اب دنیا کو خیر باد کہنے کا وقت آرہا ہے۔ایم ودود ساجد

آپ کو خواجہ یونس کا نام یاد ہے؟
اگر نہیں تو انسپکٹر سچن وازے کا نام تو ضرور یاد ہوگا۔ یہ نام تو آج کل خبروں میں روز آرہا ہے۔ سچن وازے مہاراشٹر پولیس کی کرائم برانچ کے انسپکٹر کا نام ہے۔سچن وازے کو انکاؤنٹر اسپیشلسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یاد آیا؟

اگر اب بھی یاد نہیں آیا تو تھوڑا پیچھے جائیے۔یہ تو ضرور یاد ہوگا کہ گزشتہ 4 نومبر کو ریپبلک چینل کے ایڈیٹر ارنب گوسوامی کو اس کے گھر پر دھاوا بول کر گرفتار کرلیا گیاتھا۔گرفتار کرنے والی اس پولیس ٹیم میں یہ سچن وازے بھی شامل تھا۔ ارنب گوسوامی نے اس کے نام کا بیج دیکھ کر اسے پہچان لیا تھا۔ اس نے چیخ چیخ کر کہا تھا کہ تم وہی سچن ہو نا جو انکاؤنٹر اسپیشلسٹ ہے۔

گزشتہ روز اس سچن وازے کو این آئی اے نے گرفتار کرلیا ہے۔ این آئی اے دہشت گردی کے واقعات کی تفتیش کرتی ہے۔ سچن وازے پر انل امبانی کے گھر کے باہر کھڑی اُس کار کے قضیہ میں ملوث ہونے کا الزام ہے جس میں جیلاٹن کی چھڑیاں پائی گئی تھیں اور بعد میں جس کے ڈرائیور کی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ کار کا مالک سچن وازے کا دوست ہے اور یہ کار پچھلے تین مہینے سے سچن وازے کے استعمال میں تھی۔گزشتہ روز 9 گھنٹے تک این آئی نے اُس سے سخت جان توڑ تفتیش کی اور پھر گرفتار کرلیا۔

خواجہ یونس پربھنی (مہاراشٹر) کا 27 سالہ خوبرو نوجوان تھا۔وہ کمپیوٹر انجینئر تھا اور دوبئی میں کام کرتا تھا۔دسمبر 2002 میں گھاٹ کوپر (ممبئی) میں ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔سی آئی ڈی نے 25 دسمبر 2002 کو خواجہ یونس سمیت دیگر کئی نوجوانوں پر اس بم دھماکے کا الزام عاید کرتے ہوئے گرفتار کرلیا تھا۔

پولیس نے خواجہ یونس کو ماسٹر مائنڈ بتایا تھا۔ٹرائل کورٹ نے خواجہ یونس کے ساتھ گرفتار ہونے والے تمام افراد کو یا تو مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی ڈ سچارج کردیا تھا یا ٹرائل کے بعد بری کردیا تھا۔لیکن خواجہ یونس اپنی گرفتاری کے 12دن بعد ہی ’غائب‘ ہوگیا تھا۔

خواجہ یونس کے بھائی نے بتایا تھا کہ اس نے دو دن بعد خواجہ یونس سے پولیس حراست میں ملاقات کی تھی‘ وہ بہت زیادہ کمزور ہوگیا تھا۔۔ اسے اتنا ٹارچر کیا گیاتھا کہ وہ کھڑا بھی نہیں ہو پارہا تھا۔6 جنوری 2003 کو خواجہ یونس کی یا تو پووائی تھانے میں پولیس حراست میں موت ہوگئی تھی یا اس وقت ہوگئی تھی جب اسے اورنگ آباد لے جایا جارہا تھا۔پولیس پر الزام ہے کہ اس نے خواجہ یونس کو حراست میں ٹارچر کیا تھا۔

خواجہ یونس کی موت کے بعدجب ہنگامہ برپا ہوا تو اسسٹنٹ سب انسپکٹر سچن ہندوراؤ وازے اور تین دیگر پولیس والوں کے خلاف دفعہ 302 اور 201 کے تحت مقدمہ قائم کرلیا گیا۔اس معاملہ کی تفتیش سی آئی ڈی نے کی جس نے کل 14پولیس اہلکاروں کو خواجہ یونس کی موت کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف مقدمہ چلانے کی سفارش کی۔لیکن حکومت نے محض ان پانچ لوگوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دی۔ ممبئی ہائی کورٹ کے سخت احکامات کے بعد چار پولیس اہلکاروں کو 2004 میں اور سچن وازے کو 2007 میں معطل کردیا گیا۔

