آسمانِ مزاح کا روشن ستارہ: ڈاکٹر رضیؔ امروہوی-سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی

اردو ادب میں مزاحیہ شاعری کی ایک الگ شان و شوکت ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا سکتا یہ ایک ایسا مشکل فن ہے جس کی راہ میں قدم قدم پر سنگلاخ وادیاں آتی ہیں ۔نہ اس کے تقاضوں کو برتنا آسان ہے اور نہ اس کی تفہیم آسان ہے۔کیونکہ یہ محض حظ حاصل کرنے یا کسی نکتے پر قہقہ لگانے کا عمل نہیں بلکہ یہ وہ فن ہے جس کے لیے خونِ دل کی روشنائی اور فکرکے قلم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے سے جو تحریر ہوتا ہے وہ بظاہر پھولوں کا گلدستہ بن کر قاری کے سامنے رونما ہوتا ہے لیکن یہ قاری کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ اس گلدستے کے گلابوں کی ہر پنکھڑی میں شاعر کے جذبات و خیالات اور تجربات کا عطرکس طرح شامل ہوا ہے۔
اردو ادب میں ہر دور میں مزاحیہ شاعری نظر آتی ہے لیکن اس میں سے زیاد تر شاعری مزاح کے تقاضوں پر کھری نہیں اترتی۔کیونکہ پھکڑ پن،فحش نگاری یا محض تک بندی کا فعل مزاح نگاری نہیں۔اس کا حق تو وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کا ذہن سنجیدہ ،فکر بالیدہ،تخیل آسودہ،نگاہ فہمیدہ اور مزاج تابندہ ہوتا ہے۔اگر اس میں سے کسی ایک شئے کی بھی کمی ہو تو مزاح نگار فنی کمال حاصل کرنے میں قاصر رہتا ہے۔
دورِ حاضر میں ڈاکٹر رضیؔ امروہوی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے یہاں مذکورہ تمام عناصر یک جا ہوگئے ہیں۔ان کی شخصیت کی بات کی جائے تو ان کا ذہن سنجیدگی سے گرد و پیش کا جائزہ لیتا ہے۔یعنی جو کچھ وہ معاشرے میں دیکھتے ہیں اس کا بغور مطالعہ کرتے ہیں اور اس کا مشاہدہ کرنے کے بعد تجرباتی کیفیت سے مملو ہوکراس کو مزاحیہ شاعری میں ڈھال دیتے ہیں۔ان کی فکر رسا اس قدر بالیدہ ہے کہ وہ باریک باریک چیزوں کو بھی بڑ اکرکے دیکھتے ہیں اور اس میں سے مزاحیہ شاعری کے پہلو اجاگر کرتے ہیں۔ان کا تخیل اس قدر آسودہ ہے کہ وہ پل میں اپنے اطراف میں ہونے والے واقعات سے متاثر ہوکر مزاحیہ شاعری سے دل کی تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ان کی نگاہ اس قدر فہم و ادراک سے لبریز ہے کہ دور کی چیز بھی انھیں قریب محسوس ہوتی ہے گویا کہ وہ دور کی کوڑی لانے میں ماہر ہیں۔ان کا مزاج اس قدر پر نور اور تابندگی سے ہم آہنگ ہے کہ جو ان سے ملتا ہے وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اس مختصر سے مضمون کا مقصد یہ ہے کہ ان کی شاعری کا بغور مطالعہ کیا جائے۔
ڈاکٹر رضیؔ امروہوی کے مزاحیہ رنگوں کو جمع کیا جائے اور ان کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات پورے وثوق سے کہیں کہی جا سکتی ہے کہ اس میں کسی کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا نہ وہ کسی کو برا لگتا ہے اور نہ کسی کو تکلیف پہنچاتا ہے بلکہ اس کا انداز اتنا ہر دل عزیز ہوتا ہے کہ اس سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔مثلاً:
لوگ کہتے ہیں کہ اک آنکھ سے بے نور ہے وہ
مجھ کو تو لگتی ہے وہ حور تمہیں کیا معلوم
اس شعر میں جس طرح ایک نقص کوخوبصورتی کا جامہ پہنا کر پیش کیا گیا ہے وہ تعریف کا استحقاق رکھتا ہے۔اس ایک شعر سے ہی ان کے شاعرانہ رجحان کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ان کی شاعری کاخاصہ یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں جہاں صنف نازک کا ذکر مختلف انداز میں ملتاہے وہیں یہ دیکھنے کو بھی ملتا ہے کہ ان کی بیوی نے ان کی شاعری میں ان کی محبوبہ کی صورت اختیار کر لی ہے اور وہ اپنی اس محبوبہ یعنی بیوی کو طرح طرح سے اپنی شاعری میں خطاب کرتے ہیں اور اس سے چھیڑ چھاڑ بھی کرتے ہیںمثلاً:
جو لے کے آتا ہے بیوی جوان سردی میں
وہ ڈالتا ہے مصیبت میں جان سردی میں

