اب دینی مدرسوں پربھی بلڈوزر ـ معصوم مرادآبادی

 

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ دہلی کے جہانگیرپوری علاقہ میں فرقہ وارانہ تصادم کے بعد مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں کو بلڈوزر سے یہ کہہ کر منہدم کردیا گیا تھا کہ یہاں سے ہنومان جینتی کی یاترا پر پتھراؤ ہوا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس کارروائی کے دوران وہاں کی جامع مسجد کے بیرونی حصہ کو بھی منہدم کردیا گیا تھا۔ جس وقت یہ کارروائی انجام دی جارہی تھی تو بلڈوزر کا رخ مسجداور اس کے میناروں کی طرف بھی تھا اور بلڈوزر باربار مسجد پرمنڈلارہا تھا۔ یہ منظرپوری دنیا میں لاتعداد لوگوں نے دیکھا۔ اس کا مقصد دراصل یہ باور کرانا تھا کہ بلڈوزر کی زد میں صرف مسلمانوں کے مکان، دکانیں اور تجارتی ادارے ہی نہیں بلکہ وہ مسجدیں اور مدرسے بھی ہیں جنھیں اسلام کے قلعے کہا جاتا ہے۔

اگر آپ غور سے دیکھیں تو اس وقت ملک میں سب سے زیادہ مسجدیں اور مدرسے ہی نشانے پرہیں۔ تازہ ترین معاملہ بنارس کی گیان واپی مسجد کا ہے جہاں ویڈیو گرافی کے نام پر مسجد کو متنازعہ بنانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔

معاملہ مسجدوں کے میناروں سے بلند ہونے والی پنج وقتہ اذانوں کا ہو یا سڑکوں پر ادا کی جانے والی نمازوں کو رکوانے کا۔ ان سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح سے مسلمانوں کو زک پہنچائی جائے اور انھیں دویم درجہ کا شہری ہونے کا احساس کرایا جائے۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے طورپر گزشتہ جمعرات کو یوپی کے سب سے بڑے شہر کانپور میں ایک دینی مدرسے کو ناجائز تعمیرات کا حوالہ دے کر منہدم کردیا گیا ہے۔ انہدامی کارروائی کے دوران قرآن کریم اور احادیث کی کتابوں کی بے حرمتی بھی ہوئی، لیکن بلڈوزر چلانے والوں کو اس کا کوئی خیال نہیں آیا۔ اس سے قبل اترپردیش کے ہی مبارک پور میں مدرسہ جامعہ اشرفیہ کی تیس برس پرانی رہائشی کالونی کے بعض حصوں پر بلڈوزر چلاکر انھیں منہدم کردیا گیا تھا۔

کانپور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گھاٹم پور میں واقع مدرسہ میں انہدامی کارروائی بغیر کسی پیشگی نوٹس کے عمل میں آئی ہے۔ مدرسے کے ذمہ داروں کی طرف سے جائز تعمیرات کے تمام کاغذات دکھانے کے باوجود ایسا کیا گیا اور مدرسے کے ذمہ داروں کی کوئی بات نہیں سنی گئی۔ پرنسپل انتظاراحمد کا کہنا ہے کہ جہاں انہدامی کارروائی کی گئی ہے وہ جگہ قطعی غیرمتنازعہ ہے۔ اس سلسلہ میں نگرپالیکا کے دعوے قطعی بے بنیاد ہیں اور معاملہ ڈویژنل کمشنر کی عدالت میں زیرسماعت ہے۔پرنسپل کا یہ بھی کہنا ہے کہ مدرسے کو ایک سازش کے تحت جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے اور اس سے میونسپل انجینئر کی مسلمانوں سے نفرت کھل کر سامنے آئی ہے۔ انھوں نے انجینئر کی فوری معطلی اور نقصان کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں شہرقاضی مفتی محمدثاقب مصباحی نے ڈی ایم سے ملاقات کرکے نگرمہاپالیکا کے ایکزیکٹیو انجینئر کی من مانی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ اس واقعہ سے پورے شہر میں سخت نارا ضگی ہے اور شہر کاامن وامان متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ڈی ایم نے تحقیقات کے بعد قصورواروں کے خلاف کارروائی کا یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں قانون کی حکمرانی قایم رہے گی اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس دوران اترپردیش کے ہی سنت کبیر نگر میں سابق ممبراسمبلی تابش خان کے رائس مل کو ناجائز قرار دے کر اس پر بھی بلڈوزر چلادیا گیا ہے۔الزام ہے کہ یہ رائس مل رہائشی علاقہ میں تعمیر کیا گیا تھا۔ تابش خان کا کہنا ہے کہ ان کے رائس مل کو محض اس لیے گرایا گیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔

اس سے پہلے رمضان کے دوران اترپردیش کے مبارک پور میں واقع مرکزی دینی درس گاہ جامعہ اشرفیہ میں انہدامی کارروائی عمل میں آئی تھی۔ جامعہ کیمپس میں تیس برس پرانی ٹیچر کالونی کو یہ کہتے ہوئے منہدم کرنا شروع کردیا گیاتھا کہ یہ سرکاری نالے پر بنی ہوئی ہے۔ اس کارروائی سے پورے علاقہ میں افراتفری مچ گئی تھی۔ بلڈوزر کے ساتھ تحصیل افسران اور پولیس فورس بھی موجود تھی جبکہ ٹیچر کالونی کے سبھی اساتذہ رمضان کی چھٹیوں میں اپنے اپنے گھروں کو گئے ہوئے تھے۔واضح رہے کہ اس ٹیچر کالونی میں پڑھائی کے دوران دودرجن سے زائد ٹیچر اپنے بال بچوں کے ساتھ الگ الگ فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ دوبرس کی کرونا وبا اور سالانہ عام تعطیل کے دوران سبھی طالب علم بھی غیرحاضر تھے اور مدرسے کے ذمہ داران بھی چندے کے سلسلہ میں سفر پر تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہدامی کارروائی کے دوران وہاں سے سازوسامان نکالنے کی بھی مہلت نہیں دی گئی۔

ان پے درپے واقعات کودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بلڈوزر اب ہماری قومی پہچان بنتا جارہاہے۔بلڈوزر کی حکمرانی کے معنی یہ ہے کہ ملک میں قانون کا راج ختم ہوچکا ہے۔ عدالتوں نے اپنا کام کرنا بندکردیا ہے اور بلڈوزر کو سماج کے کمزورطبقوں کی زندگی جہنم بنانے کا سب سے بڑا ہتھیار بنالیا گیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ملک میں ناجائز تعمیرات نہیں ہیں، لیکن اس بلڈوزر کی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف انہی لوگوں کے خلاف استعمال ہورہا ہے جو حکمراں جماعت سے نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں یا وہ کسی دوسری پارٹی کے ساتھ ہیں۔حالیہ سیاسی نظام میں اختلاف رائے کو سب سے بڑا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔حالیہ دنوں میں اس کی سب سے شرمناک شروعات مدھیہ پردیش کے کھرگون ضلع میں رام نومی کے دوران ہوئی تھی۔ وہاں رام نومی کے جلوس پر پتھراؤ کا الزام لگاکر ایک مقامی مسلم آبادی کو تہہ تیغ کردیا گیا تھا۔ اس دوران صوبائی وزیراعلیٰ نروتم مشرا کا یہ شرمناک بیان لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا تھا کہ جن مکانوں سے پتھر برسے ہیں انھیں پتھروں میں تبدیل کردیا جائے گا۔

میں نے حال ہی میں چندروز مغربی یوپی میں گزارے تو محسوس کیا کہ وہاں لوگوں کے ذہنوں میں بلڈوزر کا خوف ایسے ہی سرایت کرگیا ہے جیسا کہ سی اے اے اور این آرسی کا سرایت کرگیا تھا۔ اس دوران جس طرح لوگ اپنی شہریت کے جائز کاغذات موجود ہونے کے باوجوداین آرسی سے خوفزدہ تھے، اسی طرح آج ان پر بلڈوزر کا خوف اس حدتک سوار ہے کہ وہ اپنے جائز مکانوں اور دکانوں پر بھی بلڈوزر چلتا ہوا محسوس کررہے ہیں۔یہ ایک ایسا نفسیاتی خوف ہے جو موجودہ حکمرانوں نے اپنے ظالمانہ اور جابرانہ اقدامات سے پیدا کیا ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان حالات کا مقابلہ حوصلے اور ہمت کے ساتھ کریں اور کسی قسم کے خوف کو اپنے اوپر سوار نہ ہونے دیں۔