اب میں مدرسے میں نہیں پڑھاؤں گا(لاک ڈاؤن کے دوران بے روزگار ہونے والے عالمِ دین کی دل خراش سرگذشت)- محمدمصورعالم ندوی

استاذمدرسہ اسلامیہ گیاری، ارریہ,بہار

دوستو!یہ کوئی افسانہ یاکہانی نہیں ہے۔ آج کا ایک حقیقی واقعہ ہےجومیں آپ سےشیئرکرنا چاہ رہا ہوں۔
مؤرخہ2020-12-16 صبح کاواقعہ ہے،جب میں مدرسہ کےلئے گھرسےنکلا،تومیری ملاقات ایک نہایت ہی متواضع ومتشرع اورشریف النفس آدمی سےہوئی،وہ پیدل ہی ایک طالب علم کےہمراہ سائیکل لئےجس پرپیچھےپندرہ بیس کلوکےقریب دھان تھاوصولی کرتاہواکہیں سےآرہاتھا۔ میری جب ان پرنظرپڑی توانھوں نے قدرےخفت کےاحساس کےساتھ منھ پھیرلیااوریہ تاثردینےکی کوشش کی کہ انہوں نےمجھےنہیں دیکھا ہے۔ پھرمیں نےان کوبہت ہی پرتپاک اورحوصلہ بخش سلام کیااورقریب جاکرخبرخیریت معلوم کی توپتہ چلاکہ بندہ حافظ وقاری ہونےکےساتھ ساتھ ایک جیدعالم دین بھی ہے اور ایک نظامیہ مدرسہ کامدرس ہے.اس کےبعدانہوں نےآگےجودردناک باتیں بتائیں، اگر ادنیٰ درجے میں بھی ہمارےاندر کوئی اخلاقی شعوراورانسانی غیرت باقی رہ گئی ہے توہمارے رونگٹےکھڑےکردینےکےلئےکافی ہیں۔
انہوں بتایاکہ حضرت! لاک ڈاؤن کےبعدمدرسہ جوبندہواہے تب سے اب تک گھربیٹھاہوں۔5000روپےتنخواہ تھی،مدرسہ والوں نےکوروناکی تعطیل کےدوران نصف تنخواہ دینے کی بات کی تھی لیکن دس مہینے ہوگئے اس کااب تک کوئی سراغ نہیں ہے،ابھی ہفتہ روزقبل جب میں نےمدرسہ والوں سےکچھ پیسوں کامطالبہ کیا،توانتظامیہ نےصاف منع کردیابلکہ لاکھوں میں کھیلنےوالےسکریٹری مدرسہ نےملاقات تک سےانکارکردیااورخبربھجوادی کہ مولوی صاحب سےکہہ دوکہ نصف تنخواہ کی بات طےہوئی تھی، اگرچاہیےتودھان کی وصولی کرکےلےلیں۔اتنابیان کرنےکےبعدوہ صاحب نمدیدہ ہوگئےاورکہا:مولانا! میں اتنےمضبوط گھرسےنہیں ہوں کہ کچھ نہ بھی کروں توچل جائےگا،اس اگھن کےمہینےمیں بھی گھرمیں راشن نہیں ہے،کڑاکےکی سردی پڑرہی ہے اور بچوں کےپاس گرم کپڑےنہیں ہیں،جاؤں توکہاں جاؤں؟کیاکروں؟کس کےسامنےہاتھ پھیلاؤں؟مجھےبالکل سمجھ میں نہیں آرہاہے۔ مجبوراً چندہ کررہاہوں،دھان کی وصولی بھی برائےنام ہی ہورہی ہے،کوئی ایک کلودھان دےرہاہےتوکوئی دوکلواورکوئی تین کلو،کسی نے پانچ کلودےدیاتووہ اس اندازسےپیش آتاہےکہ سمجھیےانہوں نےمجھ پربہت بڑااحسان کردیا، لوگوں کی کڑوی کسیلی باتوں کوبھی برداشت کرناپڑتی ہے۔حالات بہت ہی ناگفتہ بہ ہیں،کچھ قرض اترجائے اورتھوڑابہت خرچ نکل آئےاس کےلیےدھان کی وصولی کررہاہوں،لیکن مولانا!میں نےٹھان لیاہےکہ”اب میں مدرسے میں نہیں پڑھاؤں گا،سائیکل پرکپڑےبیچنے یاآٹورکشہ اورٹیمپووغیرہ چلانےکاارادہ ہے،دعاکردیں کہ اللہ کوئی انتظام فرمادے‘‘۔اس کےبعدوہ مجھ سےرخصت ہوگئے۔
