اب کرناٹک میں لو جہاد اور گئوکشی کے خلاف قانون لانے کی تیاری

بنگلورو:لوجہاد پر بحث کے درمیان بہت ساری ریاستیں قانون بنانے پر غور کررہی ہیں۔ کرناٹک بھی ان ریاستوں میں شامل ہوگئی ہے۔ کرناٹک کے نائب وزیر اعلی ڈاکٹر سی این اشوت نارائن نے کہا کہ ریاستی حکومت لو جہاد اور گئوکشی کے خلاف بل پیش کرنے کی تیاری میں ہے۔ اس سے قبل اترپردیش کی یوگی حکومت نے غیرقانونی تبدیلی مذہب کے خلاف ایک نیا آرڈیننس پیش کیا ہے۔ کرناٹک کے نائب وزیر اعلی اشوت نارائن نے کہا کہ کئی ریاستیں پہلے ہی بل لاچکی ہیں۔ ہم بھی گئوکشی پر پابندی عائد کرنے اور لو جہاد کے خلاف بل لانے کے عمل میں ہیں۔ اکتوبر میں بلبھ گڑھ میں ایک طالبہ کے کالج سے نکلتے وقت کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا،اس کے بعد لوجہاد کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ توصیف اس کیس کا اہم ملزم ہے، جبکہ ریحان اور اجرو باقی ملزم ہیں۔ نکیتا قتل کیس کے احتجاج کے لیے بلبھ گڑھ میں تشدد برپا ہوا تھا۔ لوگوں نے سڑک جام کردیا تھا اور آتشزدگی کی تھی۔حال ہی میں اتر پردیش حکومت نے زبردستی مذہب تبدیل کرنے کی تحقیقات کے لیے آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ گورنر نے اس آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