آٹھویں امیرِ شریعت کا انتخاب:چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی! – نایاب حسن

امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ساتویں امیر مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ کے انتقال کے بعد آٹھویں امیر کی تلاش و جستجو کا مرحلہ ابتدا میں پیش قیاسیوں سے ہوتے ہوئے لابنگ،تائید و مخالفت اور اب سب و شتم کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور دلچسپ؛بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سارا عمل علما کے طبقے کی جانب سے ظہور پذیر ہورہا ہے،جن کی دینی سیادت اور دنیاوی وجاہت مسلم بتائی جاتی ہے۔ امیر شریعت کے عہدے کے لیے ایسی رسہ کشی ہورہی ہے،گویا یہ کوئی بہت ہی بااثر اور تمام مسلمانانِ بہار پر اثر انداز ہونے والا عہدہ ہو،حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے صرف دیوبندی، غیر جمعیتی مسلمانوں کی نمایندگی کرتا ہے اور وہ کتنے ہوں گے اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ پھر اس کا دائرۂ کار اتنا وسیع بھی نہیں ہے کہ پورے بہارمیں اس کی موجودگی محسوس کی جاتی ہو۔ اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا کہ جس طرح ملک کے دوسرے ملی ادارے اور تنظیمیں اپنے اپنے وسائل و ذرائع کے مطابق مختلف رفاہی،تعلیمی و سماجی میدانوں میں کام کررہی ہیں،اسی طرح بہار کا یہ ادارہ بھی مسلمانوں کے ایک طبقے میں سرگرم ہے،خصوصاً اس کا دارالقضا کا نظام خاصا کامیاب ہے،جس کی وجہ سے بہت سے مسلمان اپنے خانگی،عائلی مسائل اور ترکہ ووراثت سے متعلق معاملات میں سرکاری کورٹ کچہریوں کے چکر لگانے سے بچ جاتے ہیں اور امارت کے زیر اہتمام چلنے والے دارالقضا میں ان کے مسائل کا تصفیہ آسانی سے،کم وقت اور تقریباً مفت میں ہوجاتا ہے۔ ہندوستان کے موجودہ ماحول میں امارت شرعیہ کا یہ ایک کردار بھی بہت اہم ہے،حالاں کہ اس کے علاوہ رفاہ و خدمت کے شعبے میں بھی اس کی سرگرمیاں رہی ہیں،امارت کے زیر اہتمام دینی و عصری اور تکنیکی تعلیم کے ادارے بھی چلتے ہیں،جن سے ظاہر ہے زیادہ تر مسلم بچے ہی مستفید ہورہے ہیں اور اس طرح امارت شرعیہ مسلمانوں کی تعلیمی شرح بہتر کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔
اس ادارے کا یہ کردار برقرار رہے اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید بہتری،استحکام اور پائیداری ہو،یہ خواہش امارت سے کسی بھی طورپر وابستگی رکھنے والے؛بلکہ مسلمانوں کے تئیں فکر مند ہر شخص کی ہونی چاہیے اور ہوگی بھی،مگر ابھی جو نئے امیر شریعت کے انتخاب کے حوالے سے ہنگامہ آرائی اور سوشل میڈیا سے لے کر زمینی سطح پر آپا دھاپی ہورہی ہے،اس سے نہ صرف امارت شرعیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے؛بلکہ اس سے وابستہ مرکزی اشخاص کی شبیہ بھی بتدریج مشتبہ و داغدار ہورہی ہے۔ امارت شرعیہ کے قیام کو سوسال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے اور اس کا اپنا نظامِ کار اور نئے امیر کے انتخاب کا ایک اصول،ضابطہ اور دستور ہے،مگر نائب امیر شریعت مولانا شمشاد رحمانی کے اقدامات اور انتخابِ امیر کے سلسلے میں طے کردہ پراسیس پر امارت سے وابستہ افراد میں بے اطمینانی پائی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر شوری اور اربابِ حل و عقد سے وابستہ متعدد لوگوں کے تحریری بیانات میری نظر سے گزرے ہیں،جنھوں نے مولانا رحمانی کے اختیار کردہ طریقۂ انتخاب پر تحفظ کا اظہار کیا ہے،حتی کہ ندوۃ العلما کے موقر استاذ مولانا عتیق احمد بستوی (جو بہار سے باہر کے ہیں،مگر ملک کے کبارِ علما میں سے ایک ہیں) نے بھی اس طریقۂ کار سے اختلاف کیا ہے،دو تین دن قبل مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا بیان بھی بہ وضاحت اس سلسلے میں آچکا ہے،جس کی تردید امارت کے آفس سکریٹری مولانا ارشد رحمانی نے کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نائب امیر شریعت نے جو انتخابی طریقۂ کار وضع کیا ہے،وہ شرعی اور دستوری اعتبار سے درست اور ’’اپنے آپ میں نظام امارت کا ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔
دراصل ایک طبقہ ہے جس کا ذہنی جھکاؤ مولاناسید محمد ولی رحمانیؒ کے صاحبزادے احمد ولی فیصل رحمانی کو نیا امیر شریعت بنائے جانے کی طرف ہے اور خود امارت شرعیہ کے بعض ارکان اور نائب امیر شریعت کے بارے میں بھی یہی خیال کیا جاتا ہے،لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو گیارہ رکنی سب کمیٹی انتخاب کے لیے بنائی ہے اور جو مراکزِ انتخاب بنائے گئے ہیں ،اس سب کا مقصد انھی کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی مدد جامعہ رحمانی اور خانقاہ رحمانی سے وابستگان اور مریدین پورے شد و مد کے ساتھ کررہے ہیں۔ ایک طبقہ ہے جو مولانا انیس الرحمن قاسمی کے لیے کام کررہا ہے۔ کچھ لوگ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو امیر بنانے کے لیے بھی پر جوش ہیں اور خود ای ٹی وی بھارت کے حوالے سے مولانا کا بیان بھی کل آہی چکا ہے کہ اگر اتفاقِ رائے سے مجھے امیر شریعت بنایا گیا تو اکابر کی وراثت کی حفاظت کے لیے میں تیار ہوں۔
ایک طبقہ امارت کے حقیقی ہمدردوں اور بہی خواہوں کا بھی ہے،جس کا کسی گروپ ،کسی شخصیت سے کوئی تعلق نہیں، جو بس یہ چاہتا ہے کہ انتخابِ امیر کے سلسلے میں امارت کے وضع کردہ دستور کی پابندی کی جائے اور اس عہدے پر ایسے شخص کو فائز کیا جائے جو اس کی تمام شرطوں پر کھرا اترتا ہو اور جس سے امارت اور بہار کے مسلمانوں کا واقعی بھلا ہوسکتا ہو۔ یہ لوگ جانتے ہیں کہ امارت شرعیہ مسلمانوں کے حق میں مفید رہی ہے اور اس نے بہاری مسلمانوں کی دینی رہنمائی،رفاہ و فلاح اور فروغِ تعلیم و صحت کے شعبوں میں قابلِ قدر کام کیا ہے اور موجودہ حالات میں اس کے اس کردار کی بقا از حد ضروری ہے،اسی لیے امارت شرعیہ کو شرپسند ،تخریب کار،موقع پرست و ابن الوقت قسم کے عناصر سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ باہر سے اگر ایسے لوگ امارت میں سیندھ لگانے کی کوشش کررہے ہیں،تو ان پر روک لگانے کی تدبیریں کی جائیں اور اگر اندر کے کچھ لوگ ادارے کی بجاے کسی خاص شخص کے مفادات و مطلب برآری کے لیے سرگرم ہیں،تو ان کی بھی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ موجودہ وقت میں امیر شریعت کا معنی و مفہوم جو بھی ہو اور اس کا دائرۂ اثر و کار جہاں تک بھی ہو،مگر بنیادی طورپر اس عہدے پر فائز ہونے والے شخص کا مطلوبہ علمی و عملی معیار پر پورا اترنا ضروری ہے،اس کے علاوہ ایک اہم چیز یہ بھی ملحوظ ہونی چاہیے کہ وہ امارت،اس کی تاریخ اور اس کے مزاج و نہاد سے گہری وابستگی اور اس کے طریقۂ کار سے کامل آگاہی رکھتا ہو۔
آزاد ہندوستان کی ملی و تنظیمی تاریخ میں آپسی رسہ کشی اور اکھاڑ پچھاڑ کی نہایت شرمناک روایت رہی ہے۔ کئی مرکزی دینی تعلیمی ادارے دولخت ہوئے اور متعدد ملی و دینی تنظیموں کا شیرازہ منتشر ہوا ہے اور یہ سب کرنے والے اصحابِ جبہ و دستار اور بزعمِ خویش ’’وارثینِ انبیا‘‘ رہے ہیں۔ علما اور مذہبی شخصیات پر سے مسلم عوام کا اعتماد جو مسلسل اٹھتا جارہا ہے،اس میں ہمارے علماے کرام اور عمائدینِ دین و شریعت کی اسی قسم کی’’غیر شرعی‘‘ سرگرمیوں کا دخل رہا ہے۔ رہا سہا بھروسہ بھی اگر اٹھ گیا،تو اس کا مجموعی نقصان شدید ہوگا اور اس کی ذمے داری یقیناً ہمارے مذہبی سربراہوں اور ان کی کج فہمی پر ہوگی۔ ابھی امیر شریعت کے انتخاب کے نام پر جس قسم کی ہنگامہ آرائی،ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی، سب و شتم اور گالم گلوچ کا ماحول برپا ہے،وہ یقیناً افسوسناک؛بلکہ شرمناک ہے۔ آج کے عوام بھولے نہیں ہیں،معلومات اور وسائلِ اطلاعات کے سیلِ رواں میں آپ کا کوئی قدم،کوئی سی حرکت،خفیہ سے خفیہ میٹنگ یا دستخطی مہم،فون پر کی جانے والی بات یا بند کمرے میں کی جانے والی جوڑ توڑ چھپی نہیں رہ سکتی،منٹوں سکنڈوں میں انٹرنیٹ کے دوش پر اڑتے ہوئے چاروں سمت پھیل جاتی ہے،لوگ سب کچھ دیکھ رہے اور نوٹ کررہے ہیں،دین کے نام پر بے دینی پھیلانا اور جاہ و منصب اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے شرعی دلائل کا سہارا لینا نہایت مذموم حرکت ہے اور ایسی حرکت کرنے والا ہر شخص مردود ہے،چاہے وہ کوئی بھی ہو اور کتنا ہی بڑا منصب دار ہو۔

  • عامر مظھری
    27 جولائی, 2021 at 19:35

    عمدہ

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*