بیوی میکے جا رہی ہے آج شب کھانے کے بعد
بی پڑوسن زندہ باد اس کے چلے جانے کے بعد

چند سالوں میں اسے بیوی نے پاگل کر دیا
بے تحاشہ دوڑتا ہے کاٹ کھانے کے لئے
مندرجہ بالا اشعار میں بیوی کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے یا جس طرح اس سے مزاح کیا گیا ہے وہ قابل غور ہے کیونکہ سچا اور اچھا شاعر وہی ہوتا ہے جو انسانی نفسیات اور گرد و پیش کے حالات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اپنی شاعری کے جوہر نمایاں کرتا ہے۔ان اشعار کو مزید واضح کرنے کی ضرورت نہیں لیکن اتنا کہہ کر آگے بڑھا جا سکتا ہے کہ پہلا شعر ازدواجی زندگی کے آغاز کا عکاس ہے دوسرا شعر اس کی پختگی کی دلیل ہے اور تیسرا شعر بھر پور مزاح سے لبریز نظر آتا ہے اور اس وقت کی عکاسی کرتا ہے جب ازدواجی زندگی کا منفی پہلو نمودار ہوتا ہے۔اسی طرح ایک جگہ کہتے ہیں:
ٹھوک کر سینہ کہا کرتی ہے بیگم مجھ سے
اے نگوڑے ترے گھر سے مرا جوتا جائے
ڈاکٹر رضیؔ صاحب کا ایک ہنر یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں محاوروں کا بہترین استعمال نظر آتا ہے۔محاوروں کو شاعری میں استعمال کرنا سہل نہیں لیکن موصوف یہ بھی کمال کر دکھاتے ہیں۔کہتے ہیں:
بوسے کو جب کہا تو تو یہ بولے جواب میں
بلی کو چھیچھڑے نظر آتے ہیں خواب میں

کیا تبصرہ ہو اپنی جوانی کے باب میں
ملا کی ڈاڑھی بٹ گئی ساری ثواب میں
انھیں نہ صرف محاوروں کا استعمال بخوبی آتا ہے بلکہ وہ علامتوں اور استعاروںسے بھی کام لینے کا ہنر جانتے ہیں:
تو دل کی چھت پہ محبت کی بیل لگوا لے
جو ٹھنڈا رکھنا ہے تجھ کو مکان گرمی میں
مندرجہ بالا شعر میں جہاں ہلکے پھلکے مزاح سے قاری کے لبوں پرمسکراہٹ نموادار ہوتی ہے وہیں اہلِ نقد و نظر شعر کا استعاراتی اور علامتی نظام دیکھ کر داد و تحسین دئیے بغیر نہیں رہ سکتے۔دل کی چھت،محبت کی بیل،مکان کا ٹھنڈا رکھنا یہ الفاظ جہاں شباب و وصال کے خواہاں کے مطالبے کی طرف اشارہ کرتے ہیں وہیں اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر رضیؔ امرہوی جدید لب و لہجے کی شاعری کے رنگ سے بھی خوب واقف ہیں۔ اسی طرح ایک اور جگہ خالص علامتی انداز میں گفتگو کرتے ہیں:
زندگی کا لطف لینا ہے اگر
ڈھونڈ لو اک چھپکلی برسات میں
چھپکلی کی علامت مزاحیہ شاعری میں آسان نہیں ۔عموماً مزاحیہ شاعری میں کسی لفظ کو علامت بنائے بغیرگفتگو ہوتی ہے اور اسی کو مزاح سمجھا جاتا ہے لیکن اگر سامنے کے الفاظ اور اشیاء مزاحیہ شاعری میں علامتی نظام قائم کرتی ہوں تو اس سے شاعر کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔
ان کا مزاح کہیں ہلکے انداز میں وار کرتا ہے تو کہیں اس کی ضرب قاری ہوتی ہے ۔مثلاً:
ڈھاتی ہے ستم کیا کیا زلفوں کی درازی بھی
لڑکی نظر آتا ہے سردار اندھیرے میں

