آئیے، اپنی آزادی کا احتساب کریں -پروفیسرمحمد سلیم انجینئر

 

ہم نے ابھی ابھی ملک کے 75واں یوم آزادی کا جشن منایا ہے۔آزادی ایک نعمت ہے جس کی بنیاد پر لوگ اپنی مرضی سے فیصلے کرسکتے ہیں ۔ اس حق کے حصول کے لئے ہمارے اکابرین نے بڑی قربانیاں دیںتب جاکر اس عظیم نعمت کو حاصل کیا ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نعمت کی قدر کریں اور اس کے جو تقاضے اور مطالبے ہیں انہیں پورا کریں ۔ اس کے تقاضے یہ ہیں کہ جس بنیاد پر ہمارے آئین سازوں نے اس ملک کو آگے لے جانے کا فیصلہ کیا تھا،ان بنیادوں کو لے کر ہم آگے بڑھیں اور سب مل کر ملک کو امن ، خوشحالی، محبت اور انصاف کی راہ پر لے جانے اور ترقی دینے کی کوشش کریں اور اس بات کا عہد کریں کہ قانون کی بالادستی ہمیشہ قائم رکھیں گے، آئین میں جس کو جو آزادی دی گئی ہے اس کی پاسداری کریں گے۔ آئین میں اقلیتوں کے حقوق، ان کے رسم و رواج ، تعلیمی اداروں ، مذہبی آزادی اور سلامتی کی جو ضمانت دی گئی ہے ، اس کو یقینی بنانے کو اپنا فریضہ سمجھیں گے ۔ جشن آزادی منانے کے بعد ہمیں یہ احتساب بھی کرنا ہوگا کہ ہم سے کہاں پر کوتاہیاں ہورہی ہیں اور کہاں پر جانے انجانے میں ہم سے اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔یہ احتساب عوامی اور سرکاری دونوں سطح پر ہونا چاہئے ۔ دستور میں ہندوستان کو ایک سیکولر ملک قرار دیا گیاہے اور کہا گیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا ۔ ہم نے جشن آزادی منا لیا ،اب یہ احتساب کرنا ہے کہ کیا ملک میں اقلیتوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو آئین نے انہیں دیا ہے؟اگر نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے جشن مناکر ایک رسم تو پورا کرلیا لیکن قانون کی بالا دستی کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ قانونی نقطہ نظر سے لوگوں کو آزادی اس وقت ملتی ہے جب ان کو مکمل مذہبی آزادی ملی ہوئی ہو ، ان پر کوئی ناجائز یا غیر ضروری حدیں نہیں لگائی گئی ہوں اور آئین میں دی گئی ضمانتوں پر مکمل عمل ہوتا ہو۔

ہندوستان کی مرکزی حکومت نے 1992 میں قومی کمیشن برائے اقلیت ( این سی ایم ) قائم کیا تھا۔ملک کے گزٹ میں چھ مذہبی طبقات مسلمان، عیسائی، سکھ ، بدھ مت، پارسی اور جین کو مائنارٹیز کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا تھا ۔ ان اقلیتوں کے بارے میں ہمیں سبھاش چندر بوس کی کہی ہوئی ان باتوں کا خیال رکھنا چاہئے کہ’’ ملک کی اکثریت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اقلیتوں کی مذہبی و دیگر آزادی کا خیال رکھے‘‘۔ لیکن اس وقت ملک میں جو صورت حال ہے اس پر دانشوران کو بڑی تشویش ہے۔ ہمارا ملک ہندوستان جو دنیا کا سب سے عظیم جمہوری ملک ہے ،اس کا دستور اپنے ہر شہری کو مذہبی آزادی اور تمام طبقات کو یکساں حقوق و مواقع کی ضمانت فراہم کر تاہے ۔مگر افسوس کچھ جمہوریت مخالف عناصر ملک کے امن کو برباد کرنے اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے والا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے ذات پات کے نام پر تشدد اور اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔ملک کی اس صورت حال پر سماجی تجزیہ نگاروں، سیاسی دانشوروں اور قومی و بین الاقوامی مبصرین مسلسل تشویش کا اظہار کرتے آرہے ہیں۔ ملک میں ذات برادری کے نام پر جو تقسیم ہورہی ہے ، یہ کوئی زمین و جائیداد کی تقسیم نہیں ہے۔ اگر جائیداد کی تقسیم ہو تو کسی بڑے خسارے کی بات نہیں ہے لیکن موجودہ وقت میںدلوں کو بانٹا جارہا ہے اور جب دل بٹ جاتے ہیں تو اس کا نقصان ملک کو ہوتا ہے۔ ہمیں ملک کو نقصان سے بچانے کا عہد کرنا ہوگا۔

ہم پچھتر سالوں سے جشن آزادی مناتے آرہے ہیں۔ان سالوں میں ہم نے بہت کچھ سیکھا اور حاصل کیا ہے۔ ترقی کی دوڑ میں بھی ہماری حصہ داری خاطر خواہ رہی ہے۔ترقی کرنے میں ہماری حصہ داری اور بھی زیادہ ہوسکتی تھی مگر ذات برادری کے تنازع نے ہماری رفتار کو سست کردیا۔اسے رفتار دینے کے لئے قانون کی بالادستی اور محرومین کو ان کا حق دینا ہوگا۔ یوم آزادی ہر سال آتا ہے اور ہم اس کا جشن پورے ذوق و شوق سے مناتے ہیں ۔مگر جشن منانے کے بعد غالباً اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ اگر ملک میں قانون کی بالادستی اور جمہوریت محفوظ ہے تو پھر جشن آزادی منانا باعث مسرت ہے اور اگر قانون کی بالا دستی خطرہ میں ہے تو یہ ایک مذاق کی طرح ہے ۔یاد رکھیں اکابرین کو یاد رکھنے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ان کی قربانیوں کے مقصد کو زندہ رکھنا ہے ۔ ہمارے اکابرین نے جو قربانیاں دیں ، ان کا حق اس طرح ادا ہوگا کہ قانون کی بالادستی ہو اور مستحقین کو ان کا حق ملے۔سب کے ساتھ انصاف ہو اور عدل و مساوات کی حکمرانی ہو ۔ ملک کی آزادی کے بعد 74 سال مکمل ہوگئے ہیں اور 75واں سال شروع ہوا ہے۔ حکومت نے پورے ایک سال یعنی 15 اگست 2022 تک اسے ایک جشن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ایک سال کے دوران ہم سب کو اس صورت حال پر سنجیدگی سے غور کرنااور جائزہ لینا چاہئے اور جو ہماری کمزوریاں رہی ہیں ان کو درست کرنے کے لئے ضروری اقدام کرنا چاہئے۔

( مضمون نگار جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ہیں )