وہ توچلےگئےلیکن ان کےجومسائل اورمسائل کےنتیجے میں پیداشدہ ان کے جوعزائم تھے،انہوں نےمجھ کواندرسےجھنجھوڑکررکھ دیا۔ میری نگاہوں کےسامنےاسی وقت سے بس وہی آدمی ہے اوردل میں بس ایک ہی سوال باربارپیداہورہاہےکہ کیا وہ آدمی حافظ و قاری اورعالم ہوکرآٹورکشہ اور ٹیمپوچلائےگا؟کیاوہ مدرسہ چھوڑکرکپڑے بیچے گا؟ ہائےاللہ یہ کیاہوگیا؟وہ یہ کام کرے,بےشک وشبہ کرےاوریقیناً کرے,اورسب جائزکام بھی کرےاس میں کوئی گناہ نہیں ہےلیکن سوال یہ ہےکہ کیاوہ امت کبھی فلاح پاسکتی ہےجس کوخیرامت ہونےپرتونازہولیکن اس کےحفاظ ،قرااورعلمانان شبینہ کےمحتاج ہوں؟وہ امت کیسےفلاح پاسکتی ہےجو(اعمال چاہےجوبھی ہوں) سابقہ سبھی امتوں سےپہلےجنت میں جانےکادعویٰ توکرتی ہولیکن اس کی نگاہوں میں علماوحفاظ کی یہ قدرہوکہ جب وہ فاقہ کشی یاکسی مصیبت میں مبتلاہوجائیں توبجائےان کی پرسان حالی کےان کااستہزاکریں اور خودعیش کی زندگی گذاریں اوران کوصبرکی تلقین کریں؟ہم کیوں کرفلاح پاسکتےہیں جبکہ ہمارے علما بھکاریوں کی مانند سڑکوں اورگلی کوچوں میں پھررہےہوں، ایک گھرکےسات سات چکر لگارہےہوں لیکن ہم خیرامت ہوکربھی تماشائی بنےیہ سب کچھ دیکھ اوربرداشت کرہے ہوں،بلکہ ہم ان کےساتھ اہانت آمیزرویہ بھی اپنارہے ہوں۔
یادرکھیےیہی حفاظ وقرااورعلماہمارےسربھی اورسروں کےدستاربھی ہیں۔ اگرہم نےان کی قدرنہ کی توپھرہماری ظاہری طورپربھی اورباطنی طورپربھی کوئی حیثیت اوروقعت باقی نہیں رہ جائےگی۔ یہ حفاظ وقرااورعلما امت کا وہ طبقہ ہیں کہ اگرہم نےان کی پگڑی اچھالنےکی کوشش توہماری پگڑی خودبخوداچھل کرگرجائےگی اورجب گرنےلگےگی تودنیاکی کوئی طاقت پھراس کوسنبھال نہیں سکتی ہے۔ خیرامت کی خیریت اگرمربوط ہےتو اسی طبقہ سےہے,ہرطرف شرکی فضاءاورماحول میں بھی خیرکی کوئی امیداورکرن اگرکہیں سےاورکسی طبقہ سےباقی ہےتویہی مدارس ومکاتب اوراسی طبقہ سےہے،اس لئےخدارامہنگائی وقحط سالی کےاس دورمیں اگرباری تعالیٰ نےہمیں کچھ عزت،شہرت،دولت اورمقام و مرتبہ سےنوازاہےتوہم محتاجوں اورضرورت مندوں کی بالخصوص خدامِ مدارس ومکاتب اورائمۂ مساجدومؤذنین کی خبرگیری، دل جوئی اورمشکل کشائی کواپنی سعادت اورفریضہ سمجھیں۔ ابھی سردی کاموسم ہے،اپنی معلومات کی حدتک حسب وسعت ان کےلئےاوران کےبال بچوں کےلئےگرم کپڑےاورراشن کاانتظام کروائیں۔ کھیتی باڑی کرنےوالےحضرات کوشش کریں کہ عشر کےطورپرنکالی گئی اجناس کو مدرسہ میں لےجاکرخود پہنچائیں۔ اگرکوئی مدرسہ والا ہمارے دروازے اورگھر تک پہنچ بھی جاتاہے تواس کی عزت نفس کاخیال پوراپواررکھیں۔ اگرہم اس کو کچھ دے نہیں سکتےہیں توکم سےکم دو میٹھےبول ہی بول دیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاپاک ارشاد ہے”الکلمۃ الطیبۃ صدقۃ”۔( بھلی بات کہنابھی صدقہ ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*