اب دے کے صدا، لاکھ بُلا،کیسے ملے گی؟ ـ سیماب ظفر

اب دے کے صدا، لاکھ بُلا، کیسے ملے گی؟
اُس آنکھ کی سرسبز دُعا کیسے ملے گی؟

جو اپنے اُگائے ہوئے غنچے کو جلا دے
اُس ہاتھ کو خوشبو کی عطا کیسے ملے گی؟

رد کر کے جسے دھر دیا، مقبول دُعا تھی
اب شعر میں تاثیر، بتا! کیسے ملے گی؟

اے ہنستے ہوئے ہونٹو! خبر ہو تو بتانا
سُلگی ہوئی آنکھوں کو شفا کیسے ملے گی؟

اندھیر ہے! توحید کا پھل کس سے ملے گا؟
کل یُگ ہے! نبھانے کی جزا کیسے ملے گی؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*