اب حلال گوشت پر تنازعہ ـ معصوم مرادآبادی

 

بی جے پی اقتدار کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ فسطائی ٹولہ جس چیز پر بھی اعتراض درج کراتا ہے، اس کے خلاف پولیس اور انتظامیہ فوراً سرگرم ہوجاتے ہیں۔ خواہ یہ اعتراض آئین وقانون کے سراسر خلاف ہی کیوں نہ ہو۔اس کا ایک ثبوت حال ہی میں بی جے پی کے اقتدار والی ریاست اتراکھنڈ میں دیکھنے کوملا ہے، جہاں ایک بورڈنگ اسکول کو ’حلال گوشت‘ کی سپلائی کے لیے ٹینڈر جاری کرنا اتنا مہنگا پڑا ہے کہ اس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج ہوگیا ہے۔یہ کارروائی بجرنگ دل کی شکایت پر عمل میں آئی ہے ۔ حالات کا دباؤ اتنا شدید ہے کہ پوری طرح قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کے باوجود اسکول انتظامیہ دفاعی پوزیشن میں ہے اور اسے معافی تلافی کرنی پڑرہی ہے۔
سبھی کو معلوم ہے کہ ملک کا دستور اور قانون ہر شہری کو اپنی پسند کی زندگی گزارنے اور کھانے پینے کی اشیاء کا انتخاب کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ یہی معاملہ مذہب اور عقیدے کا بھی ہے، لیکن ان دنوں ملک میں فرقہ واریت کی جوخطرناک لہریں چل رہی ہیں ، ان میں نہ تو مذہبی آزادی باقی رہ گئی ہے اور نہ ہی لوگوں کو اپنی پسند کے کھانے چننے کا اختیارہے۔آج فرد کی آزادی کوجو خطرہ لاحق ہے ، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ایسی تمام آزادیوں پر پہرے بٹھائے جارہے ہیں جن کی ضمانت ملک کے سیکولر جمہوری آئین نے ہرشہری کو فراہم کی ہے اور جس کے طفیل ہندوستانی عوام امن وچین کی زندگی گزارتے چلے آرہے ہیں۔لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ختم ہونے والا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس ملک کے تمام باشندے کچھ فسطائی عناصر کی شرانگیزیوں کے اسیر ہوکر رہ جائیں گے۔ملک کی رنگارنگی کو ختم کرکے یہاں یک رنگی قایم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یعنی اکثریت کے مذہب ، کلچر اور زبان کے علاوہ باقی سب کو ٹھکانے لگانے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔ پورے ملک کی فضا کو زعفرانی بنانے کی کوششیں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہیں۔بقول محترم اظہرعنائتی
جو باقی رنگ ہیں ، وہ کیا کریں گے
فضا سب زعفرانی ہوگئی ہے
اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرہ دون میں ایک مشہور عیسائی بورڈنگ اسکول کی انتظامیہ کے ساتھ مقامی پولیس نے بجرنگ دل کے دباؤ میں جو رویہ اختیار کیا گیاہے ، وہ نہ صرف جابرانہ ہے، بلکہ دستور اورقانون کے اعتبار سے بھی درست نہیںہے، لیکن چونکہ شکایت سنگھ پریوار کی ایک جارحیت پسند تنظیم کی طرف سے کی گئی ہے، اس لیے پولیس نے سب کچھ پس پشت ڈال کراسکول کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔اسکول کے منیجر ، پرنسپل اور نائب پرنسپل پر دوفرقوں کے درمیان منافرت کو فروغ دینے کا مقدمہ درج کرلیاگیا ہے۔ قصور محض اتنا تھا کہ انھوں نے اسکول میس کے لیے حلال گوشت کی فراہمی کا ٹینڈر شائع کرایا تھا۔ واضح رہے کہ اس اسکول میں تمام فرقوں کے بچے زیرتعلیم ہیں اور انتظامیہ ان کے عقیدے کے مطابق انھیں غذا فراہم کرنے کا پابند ہے۔ لیکن آرایس ایس کی ذیلی تنظیم بجرنگ دل کویہ اشتہار اتنا ناگوار گزرا ہے کہ اس نے حلال گوشت کو بھی جبری تبدیلی مذہب سے جوڑ کر ایک ہنگامہ برپا کردیا ہے۔بجرنگ دل کی دہرہ دون اکائی کے لیڈر وکاس ورما نے دالن والا پولیس اسٹیشن میں گزشتہ 29 جون کو یہ شکایت درج کروائی کہ اسکول نے حلال گوشت کی فراہمی کا ٹینڈر دراصل ’مذہبی تبدیلی ‘ کی منشا سے جاری کیا ہے ، جس سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ورما نے کہا کہ’’ اسکول کی طرف سے حلال گوشت سپلائی کرنے کا ٹینڈر جاری کرنا دراصل تبدیلی مذہب کی جانب پہلا قدم ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’کچھ دیگر اسکول اور اسپتال بھی یہی کام کررہے ہیں ، لہٰذاہم پورے صوبے میں ایسے لوگوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مہم چلارہے ہیں۔‘‘
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس اسکول کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اس میں کسی کا نام نہیں ہے بلکہ صرف ملزمان کے عہدوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کررہے سب انسپکٹر مہاویر سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ تعزیرات ہند کی دفعہ505(2)کے تحت دوفرقوں کے درمیان عداوت کو فروغ دینے والا بیان شائع کرنے کے لیے درج کیا گیا ہے، تاہم شکایت درج کرانے والے بجرنگ دل لیڈر وکاس ورما کا کہنا ہے کہ’’ اس معاملے میں مزید سخت دفعات عائد کی جانی چاہئے، کیونکہ وہ جو کچھ کررہے تھے وہ قطعی طورپر ناقابل معافی ہے۔ وہ ہندو طلبا کو صرف حلال گوشت کی فراہمی کی دعوت دے رہے تھے، جس کی ہندو مذہب میں اجازت نہیں ہے۔‘‘ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب ہندو طلباء گوشت کھاتے ہی نہیں ہیں تو انھیں’حلال گوشت‘ فراہم کرنے کی دعوت دینے کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے۔اسکول کے ہاسٹل میں مقیم مسلم اور عیسائی طلبا ء کے لیے حلال گوشت کی فراہمی کا اشتہار جاری کیا گیا تھا جوپوری طرح ایک قانونی سرگرمی تھی، لیکن اس پر پولیس نے جس انداز میں آناً فاناً کارروائی انجام دی ہے ، اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بی جے پی سرکاروں میں انتظامیہ اور پولیس پوری طرح سنگھ پریوار کا دست نگر ہے اورسنگھ پریوار کی ذیلی تنظیموں کی ہٹ دھرمی کے سامنے قانون اور دستور کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
اسکول کے وائس پرنسپل مہیش کنڈپال نے اس سلسلہ میں ایک جوابی بیان اور نئے اشتہار کی کاپی ’ انڈین ایکسپریس‘ کو دکھائی جس میں کہا گیا ہے کہ کسی غلطی کی وجہ سے ٹینڈر نوٹس میں کچھ باتیں شائع ہونے سے رہ گئی تھیں جنھیں اب دوسرے ٹینڈر میں شائع کرایا جارہا ہے۔ اسکول کی طرف سے اس معاملے میں کسی فرقے یا فرد کے مذہبی جذبات کو جانے انجانے میں ٹھیس پہنچنے پر معافی بھی طلب کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔‘‘ مگر یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس ٹینڈر کی اشاعت سے کسی دوسرے فرقہ کے مذہبی جذبات کا کیا تعلق ہوسکتا ہے اور اس میں تبدیلی مذہب پر اکسانے کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے۔اگر کسی کے کھانے پینے کے طریقوں سے متاثر ہوکر کسی مذہب کے لوگ اپنا دھرم تبدیل کرلیتے ہیں تو پھر اس مذہب کے ٹھیکیداروں کو اپنے مذہب کی اس کمزوری پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
ہم یہاں حلال گوشت کے تعلق سے بعض بنیادی باتوں کی طرف اشارہ کرنا چاہیں گے۔ اوّل یہ کہ ملک بھرمیں جتنے بھی میس یا بڑے ہوٹل ہیں ، وہ اپنے یہاں حلال گوشت کو ہی فوقیت دیتے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حلال گوشت سائنٹفک طور پر زیادہ محفوظ اور صحت مند تصور کیا جاتا ہے۔ اس کو زیادہ عرصہ تک فریز کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں جتنے بھی گوشت کے ایکسپورٹرہیںوہ حلال گوشت ہی ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ ان ایکسپورٹروں میںاکثریت غیرمسلم برادران وطن کی ہے۔تمام فائیواسٹار ہوٹل بھی حلال گوشت ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ملک کی پارلیمنٹ کی کینٹین میں بھی حلال گوشت ہی سپلائی ہوتا ہے۔ لیکن حلال گوشت کے ساتھ چونکہ مسلمانوں کا نام وابستہ ہے، اس لیے بجرنگ دل کو اس معاملے میں ہنگامہ آرائی کا موقع مل گیا۔دوسری بات یہ ہے کہ بجرنگ دل نے اس معاملے میں مرچ مسالہ لگانے کے مقصد سے اسے تبدیلی مذہب سے جوڑنے کی ناکام بھی کوشش کی ہے۔ آج کل چونکہ تبدیلی مذہب کا موضوع نفرت پھیلانے کا سب سے مضبوط ہتھیار ہے، اس لیے پر اس کا تڑکا لگانا بے حد ضروری ہے ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ جب سے انتہاپسند تنظیموں نے غیرقانونی ذبیحہ کے نام پر مہم چلائی ہے تب سے گوشت کا قانونی کاروبار کرنے والوں کا بھی جینا حرام ہوگیا ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ ملک میں گوشت کے ایکسپورٹ سے حکومت کو اربوں روپوں کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے، لیکن گوشت کے چھوٹے تاجر انتہائی پریشانی میں زندگی گزار رہے ہیں، کیونکہ کہیں بھی ان پر گاؤ کشی کا الزام لگاکر ان کی گاڑیاں روک لی جاتی ہیں اور انھیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ اب حلال گوشت کے خلاف بجرنگ دل کی اس نئی مہم سے ہراسانی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔گئورکشکوں نے پہلے ہی ملک میں اپنا متوازی نظام قایم کررکھا ہے اور وہ جہاں چاہتے ہیں قریش برادری کے لوگوں کو تشدد اور ناجائز وصولی کا نشانہ بناتے ہیں۔حلال گوشت کی سپلائی کے جائزاورقانونی کام کوبھی اب غیرقانونی قرار دے کر اس پر بندشیں عائد کی جاسکتی ہیں۔ دہرہ دون کے واقعہ سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