یہ سوٹ پٹھانی بھی کیا خوب چلا یارو
دھوکہ ہمیں دیتی ہے شلوار اندھیرے میں
ان کا کمال یہ ہے کہ وہ یہ خوب جانتے ہیں کہ لفظوں کا استعمال کیسے کیا جاتا ہے اور کون سا لفظ کہاں مزہ دے سکتا ہے۔مذکورہ اشعار میں سردار اور شلوار کا خوبصورت اور مزاح سے پُر استعمال ڈاکٹر رضیؔ صاحب کی مہارت کی دلیل ہے۔
اچھی شاعری کا ایک کمال یہ بھی ہوتا ہے کہ اس میں اشاروں اور کنایوں سے بات کہی جاتی ہے گویا کہ کوزے میں سمندر سمیٹ دیا جاتا ہے جسے گہرائی اور گیرائی کا نام دیا گیا ہے۔یہ فن زیادہ تر سنجیدہ شاعری میں ملتا ہے لیکن ڈاکٹر رضیؔ امروہوی کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے مزاحیہ شاعری میں گہرائی و گیرائی پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے :
فائدہ کچھ نہیں بھرپور جوانی کا تری
ایک سہرے میں اگر تیرا بھلا ہو جائے
شعر کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ یہاں جس موضوع کو بیان کیا گیا ہے وہ براہِ راست نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ایک سہرے کا ذکر کیا گیا ہے جو بھرپور جوانی سے مناسبت رکھتا ہے۔یعنی شاعر کا مقصد یہ ہے کہ ایک شادی سے کسی نوجوان کا بھلا نہیں ہوسکتا۔اسی انداز کا ایک اور شعر یہاں پیش کیا جاسکتا ہے :
حسن کی سرکار میں ہوتی نہیں کوئی اپیل
پہلی ہی پیشی میں تیرا فیصلہ ہوجاۓ گا
یہاں بھی ڈاکٹر رضیؔ نے دو مصرعوں کے کوزے میں معانی و مطالب اور زمانے کی بعض حقیقتوں کو مقید کردیا ہے۔
چونکہ وہ معالج ہیں اس لیے ان کی مزاحیہ شاعری میں فن طبابت کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے ،انھوں نے متعددنظمیں اور اشعار لکھے جس میں دو مصرعوںمیں بعض امراض اور کمزوریوں کے لئے علاج کس طرح کیا جائے یہ بتایا ہے ۔مثلاً:
دودھ میں اک کچا انڈا شہد میں پینے لگو
درد ہو کیسا کمر کا سب ہوا ہو جائے گا
ساتھ ہی انھوں نے بہت سی کمزوریوں اور بیماریوں کے علاج کی ایسی ترکیبیں بھی بتائی ہیں جن سے انسان کی زندگی اور اس کے جذبات کا گہرہ رشتہ ہے۔مثلاً:
چمک آنکھوں کی بڑھانے کے لیے لازم ہے
صبح ہوتے ہی حسینوں کا نظارہ کرنا

کچھ نہ ہوگا ان سے یہ انگلش دوائیں چھوڑ دو
سب وٹامن ہیں چھپے ان کے لب و رخسار میں

دل کی بیماری سے بچنے کا یہ نسخہ ہے رضیؔ
زندگی میں آپ کی معشوق ہونا چاہئے
مندرجہ بالا اشعار میں جو مزاحیہ رنگ موجود ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ جو فن کار جس معاشرے یا جس پیشے سے منسلک ہوتا ہے اس کے فن پاروں میں اس کا رنگ ضرور نمایاں ہوتا ہے۔ڈاکٹر رضیؔ امروہوی بھی اس سے بری الذمہ نہیں انھوں نے اپنے پیشے کا اپنی مزاحیہ شاعری میں خوب رنگ نمایاں کیا ہے۔
مختصر یہ کہ ڈاکٹر رضیؔ امروہوی کی مزاحیہ شاعری انھیں اپنے ہمعصر مزاحیہ شعراء سے منفرد و ممتاز رکھتی ہے۔یہ ایسی شاعری ہے جس کو ہر باذوق انسان دلچسپی کے ساتھ سن کر محظوظ ہوسکتا ہے۔یہ شاعری مشاعروں میں بھی کامیاب ہے اور سرزمینِ قرطاس پر بھی اس کی جاذبیت کم نہیں ہوتی۔