتاب القراء ۃ الراشدہ میں ’المنارۃ تتحدث‘(منارہ بات کرتا ہے) کے عنوان کے تحت تفصیل سے بیان کی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ مسجد 27 ہندو اور جین مندروں کو توڑ کر بنائی گئی ہے اور تاریخ میں اس کے ثبوت کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔ لہٰذا اس مسجد میں ٹوٹے ہوئے مندروں کی بازیابی اورقانون سازی کے ذریعہ 27 بتوںکی پوجا کرنے کا حق مانگاگیاہے۔ سول جج نے کہاہے کہ عرضی بہت لمبی ہے ، لہذا اس پٹیشن اور اس میں دیئے گئے حقائق کاگہرائی سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں اگلی سماعت کے لیے 24 دسمبرتک مہلت دی ہے۔عدالت میں ابتدائی بحث میں درخواست گزار کا کہنا تھا کہ محمد غوری کے غلام قطب الدین نے دہلی میں قدم رکھتے ہی پہلے ان 27 مندروں کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ جلدی میں مندروں کو توڑ دیا گیا اور باقی سامان کے ساتھ مسجد کھڑی کردی گئی۔پھراس مسجد کا نام قوت الاسلام رکھاگیا جس کا مطلب ہے اسلام کی طاقت۔ اس کی تعمیر کا مقصد نماز سے زیادہ مقامی ہندو اورجین لوگوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور ان کے سامنے اسلام کی طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا ہے کہ 1192 میں قوت الاسلام مسجد، دہلی کے پہلے مسلماں حکمران قطب الدین ایبک نے تعمیرکی تھی ، لیکن مسلمانوں نے کبھی بھی اس مسجد میں نماز ادا نہیں کی۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس مسجد کے ستونوں ، محرابوں ، دیواروں اور چھت پر مختلف مقامات پر ہندو دیوتاؤں کے مجسمے تھے۔ وہ مجسمے اورمذہبی علامتیں آج بھی قطب مینار کمپلیکس میں بنی اس مسجد میں دیکھی جاسکتی ہیں۔یہ عرضی ساکیت عدالت میں دائرکی گئی ہے۔ عرضی گزار نے تاریخ میں درج معلومات کی بنیاد پر بتایا ہے کہ جو آج ہم مہرولی کے طور پر جانتے ہیں وہ درحقیقت میہروالی ہی تھا جسے چوتھی صدی کے حکمران چندر گپت وکرمادتیہ کے نورتنوں میں سے ایک ورہامہیرانے آبادکیا تھا۔ درخواست میں بتایا گیاہے کہ تاریخ کے مشہور ریاضی دان ورہامہیرہ نے سیاروں کی حرکت کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک بہت بڑا ستون تعمیر کیا جہاں اس وقت قطب مینار کمپلیکس موجودہے۔درخواست کے مطابق 27 برجوں کی علامت کے طور پر اس احاطے میں 27 مندرتھے۔ جین تیرتھنکرس کے ساتھ ساتھ وشنو ، شیو اور گنیش کے مندرتھے۔ہندوستان کے بورڈآف آثار قدیمہ کے سروے نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ 27 ہندو-جین مندروں کو توڑ کر بنایا گیا ہے۔درخواست میں کہاگیاہے کہ عمارت کے بارے میں مکمل معلومات کے باوجود اس وقت کی حکومت نے ہندو اور جین برادری کو اپنا معاملہ پیش کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔ جبکہ مسلم کمیونٹی نے کبھی بھی اس جگہ کو مذہبی طور پر استعمال نہیں کیا۔ اس کے علاوہ یہ وقف کی بھی جائیدادنہیں ہے۔ لہٰذا ان کاکوئی دعوی نہیں ہے۔ اس وقت یہ جگہ حکومت کے قبضے میں ہے۔ اس معاملے میں درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس مسجد کو 27 مندروں کی تعمیر نوکے لیے دیاجائے۔