آسیہ خاتون : ایک گم نام مجاہدۂ آزادی ۔ ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

جوں ہی مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی نے میوات کی کسی گم نام مجاہدۂ آزادی پر ایک کتاب لکھی ہے ، میں نے فوراً انہیں میسیج کیا : ” آپ نے مجھے کتاب کیوں نہیں دی ؟ فوراً بھیجیے۔” تھوڑی دیر میں کتاب میری میز پر تھی۔

ڈاکٹر تجاروی میرے دوستوں میں سے ہیں۔ ان سے میرا یارانہ چار دہائیوں پرانا ہے ۔ وہ ان دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ بہت سی وقیع کتابیں تصنیف کرچکے ہیں اور کئی کتابوں کا ترجمہ بھی کیا ہے ۔ غالب پر اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں۔ مجھے اپنا استاد کہتے ہیں ۔ ایسا عالم و فاضل شخص کسی کو استاد کہے تو اس کی قدر و منزلت بڑھ جاتی ہے _ میوات کے رہنے والے ہیں _ انہیں میوات کا انسائیکلوپیڈیا کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ اس لیے کہ انھوں نے اس علاقے کی مبسوط تاریخ لکھی ہے ، وہاں کے شعراء کا غیر تحریری کلام جمع کیا ہے۔ اور بھی بہت سے خزانے ان کے پاس ہیں۔ اب یہ جان کر خوشی ہوئی کہ انھوں نے ایک مسلم خاتون کو گم نامی کے پردوں سے نکالا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کی جدّوجہد کرنے والوں میں مسلم خواتین کا تذکرہ یوں بھی بہت کم ہوا ہے۔ انھوں نے اس فہرست میں ایک قیمتی اضافہ کیا ہے۔

محترمہ آسیہ خاتون عرف اماں بی میوات کی ایک حوصلہ مند اور بہادر خاتون تھیں۔ انھوں نے آزادی کی جدّوجہد میں اپنے شوہر حضرت مولانا محمد ابراہیم خاں الوری کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ جب ان کے شوہر کو گرفتار کیا، پھر جیل میں ان پر بہت زیادہ تشدّد کیا گیا تو انہوں نے ان کا بہت حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ کسی بھی صورت میں معافی نہ مانگنا۔ بی اماں نے آزادی کے بعد بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔

اس کتاب میں ڈاکٹر تجاروی نے جنگ آزادی میں اہل میوات کی شرکت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میوات کی خواتین نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ انھوں نے متعدد خواتین کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے بعد آسیہ خاتون کا ذکرِ خیر تفصیل سے کیا ہے۔ بچپن سے وفات تک ان کے حالات بیان کیے ہیں اور تحریک آزادی کے دوران اور ملک آزاد ہونے کے بعد ان کی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ معلومات انھوں نے مرحومہ کی اولاد سے براہ راست حاصل کی ہیں ۔ انھوں نے بی اماں سے اپنی ملاقات کا احوال بھی بیان کیا ہے۔ بی اماں کا انتقال 5 جنوری 1996 کو 78 برس کی عمر میں ہوا تھا۔

ملک کی تحریکِ آزادی میں مسلم خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ، لیکن افسوس کہ تحریک آزادی پر لکھی جانے والی کتابوں میں ان کا تذکرہ بہت کم اور سرسری ہے۔ ان پر ایک بڑے پروجکٹ کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
نام کتاب : آسیہ خاتون میواتی : جنگ آزادی کی گم نام مجاہدہ
مصنف : ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی
ناشر : انیس انٹرپرائزز، لال کنواں ، دہلی
صفحات :64 ، قیمت : 80 روپے
مصنف کا رابطہ نمبر
+91 – 99107 02673