جنوری 2018میں ایک عینی شاہد نے گواہی دی تھی کہ اس نے پووائی یونٹ میں پولیس کو خواجہ یونس کو ٹارچر کرتے ہوئے دیکھا تھا۔پولیس اس وقت تک اسے ٹارچر کرتی رہی جب تک وہ بے دم نہ ہوگیا۔اس کے باوجود جون 2020 میں مہاراشٹر حکومت نے ان تمام معطل شدگان کو پھر بحال کردیا اور 5 جولائی کو چاروں نے کام کاج سنبھال لیا۔

خواجہ یونس کی والدہ 17سال تک اِس عدالت سے اُس عدالت کے چکر کاٹتی رہیں۔یہ عدالت ہی کی وجہ سے ممکن ہوسکا تھا کہ ان چار پولیس والوں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔ممبئی ہائی کورٹ نے 7 اپریل 2004 کوان کی معطلی کے احکامات جاری کرتے ہوئے ان کے خلاف تادیبی تفتیش کرنے کی بھی ہدایت جاری کی تھی۔حکومت نے انہیں معطل تو کیا لیکن ان کے خلاف تادیبی تفتیش شروع نہیں کی۔اوپر سے 2020 میں یعنی 13سال بعد انہیں پھر بحال کردیا۔

خواجہ یونس کی 72سالہ والدہ آسیہ بیگم نے ممبئی ہائی کورٹ میں پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کے خلاف توہین عدالت کی رٹ دائر کی۔پرم بیر سنگھ معطل شدہ افسران کے معاملات کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے چیر مین بھی ہیں۔ہائی کورٹ نے پولیس کو نوٹس جاری کرکے پوچھا کہ انہوں نے عدالت کے احکامات کے باوجود کیوں قصور وار پولیس افسران کے خلاف تادیبی تفتیش نہیں کی۔پولیس نے جواب دیا کہ چونکہ ان چاروں پولیس والوں کے خلاف پہلے ہی ایک مجرمانہ مقدمہ قائم کردیا گیا تھا اس لئے ان کے خلاف تادیبی تفتیش قائم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔پولیس نے اپنے جواب میں اور بھی کئی بے ہودہ اور بوگس دلائل دے کر اپنی بے عملی کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔

آئیے اب تازہ معاملہ کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔اوپر بتایا گیا کہ خواجہ یونس کی حراست میں موت کا ایک اہم ذِمہ دار انسپکٹر سچن وازے اِس وقت این آئی اے کی حراست میں ہے۔اس سے زبردست پوچھ تاچھ ہورہی ہے۔پوچھ تاچھ میں شدت اس لئے بھی کی جارہی ہے کہ این آئی اے مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ ارنب گوسوامی مرکزی حکومت کا منظور نظر ہے اور سچن وازے ارنب گوسوامی کی نظروں میں بری طرح کھٹک رہا ہے۔اس لئے اس معاملہ کو اس زاویہ سے بھی دیکھا جانا چاہیے۔

سچن وازے نے گزشتہ روز این آئی اے کے دفتر کےلیے روانہ ہونے سے کچھ پہلے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک پیغام جاری کیاتھا۔یہ پیغام پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ سچن وازے نے لکھا:

"…… 3 مارچ 2004 کو سی آئی ڈی میں میرے ساتھی افسروں نے مجھے ایک بے بنیاد کیس میں گرفتار کیا تھا۔آج کی تاریخ تک یہ گرفتاری بے نتیجہ ہے۔سمجھ رہا ہوں کہ تاریخ خود کو دوہرانے جارہی ہے۔ میرے ساتھی افسران مجھے فرضی معاملہ میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ منظر نامہ میں ہلکا سافرق ہے۔ اُس وقت میرے پاس شاید امید‘ صبر‘ زندگی اور سروس کے 17سال تھے۔ اب میرے پاس نہ زندگی کے مزید 17 سال ہوں گے‘ نہ سروس کے اور نہ ہی جینے کی خواہش میں صبر کے 17سال۔ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کو خیر باد کہنے کا وقت نزدیک آرہا ہے‘۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*