عائشہ کی خودکشی اور بے حس معاشرہ

معصوم مرادآبادی

 

جہیز کی قربان گاہ پر ایک اور دوشیزہ نے اپنی جان ہار دی ہے۔ اس بار کسی نے اسے زندہ نہیں جلایا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے ندی میں چھلانگ لگاکر جان دے دی۔ خود کو پانی کی خطرناک لہروں کے حوالے کرنے سے قبل اس نے ایک ایسا جذباتی ویڈیوضرور بنایا جو اس وقت سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مرغوب ہے۔ اس کے ساتھ ہی عائشہ کی اس سنسنی خیز گفتگو کا آڈیو بھی گردش کررہا ہے جو خودکشی کرنے سے قبل اس نے اپنے والد سے کی تھی۔ عائشہ کے والد نے اپنی بیٹی کو اس بزدلانہ عمل سے باز رکھنے کی ہر ممکن کو شش کی۔ اسے قرآن اور حضرت عائشہ کے مبارک نام کا بھی واسطہ دیا لیکن وہ اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرچکی تھی، جسے اس نے عملی جامہ پہنایا۔عائشہ کی شادی 2018 میں جالور(راجستھان)کے عارف خان سے ہوئی تھی،جو بنیادی طور پر ایک لالچی شوہر تھا۔ شادی کے بعدبھی وہ جہیز کا مطالبہ کرتا رہا۔ جب ا س کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو وہ عائشہ کو اس کے گھر چھوڑ گیا۔گزشتہ ایک سال سے عائشہ اپنے والدین کے گھر رہ رہی تھی اور اس کی شدید خواہش تھی کہ عارف اس کو اپنے گھرلے جائے۔ وہ اس سے محبت کرتی تھی لیکن سنگ دل عارف نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ یہاں تک کہ عائشہ نے جب اسے فون کرکے خودکشی کے بارے میں بتایا تو اس نے کچھ کرنے کی بجائے یہ کہا کہ خودکشی کی ایک ویڈیو بناکر بھیج دینا۔ عائشہ نے ایسا ہی کیااور خودکشی سے پہلے بنائی گئی اس کی ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا کا سب سے بڑا موضوع ہے جسے اب تک کروڑوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔خودکشی کرنے سے قبل عائشہ نے اپنے بے وفا اور لالچی شوہر سے 72منٹ بات کی تھی۔

عائشہ جہیز کی قربان گاہ پر جان دینے والی کوئی پہلی لڑکی نہیں ہے۔ اس سے پہلے ہزاروں لڑکیاں اس آگ میں جل کر خاک ہوچکی ہیں اور آگے بھی ہوتی رہیں گی۔ عائشہ کی خودکشی پر زیادہ بحث اس لیے ہورہی ہے کہ وہ مسلمان تھی اور اسلام میں خودکشی کو حرام قرار دیا گیاہے۔کچھ لوگوں نے خودکشی کے اس درد ناک واقعہ کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنے کی کوشش بھی کی ہے۔اس معاملے میں مسلمانوں کی مذہبی قیادت اور خاص طور پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بھی نشانے پر لیا گیا ہے۔گودی میڈیا کا ایک حصہ بھی اس واقعہ کی آڑ میں مسلمانوں کواس انداز میں نشانہ بنانے کی کوشش کررہا ہے جیسا کہ جہیز کے لیے ہراسانی کے معاملات صرف مسلمانوں میں ہوتے ہیں اور وہی اس کے سب سے بڑے مجرم ہیں۔حالانکہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ جہیز پورے معاشرے کا ناسور ہے جس میں بلا تفریق مذہب وملت سبھی لوگ مجرم ہیں۔ہمارے پورے سماج میں بیٹیاں ا س ظلم وبربریت کا مسلسل شکار ہورہی ہیں۔جہیز کی قربان گاہ پرروزانہ کئی لڑکیاں اپنی جان قربان کرتی ہیں اور ہم سب پوری بے حسی کے ساتھ ان خبروں کو پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

خواتین کے ساتھ سلوک کے معاملے میں ہمارا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ورلڈ بینک نے حال ہی میں عالمی سطح پر خواتین کی بدحالی سے متعلق جو رپورٹ جاری کی ہے، اس میں ہندوستان 123ویں مقام پر ہے۔دنیا میں صرف دس ممالک ایسے ہیں جو خواتین کو مکمل یکساں حقوق اور پورا قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ ہندوستان سمیت 180ممالک ایسے ہیں جو خواتین کو برابری کے حقوق ادا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ ورلڈ بینک کی خواتین، کاروبار اور قانون 2021کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ190ملکوں کی فہرست میں بلجیم، فرانس، ڈنمارک، لاتویا، لگژمبرگ،سوئیڈن، آئس لینڈ، کناڈا، پرتگال اور آئرلینڈ ایسے ممالک ہیں جو خواتین کو احتجاج اور بولنے کی آزادی کے ساتھ یکساں کام، یکساں تنخواہوں کا حق دیتے ہیں، اس کے ساتھ ہی شادی کرنے، بچے پیدا کرنے اور کاروبار چننے تک کا حق دیتے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان ملکوں میں ہندوستان123 ویں مقام پر ہے جبکہ اس معاملے میں اسلامی ملک ترکی (78)اور سعودی عرب(94)بھی ہم سے آگے ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جن اسلامی ملکوں کو ہم دقیانوسی سوچ کے لیے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں،وہ خواتین کے حقوق اور عزت واحترام کے معاملے میں ہم سے آگے ہیں۔

جہیز کے لیے جان دینے اور لینے والی خبریں ہمیں اس لیے بے چین نہیں کرتیں کہ اب یہ سب کچھ معمول کا حصہ بن چکا ہے۔جہیز کا جبر ایسا ہے کہ غریب سے غریب آدمی بھی اپنی بیٹی کو سب کچھ دینے پر مجبورہے اور کئی لوگ اسی کوشش میں تمام بھی ہوجاتے ہیں۔اس میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ سبھی قسم کے لوگ شامل ہیں۔ عام طور پر ایسی جگہوں پرہی رشتے طے کئے جاتے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ ”مال“ ملنے کی امید ہو۔لڑکی خواہ کیسی ہی ہو مگر جہیز بھرپور ملنا چاہئے۔ اسی ہوس کا نتیجہ ہے کہ غریب گھرانوں کی ہنرمند اور سلیقہ شعار لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں عمر گزاردیتی ہیں۔جہیز اور خوبصورتی کا ایسا طلسم ہے کہ خوب سیرت لڑکیوں کے دروازوں پر لوگ دستک ہی نہیں دینا چاہتے۔انھیں صرف خوبصورت اور دولت مند گھرانوں کی ہی لڑکیاں چاہئیں۔اس مضمون کو فریاد آزر نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے۔

ہاتھ ملتی رہ گئیں سب خوب سیرت لڑکیاں

خوبصورت لڑکیوں کے ہاتھ پیلے ہوگئے

جہیز کی ہراسانی سے عاجز آکر احمدآباد کی مشہور سابرمتی ندی میں کود کر جان دینے والی 23 سال کی عائشہ بانو مکرانی ایک تعلیم یافتہ لڑکی تھی اور پرائیویٹ بینک میں ملازمت کرتی تھی۔ اس کی شادی 6 جولائی 2018 کوجالور(راجستھان) کے باشندے عارف خان سے ہوئی تھی۔ عارف پرائیویٹ مائننگ کے شعبے میں سپروائزرکے عہدے پرفائز تھا۔ عارف جہیز کے لیے عائشہ کو مسلسل ہراساں کررہا تھا۔ عائشہ گزشتہ ایک سال سے اپنے والدین کے گھرمجبوری میں رہ ضرور رہی تھی مگر وہ اپنی سسرال جانے کے لیے بے چین تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ عارف سے بے پناہ محبت کرتی تھی، لیکن اسے اس بات کا اندازہ قطعی نہیں تھا کہ عارف کو اس سے نہیں بلکہ پیسوں سے محبت ہے۔عائشہ کی خودکشی کے بعد عارف اپنے گھر سے فرار ہوکر روپوش ہوگیا تھا، لیکن احمدآباد پولیس نے راجستھان کے پالی ضلع سے اسے گرفتار کرلیا ہے اور اس کے خلاف خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ درج ہواہے۔سابرمتی میں چھلانگ لگانے سے قبل عائشہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں یہ کہا  تھاکہ وہ ”عارف کو آزاد کررہی ہے۔“ مگر عارف کا المیہ یہ ہے کہ وہ اس کے بعد گرفتار ہوگیا ہے اور اسے قاتلوں کی طرح ہتھکڑیاں پہناکر پالی سے احمدآباد لایا گیا ہے۔اب شاید ہی اسے کبھی آزادی نصیب ہو۔اس کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ306 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

عائشہ کے والد لیاقت علی خان مکرانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے گزشتہ26 جنوری 2020کو عارف کو بطور جہیز ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کیے تھے۔اس سے قبل2019میں جب عائشہ نے اپنے والدین کو بتایا کہ اسے جہیز کے لیے گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے تو عارف اور اس کے گھر والوں کے خلاف گھریلو تشدد کامقدمہ درج کرایا گیا تھا۔تب سے ہی دونوں خاندانوں میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔عائشہ چاہتی تھی کہ یہ مقدمہ واپس ہوجائے اور وہ اپنے شوہر کے پاس چلی جائے، لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا اور اس نے عاجز آکر اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ عائشہ نے اپنی ویڈیو میں معاشرے کو جھنجھوڑنے والی بہت سی باتیں کہی ہیں اور خدا سے دعا مانگی ہے کہ وہ اب کبھی اسے انسانوں کی شکل نہ دکھائے۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہم ایک ایسے ظالم اور ہوس پرست معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انسان ہونا ایک کلنک بنتا جارہا ہے۔انسان اس کائنات کی سب سے اشرف مخلوق ہے، لیکن ہوس اور دولت کے لالچ نے اسے وحشی بنادیا ہے۔ جو لوگ جہیز کے لیے بہوؤں کی زندگیاں جہنم بناتے ہیں، ان کی مثال وحشی درندوں سے دی جاسکتی ہے۔ حالانکہ اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے سخت قوانین بنا ئے گئے ہیں اور آئے دن وحشی درندوں کو عبرت ناک سزائیں بھی ہوتی ہیں، لیکن جہیز ہمارے معاشرے کے لیے ایک عذاب جاریہ کی شکل اختیار کرچکا ہے۔عائشہ کے معاملے میں مسلمانوں پر اس لیے بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں کہ ان کا مذہب جہیز اور بیٹیوں کی ہراسانی کو بدترین جرم تصور کرتا ہے۔اسلام نے اس معاملے میں جو بندشیں عائد کی ہیں اور نکاح کو جتنا آسان بنایا ہے، اس کو ہوس کے پجاریوں نے اتنا ہی مشکل بنادیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غریب گھرانوں کی لاتعدادسلیقہ مند اور وفا شعار بیٹیاں رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہورہی ہیں۔وہ بیٹیاں جنھیں گھروں کی رونق بناکر بھیجا گیا ہے، اپنے والدین پر ناقابل برداشت بوجھ بن کر رہ گئی ہیں اور عائشہ کے انداز میں اپنی زندگیاں تمام کررہی ہیں۔کیا جہیز کا ناسور مٹانے کی تدبیر کسی کے پاس ہے۔ اگر ہم یونہی بے حسی کی چادر اوڑھ کر سوتے رہے تو عائشہ جیسے مزید واقعات رونما ہوں گے اور بیٹیاں باپ کی ذمہ داریوں سے اسی انداز میں عہدہ برا ہوں گی۔

یہ کہہ کر خودکشی کرلی اک مفلس کی بیٹی نے

لو میرے ابّو اب تمہاری ذمہ داری ختم ہوتی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*