19 C
نئی دہلی
Image default
تجزیہ

"اب دعاؤں پہ گزارا نہیں ہونے والا”

اشعر نجمی

آج مہاراشٹر میں "لاک ڈاؤن” سے ایک قدم آگے بڑھا کر یہاں "کرفیو” نافذ کردیا گیا ہے۔ شاید دہلی میں بھی کرفیو نافذ ہوگیا ہے۔ یہ صورت حال کب تک برقرار رہے گی، کتنے اور شہر اس کی زد میں آئیں گے، یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا چونکہ WHO کے مطابق انڈیا چونکہ ایک گنجان آبادی والا ملک ہے، اس لیے یہاں یہ وبا جنگل کی آگ کی طرح پھیل سکتی ہے۔ سرکاروں اور NGOs کو جو کرنا ہے وہ کریں گے اور وہ حسب استعداد کررہے ہیں، حالاں کہ انھیں تسلی بخش قطعی نہیں کہا جا سکتا۔لیکن ہم خود شکوے شکایت، طنز، مذاق اور جملے بازی کے علاوہ کیا کررہے ہیں؟ یقین مانیے ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں چونکہ اس وبا کا براہ راست تعلق ہم سے ہے نہ کہ سرکار اور اداروں سے۔ ہم بچیں گے تو سرکاریں بھی رہیں گی اور ادارے بھی۔ ہم زندہ رہیں گے تو حکومتوں کے خلاف احتجاج بھی سلامت رہے گا اور اپنے مخالفین کو گالیاں دینے کا وقت بھی ملے گا۔ اس وقت ہم ہی سرکار ہیں، ہم ہی ڈاکٹر ہیں اور ہم ہی اپنی ذات میں فلاحی ادارے ہیں۔ میں نے کل شام کو لاک ڈاؤن کے وقت اپنے علاقے میں جو منظر دیکھا، اس سے یقین ہوگیا کہ ہم اس وبا کے تعلق سے اتنے سنجیدہ قطعی نہیں ہیں جتنا ہونا چاہیے۔ ہم لاک ڈاؤن کے نام پر صرف چھٹیاں منا رہے ہیں۔ ہم ذرا سی چھوٹ ملنے پر اب بھی چائے خانوں میں محفلیں سجانے کی تاک میں ہیں، نہ کوئی ماسک استعمال کررہا ہے اور نہ کسی کے ہاتھ میں ٹشو پیپر یا رومال ہے۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے کے وہ دھنا سیٹھ حضرات جو رمضان میں فطرے، زکوٰۃ اور خیرات کے نام پر لاکھوں روپے تقسیم کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکر میں رہتے ہیں اور وہ صاحب ایثار حضرات جو بقرعید میں پچاس ہزار اور ایک لاکھ کے بکروں کے ساتھ سینہ پھلائے سڑکوں پر "فیشن پریڈ” میں شامل ہونے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں، انھیں یہ فکر تک نہیں کہ اس لاک ڈاؤن اور کرفیو والے دنوں میں ان کا کوئی غریب وغیور پڑوسی کہیں بھوکا نہ سوگیا ہو یا اس کے پاس کتنے دنوں کا راشن موجود ہے؟ لاک ڈاؤن کے سبب منافع خوروں نے اشیا کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ کردیا ہے، جن کے پاس پیسے ہیں ان کی زبان پر حرف شکایت نہیں اور جن کے پاس نہیں ہے وہ ہونٹوں پر اپنی سوکھی زبان پھیرکردکانوں سے نظریں بچاتے ہوئے گھر کی راہ پکڑ لیتے ہیں۔جن لوگوں کا ایمان ہے کہ یہ آزمائش کی گھڑی ہے اور دنیا امتحان گاہ ہے تو ان کے لیے ایک خوش خبری ہے کہ آخری گھنٹی بج چکی ہے، آپ کو سوالات اور جوابات کے لیے کاپیاں تقسیم کی جا چکی ہیں، شروع ہوجائیے۔ مسجدیں بند کردی گئی ہیں، لیکن امتحان جاری ہے۔ اس وقت آپ جو پرچہ حل کرنے امتحان گاہ میں بیٹھے ہیں، وہ "حقوق اللہ” کا نہیں "حقوق العباد” کا ہے، یہاں آپ کی نیکیوں کا شمار آپ کے سجدوں پر نہیں بلکہ آپ کے باعمل ارادوں پر کیا جائے گا اور یاد رکھیے کہ یہ پرچہ لازمی یعنی Compulsory ہے، اگر آپ اس پرچے میں فیل ہوئے تو آپ کا حقوق اللہ والا پرچہ بھی آپ کو بچا نہ سکے گا، خواہ آپ نے اس میں کتنا ہی بڑا مارکس کیوں نہ حاصل کیا ہو۔

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبِیاں

اس وقت ہم خود اپنے محتسب ہیں، اپنے آس پاس بھٹکتے غیر سنجیدہ لوگوں کی سرزنش کیجیے۔ منافع خوروں پر اناج کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سماجی دباؤ ڈالیے، اپنے ماتحتوں کی ضروریات کا خیال رکھیے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنا بھی ضرور خیال رکھیے۔ اس کے علاوہ وہ اصحاب جو الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور بطور خاص اردو اخباروں سے کسی نہ کسی طور وابستہ ہیں، وہ اس نفسا نفسی کے ماحول میں انسانیت کی بڑی خدمت کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے اخباروں میں کسی بھی قسم کا ایسا جاہلانہ اور ناعاقبت اندیشانہ مضمون شائع کرنے سے گریز کریں جس سے سماج میں اس وبا کے تعلق سے جہالت میں اضافہ ہوتا ہو بلکہ اس کی جگہ وہ ایسےسائنسی مضامین یا اس وبا سے معاشرتی سطح پر لڑنے کے لیے لوگوں کو ترغیب دیتے ہوئے مضامین کو ترجیح دیں اور اس کے ساتھ ہی کوشش کریں کہ لوگوں میں ہراس اور مایوسی قطعی نہ پھیلے بلکہ ان تحریروں میں زندگی اور امید کی زیریں لہریں رواں ہوں۔ مختصر یہ کہ اس نفسا نفسی کے عالم میں ہر شخص اپنی اپنی جگہ "لنگر انداز” ہوسکتا ہے چونکہ یہ طے ہوچکا ہے کہ "اب دعاؤں پہ گزارا نہیں ہونے والا۔” لہٰذا جسموں کے فاصلے بڑھائیے اور دلوں کی دوریاں کم کیجیے کہ اس وبا سے لڑنے کا یہی ایک علاج ہے جو اب تک دریافت ہوا ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات کی بنیاد پر قندیل کاان سے اتفاق ضروری نہیں)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment